جرمن مساجد میں جرمن زبان ہونی چاہیے ٗ اندریس شویر

جرمن مساجد میں جرمن زبان ہونی چاہیے ٗ اندریس شویر

  



برلن (این این آئی)جرمنی میں سینئر قدامت پسند سیاست دان آندریس شویر نے کہا ہے کہ جرمنی میں قائم تمام مساجد میں جرمن زبان بولی جانی چاہیے اور مسجدوں کو سعودی عرب اور ترکی سے ملنے والے چندے بند ہونے چاہئیں۔جرمن چانسلر انجیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو پارٹی کی ایک اتحادی جماعت سی ایس یو کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ پولیٹکل اسلام جرمن معاشرے میں مسلمانوں کے ضم ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ٗجرمن سیاست دان کی طرف سے یہ بیان آزادی اظہار کے بارے میں جاری بحث کے پس منظر میں سامنے آیا ۔ترکی کے صدر نے ایک جرمن طنز نگار کے بارے میں باضابطہ قانونی شکایت کی ۔صدر رجب طیب اردوغان کو ایک جرمن نشریاتی ادارے پر نشر ہونے والی فحش نظم پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔طنز و مزاح کرنے والے جرمن فنکار نے کہا کہ جو کچھ انھوں نے کہا کہ وہ جرمنی کے آزادی اظہار کے قوانین کی خلاف ورزی تھا ٗان کی نظم ترکی حکومت کی طرف سے انقرا میں جرمن سفارت خانے سے ایک جرمن چینل پر طنزیہ نغمہ نشر کیے جانے پر احتجاج کیا تھا۔ اس نغمے میں ترکی کے صدر کے آمرانہ طرز حکومت کو طنز اور تمسخر کا نشانہ بنایا گیا تھا۔جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے آندریس شویر نے کہا کہ ترکی کے صدر کا رد عمل ناقابل برداشت ہے اور جرمنی کو اپنی روشن خیال روایت کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا چاہیے ٗجرمنی میں قائم مساجد کو چندے فراہم کرنے میں ترکی کے کردار کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اسلامی قوانین کے مطابق غیر ملکی چندوں کی ممانعت ہے اور انتہا پسندانہ نظریات کو بھی فروغ نہیں دیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا جرمنی کی مساجد اور مدرسوں کو ترکی اور سعودی عرب سے ملنے والے چندے بند ہونے چاہئیں ٗ انھوں نے کہا کہ تمام آئمہ کو جرمن زبان بولنی آنی چاہیے اورہماری اقدار کی پاسداری کرنے چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ جرمن زبان کو ہر قیمت پر مساجد میں بولی جانے والی زبان چاہیے۔

مزید : عالمی منظر


loading...