سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں میں نیو سرجری کی سہولت کا فقدان ، محنت کش طبقہ دربدر

سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں میں نیو سرجری کی سہولت کا فقدان ، محنت کش طبقہ دربدر

  



 لاہور( لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت میں مزدوروں کے علاج معالجہ کے لئے قائم سوشل سیکیورٹی کے تین بڑے ہسپتالوں میں ٹراما سنٹرز کی سہولت نہ ہی نیوروسرجری کے وارڈز ۔ آرتھوپیڈکس وارڈز تو موجود ہیں لیکن مصنوعی اعضاء کی سہولت نہ ہونے سے مزدوروں کو جنرل ہسپتال اور میو ہسپتال میں کئی کئی ماہ تک دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ سوشل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی انتظامیہ مزدوروں کو علاج و معالجہ کی بنیادی سہولتیں دینے کے لئے محض ’’ خانہ پری‘‘ کرنے لگی ہے۔ ’’ پاکستان‘‘ کو سوشل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ سے ملنے والی معلومات کے مطابق نواز شریف سوشل سیکیورٹی ملتان روڈ جہاں ہر ماہ 50 سے 60 ہزار مریض جبکہ کوٹ لکھپت سوشل سیکیورٹی ہسپتال اور سوشل سیکیورٹی ہسپتال شاہدرہ میں بھی ہر ماہ 40 سے 50 ہزار مریض آتے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں ہیپا ٹائٹس ،شوگر اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا جہاں لاکھوں مزدور آتے ہیں وہاں ان ہسپتالوں میں دماغ کے مرض میں مبتلا مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجہ کے لئے نہ تو کسی قسم کے کوئی وارڈز ہیں اور نہ ہی ان ہسپتالوں میں نیوروسرجری کے مریضوں کے لئے کسی قسم کی سہولت ہے۔ نیورو سرجری کے مریضوں کو جنرل ہسپتال جبکہ مصنوعی اعضاء اور آلات لگوانے کے لئے مریضوں کو میو ہسپتال میں کئی کئی ماہ تک دھکے کھانے پڑتے ہیں ۔ اس حوالے سے سوشل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی انتظامیہ اور ڈی جی سوشل سیکیورٹی ڈاکٹر ناصر جمال پاشا کا کہنا ہے کہ نیورو سرجری وارڈز اور ٹراما سنٹرز کی سہولت واقعی نہیں ہے۔ تاہم آرتھو پیڈکس کے مریضوں کے لئے مصنوعی اعضاء میو ہسپتال سے لگوائے جاتے ہیں جس کے اخراجات سوشل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ خود برداشت کرتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...