فلسطینی بچے کے قاتل اسرائیلی فوجی کی عوامی حمایت میں اضافہ

فلسطینی بچے کے قاتل اسرائیلی فوجی کی عوامی حمایت میں اضافہ

  



مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی) اسرائیل میں حال ہی میں رائے عامہ کے تازہ جائزے کے نتائج جاری کئے گئے ہیں جس میں یہودی آباد کاروں کی اکثریت کا فلسطینی بچے عبدالفتاح الشریف کے قاتل یہودی فوجی کی حمایت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہودی آباد کاروں کی اکثریت پچھلے ماہ نہایت بے رحمی کیساتھ فلسطینی بچے کو شہید کرنے میں ملوث یہودی آباد کار کی حمایت کررہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سروے جائزے کے مطابق 60 فیصد یہودی آباد کاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی بچے کے قاتل اسرائیلی فوجی نے جو اقدام کیا ہے وہ درست ہے اور اسے ایسا ہی کرنا چاہیے تھے۔اسرائیل عبرانی اخبار’یسرائیل ھیوم‘ کے سروے کے مطابق یہودی آباد کاروں سے یہ پوچھا گیا تھا کہ ایک فلسطینی لڑکا جو پہلے ہی شدید زخمی ہے اور وہ کسی بھی طورپر یہودی فوجیوں کیلئے خطرہ نہیں بن سکتا آیا اسے گولیاں مارنا درست تھا یا نہیں تو 60 فیصد یہودیوں نے قاتل یہودی کی حمایت کی اور کہا کہ چاہے فلسطینی لڑکے کی حالت جو بھی تھی مگر فوجی نے جو کچھ کیا ہے وہ درست تھا جبکہ 10 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی ،30 فیصد نے کہا کہ فلسطینی لڑکے کے قاتل فوجی کا عدالتی ٹرائل ہونا چاہئے۔عبرانی اخبار کے مطابق سروے میں حصہ لینے والے بیشتر شرکاء جامعات کے طلباء ہیں۔ سروے میں حصہ لینے والے یہودیوں کی اکثریت نے اسرائیل کی شدت پسند مذہبی جماعتوں کی حمایت کی جبکہ صرف 23 فیصد رائے دہندگان نے معتدل سیاسی جماعتوں کی حمایت میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

سروے جائزے میں 89 فیصد یہودیوں نے اسرائیل میں زندگی گزارنے کی تائید کی جبکہ 89 فی صد ہی نے فوج میں خدمات انجام دینے کا اعلان بھی کیا۔

مزید : عالمی منظر


loading...