لاہور پولیس نے تھانہ جدود کے چکر میں نعشوں کی بے حرمتی کو معمول بنا لیا

لاہور پولیس نے تھانہ جدود کے چکر میں نعشوں کی بے حرمتی کو معمول بنا لیا

  



 لاہور(شعیب بھٹی )قوانین ہوا میں اڑا دیئے گئے۔پنجاب پولیس نے مقدمات کے اندراج میں تاخیر شیوہ بنا لیا ۔ پولیس رولز کے مطابق واقعہ کا فوری مقدمہ درج کرنا پولیس کا اولین فرض ہے۔پولیس کے لیت و لعل سے کام لینے اوربروقت مقدمہ درج نہ ہونے کی وجہ سے وقوعہ کی حقیقت تبدیل کر دی جاتی ہے۔قانون کے محافظ مظلوموں کوبروقت انصاف دینے کی بجائے مقدمہ کے اندراج کیلئے کئی کئی دنوں تک تھانوں کے چکر لگواتے ہیں جبکہ پولیس رولز کے مطابق کسی بھی واقعہ کی فوری ایف آئی آر درج ہونا لازمی ہے ،مگر پنجاب کے متعدد علاقوں میں واقع تھانوں کے علاوہ خصوصی طور پر لاہور پولیس سنگین واقعات کے مقدمات درج کرنے سے گریز کرتی ہے ۔صوبائی دارالحکومت میں ایسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتاجارہا ہے کیونکہ تھانہ کی حدود کے چکر میں شیر جوانوں نے گھنٹوں بحث و تقرار کرنا معمول کا حصہ بنا لیا ہے ،اکثر اوقات اس موقع پر پولیس مبینہ طور پر قتل ہو نے والے شخص کی نعش کوگھسیٹ کر دوسرے تھانے کی حدود میں لے جانے کی خاطرنعش کی بے حرمتی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی اور اسی وجہ سے متعددمقدمات کا بروقت درج نہ ہونے سے مقدمات خراب ہوجاتے ہیں جبکہ قانون کے مطابق کسی بھی وقوعہ کے مقدمہ میں اگر حدود کا تعین کا سامنا آبھی جائے تو قانون کہتا ہے کہ قریبی تھانے میں مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے ۔بعدازاں حدود کا تعین ہونے کے بعد مقدمہ متعلقہ تھانے کو بھجوایا جاسکتا ہے۔پولیس لاہور کے جن علاقوں میں زیادہ ترحدود کا تعین کرنے میں لگی رہتی ہے ان میں تھانہ سول لا ئن اور لٹن رو ڈ ،بادامی باغ، راوی روڈ، مزنگ ، لٹن روڈ، رنگ محل ،موچی گیٹ ، اچھر ہ ، وحدت کا لو نی ، شما لی چھاؤ نی ، غازی آ با د ، فیکٹر ی ایرا یا ،ڈ یفنس اے سمیت دیگر متعدد تھانے شامل ہیں ۔

مزید : علاقائی


loading...