مصدقہ نقول برانچ کے عملے اور وکلا میں جھگڑا ، سینٹرل ریکارڈ کی تالہ بندی ، سائل خوار

مصدقہ نقول برانچ کے عملے اور وکلا میں جھگڑا ، سینٹرل ریکارڈ کی تالہ بندی ، ...

  



لاہور(اپنے نمائندے سے ،نامہ نگار)رشوت وصولی، اختیارات کا ناجائز استعمال یا کام میں عدم دلچسپی ، ضلع کچہری میں قائم مصدقہ نقول برانچ کے سینٹر ل ریکارڈ سنٹر میں تعینات سٹاف اور وکلاء میں تصادم کے نتیجے میں ریونیو سٹاف نے سنٹرل ریکار ڈ روم کو تالے لگا دئیے عوام الناس کی کثیر تعداد کو شدید خواری کا سامنا، حکومتی خزانہ لاکھوں سے محروم، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور کے انتظامی آفیسروں نے خاموشی اختیار کر لی ۔مزید معلوم ہوا ہے کہ گزشہ روز وکلاء اور سنٹرل ریکارڈ روم میں تعینات انتصار شاہ نامی کلرک میں رجسٹریوں کی تصدیق میں تاخیر اور رشوت وصولی کے الزام کے تحت ہونے والے جھگڑے نے ضلع لاہور کی2کروڑ عوام کو عذاب میں ڈال دیا مزید معلوم ہوا ہے کہ جھگڑے کے نتیجے میں سینکڑوں کی تعداد میں مصدقہ نقول فارم اور رجسٹریوں کی نقل روک دی گئیں ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور کے تمام انتظامی افسران نے اس معاملے کو سلجھانے اور بات چیت کے ذریعے ختم کرنے کی بجائے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس سے2روز سے سنٹرل ریکارڈ روم کے باہر دوردراز سے آنے والے شہریوں کی کثیر تعداد خوار ہونے پرمجبور ہے اور اس حوالے سے تاحال کوئی کامیاب مذاکرات نہیں ہو پائے ۔دوسری جانب ریونیو سٹاف کا کہنا ہے کہ وکلاء گردی کے خوف یا دباؤ میں آ کر کام نہیں کریں گے یہاں پر گورنمنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے کام کرنے کے لئے آتے ہیں مار کھانے کے لئے نہیں آئے۔ وکلاء کی جانب سے معذرت کی صورت میں آگے کام کرنے کا سوچیں گے ۔ وکلاء حضرات کا بھی کہنا ہے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال اور جان بوجھ کر پیدا کی جانے والی تاخیر رشوت وصولی کی بنیاد ہے جو کہ ہر گز قبول نہیں ہے اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والا حساب ہے آرام سے بات کرنے گئے تھے آگے سے بدتمیزی اور شور شرابہ شروع ہونے پر تلخ کلامی ہوئی ہے جس کو یہ لوگ بڑھاوا دے رہے ہیں ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے شہریوں نے ڈی سی او اور کمشنر لاہور کو اس معاملے کو فوری حل کروانے کی اپیل کی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...