’’ ماں کی دُعا‘‘

’’ ماں کی دُعا‘‘
’’ ماں کی دُعا‘‘

  



وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ایک تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جس میں وزیراعظم نواز شریف اپنی والدہ شمیم اختر کے ہاتھ چوم رہے ہیں، بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر مریم نواز شریف نے اس وقت کھینچی جب میاں نواز شریف اپنے طبی معائنے یا علاج کے لئے لندن روانہ ہو رہے تھے، وزیراعلیٰ شہباز شریف نے تصویر کا کیپشن دیا، ’’ میری عظیم ماں اور میرا پیارا بھائی۔۔۔ میری زندگی میں دو بہت اہم لوگ ۔۔ ان کے لئے لامتناہی احترام اور پیار ۔۔ اس خوبصورت تصویر کے لئے شکریہ مریم بیٹی۔ شہباز شریف ‘‘ ،جواب میں مریم نواز نے بھی اپنے چچا سے محبت کا اظہار کیا۔ بہت سارے لوگوں نے اس تصویر پر بہت سارے تبصرے کئے اور ظاہر ہے ان میں وہ مخالفین بھی شامل تھے جن کا کام ہی تنقید کرنا ہے حالانکہ یہ تصویر ماں سے محبت کے اظہار کے ایسے پاکیزہ جذبے کی عکاس ہے جس پرکسی قسم کی تنقید کی ہی نہیں جا سکتی، شریف خاندان کے سیاسی مخالفین نے کہا کہ اس تصویر کو صرف سیاسی فائدے کے لئے جاری کیا گیا ہے ۔ تکلف برطرف! اس امر سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو اس سے سیاسی فائدہ حاصل ہو گا ،ان کے ایک روایتی ، اسلامی اور مشرقی خاندان ہونے کے تاثر کی تجدید ہو گی اوراس پروپیگنڈے کا توڑ ہو گا جو دونوں بھائیوں کے اہل خانہ میں مبینہ گروپ بندی بارے تابڑ توڑ ہو رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پانامہ لیکس کے بعد شریف خاندان میں شہباز شریف گروپ اس صورت حال کو انجوائے کر رہا ہے جس میں نواز شریف گروپ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ شہباز شریف کے اپنے بڑے بھائی سے بغاوت کے قصے اور کہانیاں نئی بات نہیں ہیں، یہ اسی دور سے جاری ہیں جب ابھی شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی نہیں بنے تھے اور ان کے مخالفین کہتے تھے کہ اصل میں حکومت او رپارٹی نواز شریف نہیں بلکہ وہ چلاتے ہیں۔ اس بارے اصل حقیقت کا علم بہت سارے صحافیوں کو اس وقت ہوا جب بعض محدود میٹنگوں میں انہوں نے میاں نواز شریف کو دیکھا کہ وہ اسی طرح میاں شہباز شریف کو ڈانٹ رہے تھے جس طرح کوئی بڑا بھائی یا والد ڈانٹ سکتا ہے، اس امر کی گواہی قبول کر لیجئے کہ کسی کی بات نہ سننے والے شہباز شریف اس موقعے پر دم سادھے بیٹھے ہوئے پائے گئے۔

میاں نواز شریف کی طرف سے اپنی والدہ کے ہاتھ چومنے کی تصویر کوئی نئی خبر نہیں، وہ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اپنی والدہ کی وہیل چئیر کو اپنے ہاتھوں سے دھکیلتے ہوئے انہیں طواف کرواتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ اس کام کے لئے انہیں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں ملازمین ضرور مل سکتے تھے مگر انہوں نے ارب اور کھرب پتی ہونے کے باوجود ایک فرماں بردار بیٹے کے طور پر یہ ذمہ داری نبھائی۔ مجھے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہوا ایک واقعہ ایک مرتبہ پھر دہرانے دیجئے۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف دونوں ہی بیرون ملک سے وطن واپس پہنچے تھے۔ انہوں نے سورج غروب ہونے کے بعد لاہور ائیرپورٹ پر لینڈ کیا اور انہیں جلوس کی صورت میں ان کے گھر ماڈل ٹاون لے کر جانا تھا مگر اس سے پہلے داتا دربا ر حاضری کا پروگرام بن گیا۔ ان دنوں الیکٹرانک میڈیا کی بھرمار نہیں ہوتی تھی اور میں بھی ایک کارکن صحافی کے طور پر ان کی کوریج کرتا ہوا ماڈل ٹاؤن پہنچ گیا جہاں پرانی عمارت کے باہر والے ڈرائنگ روم میں دونوں بھائی بیٹھ گئے۔ ا س سے پہلے بات چیت شروع ہوتی، میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف میں کھسر پھسر شروع ہو گئی۔ شہباز شریف اٹھ کے گھر کے اندر گئے اور پھر واپس آ گئے اور دوبارہ سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ سب صحافی حیران تھے کہ پریس کانفرنس کیوں شروع نہیں ہو رہی۔ میاں نواز شریف نے اس موقعے پر جو بات بتائی وہ ہم سب کو حیران کردینے کے لئے کافی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد کی قدم بوسی کرنا چاہتے تھے مگر بتایا گیا ہے کہ میاں محمد شریف ، اپنے مقررکردہ وقت پر سو چکے ہیں۔ شہباز شریف کہہ رہے تھے کہ آپ جا کر انہیں اٹھا لیں اور مل لیں کہ کافی عرصے بعد وطن واپسی ہوئی ہے مگر انہوں نے خود جگانے کی بجائے اپنی والدہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے والدکو آگاہ کر دیں، انہوں نے بھی معذرت کر لی اور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ رہنے والے بھائیوں کی یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے والدکو نیند سے بیدا رکر لیں۔ میاں نواز شریف نوے کی دہائی میں چاہے وزیراعظم تھے یا اپوزیشن لیڈر، ہر جمعرات کو لاہور صر ف اپنے والدین کو ملنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ میاں شریف فیملی کے دیگر ارکان کے ساتھ جاتی امرا منتقل ہو چکے تھے اور نواز شریف رائے ونڈ میں رہائش پذیر تھے۔ وہ جمعے کی صبح کو کارکنوں سے ملتے اور ساڑھے گیارہ، پونے بارہ بجے ہر صورت ماڈل ٹاون سے رائے ونڈ روانہ ہوجاتے کہ دوپہر کے کھانے پر میاں شریف منتظر ہوتے۔ میں نے دیکھا کہ بہت سارے لوگ جو میاں شریف سے شریف میڈیکل کمپلیکس کی مسجد میں نمازیں ادا کرتے ہوئے تعلق بنا لیتے ، وہ بڑی آسانی سے عہدوں کے لئے سفارش کروا لیا کرتے تھے، یہ وہ سفارش تھی جس کا کوئی توڑنہیں تھا۔

اگر یہ کہا جائے کہ شریف خاندان کے اندر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے خاندانوں کے اندر کوئی ’’ شریکا ‘‘ نہیں ہے تو یہ جھوٹ ہوگا۔ میں نے خاندان سے تعلق رکھنے والے بہت سارے لوگوں کو بہت ساری باتیں کرتے ہوئے سنا ہے۔ وہ واقعہ میں ایک سے زیادہ مرتبہ بیان کر چکا کہ جب پرویز مشرف کی حکومت تھی تو شہباز شریف سے منسوب ایک خط سامنے آیا تھا جو انہوں نے جیل سے ہی چودھری نثار علی خان کو لکھا تھااورپرویز مشرف حکومت سے نہ لڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ یہ ’’ خط‘‘ اس وقت کی ’’ صحافتی ضروریات‘‘ کے تحت پوری طرح فلیش ہوا تھا۔ بیگم کلثوم نواز شریف نے تحریک تحفظ پاکستان چلاتے ہوئے ماڈل ٹاؤن کے گھر کے اند ر والے ڈرائنگ روم میں تین صحافیوں سے جو بات کہی تھی کہ شہباز شریف محاذ آرائی نہ کرنے کا یہ مشورہ اپنے دوست پرویز مشرف کو دیں اور یہ بات تین بڑے اخبارات میں بہت ہی نمایاں طور پر شائع بھی ہو گئی تھی جس کی میاں محمد شریف کی ہدایت پر خاندان کے ترجمان کے طور پر تردید جاری کی گئی۔ باتیں تو اور بھی ہیں مگر اس وقت وہ کرنا مناسب نہیں ہیں۔ اس پس منظر کے باوجود میاں نواز شریف، حمزہ شہباز شریف کو ذمہ داریاں دینا چاہتے ہیں۔ اس امر بھی تقریباً واضح ہے کہ مسلم لیگ نون اگر مقبولیت برقرار رکھتی ہے تو پھر حمزہ شہباز شریف ہی پنجاب سنبھالیں گے جس کی انہیں باقاعدہ پریکٹس کروا دی گئی ہے۔ مرکز میں مریم نواز شریف کا نام لیا جا رہا ہے گویا وفاق اور صوبے کی سطح پر خاندانی اور حکومتی سیٹ اپ یکساں رہے گا۔

بہرحال اصل بات تو تصویر کی ہے،آپ لاکھ اعتراضات کریں مگر میرے خیال میں میاں نواز شریف کی بے مثال کامیابیوں میں ان کے والدین کی دعاؤں کا بہت بڑا ہاتھ ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی سیاسی رہنما کو فوج اقتدار سے نکالتے ہوئے عدلیہ کے ذریعے پھانسی تک چڑھانے کی کوشش کرے اور وہ لیڈر دوبارہ وزیراعظم بن جائے، وقت کا�آمر پرویز مشرف مجبور ہوجائے کہ وہ نواز شریف کے وفاداروں سے وزارتوں کا حلف لے۔ میں نے ان سے زیادہ والدین کا احترام کرنے والا خاندان نہیں دیکھا۔ ایک سینئر صحافی نے چند روز قبل ٹوئیٹ کی جس میں ان کے خاندان میں تقسیم بارے نشاندہی کی گئی تو میں نے سوال کیا ، کیا حالات مشرف دور سے بھی برے ہیں؟ اگر اس دور میں شہباز شریف نے بڑے بھائی سے بغاوت نہیں کی تو اب کیسے کر سکتے ہیں۔اس تصویر نے ایک مرتبہ پھر اس پروپیگنڈے کی کمر توڑ دی ہے جو دونوں بھائیوں کے خاندانوں کے درمیان اختلافات کے حوالے سے کیا جا رہا تھا۔ شہباز شریف نے اپنی ماں کو عظیم کہنے کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کو پیارا اور زندگی کا اہم ترین فرد قرار دیا۔ میں نہیں جانتا کہ نواز اور شہباز شریف کی اگلی نسلیں اس تعلق کو برقرار رکھ سکیں گی یا نہیں مگر فی الوقت تو میرا یقین ہے کہ شریف خاندان کے اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں۔ میرے بہت سارے محترم اینکر، تجزیہ نگار اور کالم نگار دوست جب شریف خاندان کے زوال بارے پورے وثوق سے پیشین گوئیاں کرتے ہیں تو میں ایک سوال پوچھتا ہوں، کیا وہ بھول جاتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی ماں ابھی زندہ ہے؟

دعا ہے اللہ تعالیٰ اس تحریر کو پڑھنے والے سب کی ماوں کو زندہ اور تابندہ رکھے خاص طور پر ان کی ماوں کو جو اپنی ماوں سے محبت کافرض اور قرض ادا کرنا جانتے ہیں، آج کے دور میں یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

مزید : کالم


loading...