عمران آنکھ ملتے گھسے اور ہاتھ ملتے نکلے

عمران آنکھ ملتے گھسے اور ہاتھ ملتے نکلے
عمران آنکھ ملتے گھسے اور ہاتھ ملتے نکلے

  



عمران خان آصف زرداری کے پیچھے پیچھے بلا لئے گھوم رہے ہیں ،مگر زرداری صاحب مانگے کے بلے سے چوکے چھکے لگانے کے موڈ میں نہیں ہیں اور انہوں نے تحریک انصاف کے مبینہ رائے ونڈ مارچ میں شمولیت سے انکار کردیا ہے۔ تحریک انصاف کے دانشوروں کی امیدوں پر منوں گھڑے پانی پڑگیا ہے۔

ادھر عمران خان کا حال گھرمیں موجود سب سے چھوٹے بچے والا ہے جو پورے گھر کا لاڈلا ہوتا ہے اور سب کے سر پرچڑھا ہوتا ہے، ہر کوئی اسے درگزر کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔یہی ایک advantageہے جو عمران خان کو بچائے ہوئے ہے وگرنہ سیاستدان تو وہ کبھی تھے ہی نہیں۔اب لوگ ان کی باتیں سن کر سنجیدہ ہونے کے بجائے مسکرانا شروع کر دیتے ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن تو بہت پہلے سے ہنس بھی رہے ہیں۔ کیا کیا منطق ہے جو عمران خان لے کر آتے ہیں ۔ شوکت خانم کے چندے کے پیسے کو بیرون ملک رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں بین الاقوامی جوئے میں لگانے کے معاملے کو ہی لے لیجئے ۔ خان صاحب طمطراق سے فرما رہے ہیں کہ انہوں نے زمین کے جوئے میں شوکت خانم کے چندے میں سے جو سرمایہ کاری کی تھی وہ رقم واپس آگئی ہے ۔ کوئی ان کو بتائے کہ بندۂ خدا معاملہ رقم کی واپسی کا نہیں ، چندے کی رقم کو جوئے کے کاروبار میں لگانے کا ہے۔آپ کا جرم چندے کی رقم کا غیر قانونی مصرف ہے اور آپ ہیں کہ ڈوبی ہوئی رقم ریکور ہوجانے کی خوش خبری دے کر خوش ہو رہے ہیں۔اسی طرح جب چوہدری نثار نے کہا کہ عمران خان کے دائیں بائیں کھڑے لوگوں کے نام پاناما لیکس میں ہیں تو جھٹ سے کہنے لگے کہ اگر ہیں تو حکومت تحقیق کیوں نہیں کرتی ....کیا کہنے ، یعنی اپنے لوگوں کی تحقیق کا مطالبہ اور وزیر اعظم کے بیٹوں کے نام ہوں تو وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ !....عمران خان کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہ مخالفت کرتے ہوئے بہت ابتدا میں بہت آخر کی پوزیشن لے لیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی مسئلے میں آنکھ ملتے ہوئے گھستے ہیں اور ہاتھ ملتے ہوئے نکلتے ہیں!

پاناما لیکس پر آصف زرداری نے سیاسی فیصلہ کیا ہے ، عمران خان کے اکاسی بیاسی فیصلے تو ہو سکتے ہیں ، سیاسی بالکل نہیں ہیں۔ ان کا حال تو بس یہی ہے کہ

زور ہے، لگائے جا

شور ہے، مچائے جا

لگتا ہے کہ کامران شاہد کی طرح انہیں بھی کہیں سے چابی ملتی ہے ۔ ادھر بے نظیر بھٹو کی اچانک موت سے جیالوں کی مجبوری عمران کی مشہوری کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ تحریک انصاف کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہ محنت اور ہوم ورک کی عادی نہیں اور سجے سجائے سٹیج پر براجمان ہونے کو بیتاب ہے، جس طرح عمران خان نے خود ساختہ قوم سے خطاب میں دھرنوں والی تقریر کو ہی دوبارہ سے دہرا دیا اسی طرح تحریک انصاف کے حامی دانشور بھی ایک مرتبہ پھر گزشتہ دھرنے کے دوران لکھی جانے والی تحریروں کو جھاڑ پونچھ اور ادھر ادھر سے قطع و برید کرکے دوبارہ سے شائع کروانے میں جت گئے ہیں۔ ان کی تحریروں میں وہ گھسی پٹی رٹ ہے کہ وزیر اعظم مستعفی ہوجائیں، حکومت اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں اور جب تک تحقیق مکمل نہیں ہوتی وزیر اعظم رخصت پر چلے جائیں وغیرہ وغیرہ ....یہ الگ بات کہ اس مرتبہ ان کے لہجے ابھی سے شکست کی چغلی کھا رہے ہیں کیونکہ ان کو شدت سے احساس ہے کہ اس مرتبہ کوئی امپائر ان کی پشت پر سوار نہیں ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ایک مرتبہ پھر عمران خان کو حکومت مخالف سیاسی تحریک کا دولہا ماننے سے انکار کردیا ہے ۔ پی ٹی آئی کی حامی خواتین کے لہجے میں بھی وہ پہلے والا طنطنہ نہیں ہے ۔ ان کی سنیں تو یہی سمجھ آتی ہے کہ وہ پنجابی میں کہنا چاہ رہی ہیں کہ ’لگدا تے نئیں پر خورے!‘

یہاں پاکستان سے باہر مقیم پاکستانی میڈیا کو خراج تحسین پیش کرنے کو دل کرتا ہے جنھوں نے پاکستان کے اندر موجود میڈیا کے برعکس انتہائی پروفیشنل ازم کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اس کی دو مثالیں ہیں ۔ ایک تو تحریک انصاف فیصل واڈا کی لندن میں پریس کانفرنس تھی جس میں وہ وزریر اعظم کے دورے سے ایک روز قبل لندن میں کسی نئی پراپرٹی کی کھوج لگا کر سڑک کنارے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا اور اینکر پرسنوں پر زور دے رہے تھے کہ وہ وزیر اعظم سے پوچھیں کہ یہ پراپرٹی ان کی ہے یا نہیں ۔ اس پر لندن میں مقیم پاکستانی میڈیا ان پر پل پڑا اور صحافی کہنے لگے کہ فیصل واڈا آپ خود عدالت کیوں نہیں چلے جاتے اور سارا زور اینکر پرسنوں کے پراپیگنڈے پر کیوں لگا رہے ہیں۔ فیصل واڈا نے کچھ دیر تو آئیں بائیں شائیں کی اور پھر پردۂ سکرین سے غائب ہو گئے۔ دوسری مثال وزیر اعظم نواز شریف کی ہے جنھوں نے پاکستان روانگی کے دوران پاکستانی میڈیا کو گھاس تک نہیں ڈالی اور لندن پہنچتے ہی وہاں مقیم پاکستانی صحافیوں کے لئے پریس کانفرنس کا اہتمام کیا ۔ مجال ہے جو کسی صحافی نے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہو ،بلکہ ان کے ہر سوال سے پاکستان سے محبت اور ان کے جذبہ حب الوطنی کی خوشبو آرہی تھی ۔ یہ صورت حال ہاکستان کے اندر موجود میڈیا کے جغادریوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونی چاہئے کہ ان کے ملک کا وزیر اعظم ان سے ملاقات کے لئے تیار نہیں ہے ۔ کہیں وہ اپنی غیر جانبداری تو نہیں کھو بیٹھے!

مزید : کالم


loading...