نیشنل ایکشن پلان کے تحت پنجاب پولیس نے43ہزار سرچ آپریشن کئے،آئی جی

نیشنل ایکشن پلان کے تحت پنجاب پولیس نے43ہزار سرچ آپریشن کئے،آئی جی

  



میلسی (نما ئندہ خصوصی ) پنجاب میں عسکریت پسندی اور فرقہ واریت پر زیرو ٹالرنسپالیسی کے تحت کام کیا جا رہا ہے ۔مشتاق احمد سکھیرا نے ان خیالات کا اظہار سنٹرل پولیس آفس لاہور میں 104ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے 62شرکاء کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل (بقیہ نمبر38صفحہ7پر )

آئی جی ٹریننگ، کیپٹن (ر) عثمان خٹک، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، کیپٹن (ر) عارف نواز، ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ پنجاب، ڈاکٹر عارف مشتاق،ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب، فیصل شاہکار، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، رائے محمد طاہر، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز، بی اے ناصر، ڈی آئی جی آپریشنز، عامر ذوالفقار،ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب، فاروق مظہر، اے آئی جی فنانس، حسین حبیب امتیاز اورسی پی او کے دیگر سینےئر پولیس افسران موجود تھے۔ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ ، کیپٹن (ر) عثمان خٹک نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں2016 ؁ میں جنوری سے فروری تک صرف قتل کی وارداتوں میں -06فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ فرقہ وارانہ قتل میں -100فیصد، مذہبی کیسز میں -75، اغوا برائے تاوان میں -67فیصداور ڈکیتی اور موٹر سائیکل چوری میں -18فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔آئی جی پنجاب نے وفد کو بتایا کہ گزشتہ 18ماہ کے دوران پنجاب پولیس نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت 43ہزار 7سو 39سرچ آپریشن کیے جس میں 13لاکھ 95ہزار 67افراد سے پوچھ گچھ کی گئی جبکہ 7ہزار 2سو 74افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جبکہ بغیر نمبر پلیٹ، غیر مجاز سرکاری نمبر پلیٹ، کالے شیشے والی 1لاکھ 54ہزار 4سو 90گاڑیوں کو بند کیا گیاپولیس مقابلوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ہر پولیس مقابلے کی جوڈیشل انکوائری کی جاتی ہے اور اس میں جعلی پولیس مقابلوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جاتی ہے۔آئی جی پنجاب نے ایک سوال دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب بھر میں کالعدم تنظیموں کو کسی قسم سرگرمی کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس سلسلے میں دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ انٹیلی جنس شےئرنگ کی مدد سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں آئی جی پنجاب نے وفد کو پنجاب پولیس کے روائتی سووینےئر پیش کیے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...