علاج کے نام پر لندن میں سیاسی اکٹھ؟ مختلف شخصیات نے سوالات اٹھا دیئے

علاج کے نام پر لندن میں سیاسی اکٹھ؟ مختلف شخصیات نے سوالات اٹھا دیئے

  



 لاہور( جنرل رپورٹر‘نمائندہ خصوصی،خبر نگار خصوصی)ملک کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے راہنماؤں نے کہا کہ اپنے اور عزیز و اوقارب کے علاج معالجہ کے نام پر بیرون ممالک جانے والے سیاست دانوں کے اس طرز عمل نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان اور پاکستانی کے اداروں پر انہیں کتنا اعتماد ہے۔ لندن جانے والی شخصیات قوم کو آگاہ کریں کہ ان کی لندن یاترا کی اصل حقیقت کیا ہے ایسے سیاست دان جو ملک کے اندر اپنے آپس کے معاملات طے نہیں کر سکتے اور لندن جا کر میل ملاقاتیں کرتے ہیں انہیں یہاں پر حکمرانی کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ۔وہ ’’پاکستان‘‘ سے اپنے اپنے ردعمل کا اظہار کررہے تھے ۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری اطلاعات کامل علی آغا نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کے رفقائے کار علاج کے نام پر لندن اپنی سیاسی لاج بچانے گئے ہیں وہ قوم سے جھوٹ نہ بولیں انہیں اچانک کون سی بیماری لاحق ہو گئی کہ جس کا یہاں پر کوئی علاج نہیں ہے جب وزیراعظم اور ان کے وزراء پاکستان کے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں پر اعتماد نہیں کریں گے تو پھر عوام کیسے اعتماد کریں گے۔مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ گندی سیاست کرنے والے سن لیں مسلم لیگ کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی پانامہ لیکس پر شور مچانے والے سن لیں کہ انہیں اس نان ایشو سے کچھ نہیں ملے گا ایسے لوگوں کو پہلے بھی عوام نے مسترد کیا اب بھی کریں گے، اس پر شور ڈالنے والی تحریک انصاف بتائے کہ ان کے سربراہ عمران خان لندن میں حکومت کے خلاف کون سی نئی سازش کرنے گئے ہیں۔جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل فرید پراچہ نے کہا کہ جس وقت پانامہ لیکس نے پاکستان کے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے متعلق انکشافات کئے تھے اگر وہ اسی وقت اپنی مرضی کا کمیشن بنانے کی بجائے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنانے کا اعلان کرتے اور تب تک خود کو حکومت سے الگ کر لیتے تو آج ان کے حالات مختلف ہوتے۔پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ لندن پہنچ کر وزیراعظم کیسے معصومانہ انداز میں یہ کہہ رہے تھے کہ مجھے نہیں سمجھ آ رہی کہ مجھ سے کون سی غلطی ہوئی ہے حالانکہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے اس کی گونجیں پوری دنیا سن رہی ہیں اور دیکھ بھی رہی ہے اگر یہ کہا جائے کہ ان کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے تو یہ بھی بے جا نہ ہو گا اب بھی ان کے پاس وقت ہے کہ وہ باعزت طور پر مستعفی ہو جائیں اور اپنے آپکو قوم اور کمیشن کے سامنے پیش کردیں۔ تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکمرانوں نے باربار حکومتوں کے مزے لیے اور تعلیم اور صحتُ پر توجہ نہ دی ۔حکمرانوں کو ٹرین اور بسیں چلانے کی بجائے تعلیم اور صحت پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف کو اپنے ہی ملک کے اندر رہ کر علاج معالجہ کرانا چاہیے تھا۔بیرون ملک جانے سے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

مزید : علاقائی