امریکی جماعت کے باوجود بھارت کی نیوکلیئر سپلائزر گروپ میں مستتقل رکنیت خارج ازا مکان ہے ، پاکستان

امریکی جماعت کے باوجود بھارت کی نیوکلیئر سپلائزر گروپ میں مستتقل رکنیت خارج ...

  



 اسلام آباد(اے این این ) پاکستان نے بھارت کی نیو کلیئر سپلائرز گروپ میں مستقل رکنیت کومکمل طورپرخارج ازامکان قراردیتے ہوئے کہاہے کہ ہمسایہ ملک امریکہ کی حمایت کے باوجود چین کی وجہ سے این ایس جی میں جگہ نہیں بنا پائے گا۔ اسٹرٹیجک ویژن انسٹیٹیوٹ اور غیر سرکاری جرمن ادارے کونراڈ اڈینویر سٹیفٹنگ کی جانب سے منعقدہ انٹرنیشنل نیوکلیئر آرڈر کانفرنس میں اظہارخیال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کیلئے پاکستان کے سابق مستقل نمائندے ضمیر اکرم نے کہا کہ بھارت کے نیو کلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے امکانات عملی طور پر صفر ہیں۔ ضمیر اکرم نے کہا کہ چین، بھارت کو اجازت نہیں دے گا کہ وہ اس گروپ میں شامل ہو کیونکہ اس سے پاکستان کے ساتھ جوہری معاملات اثرانداز ہوں گے۔ انہوں نے کہاکی چین یہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں اس گروپ میں ایک ساتھ شمولیت اختیار کریں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ کے علاوہ کچھ ایسے دوسرے ممالک بھی موجود ہیں جو چین کے بھارت کے معاملے میں طرز عمل سے پریشان ہیں اور اسے نظریہ ضرورت کی بنیاد پر معیار قرار دیا جا رہا ہے۔ گلوبل نیوکلیئرآرڈرپر اظہارخیال کرتے ہوئے ضمیر اکرم نے کہا کہ یہ مختلف عوامل کی وجہ سے غیر مستحکم ہوا ہے، جس میں عالمی قوتوں کے دوہرے معیار اوربھارت کو دی گئی امتیازی چھوٹ بھی شامل ہیں ۔ ضمیر اکرم نے ایک متوازن نیوکلیئر آرڈر کے لیے تجویز پیش کی کہ سیاسی اختلافات کو دور کیا جائے، اپنے مفاد کے لیے جوہری ہتھیاروں پر کم سے کم انحصار کیا جائے، جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سے اس کی تخفیف پر مذاکرات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک کی امتیازی پالیسیوں کو ختم کرنا ہوگا اور یہ عہد کرنا ہوگا آئندہ ایسے ہتھیار نہیں بنائے جائیں گے۔ سابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر)احسان الحق نے کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد پاکستانی سفارتکاروں سے کہا کہ وہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرکے ملک کے مقدمے کی قانونی حیثیت اور ساکھ کا دفاع بھرپور صلاحیتوں سے کریں۔ انہوں نے ورلڈ نیوکلیئر آرڈر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انتہائی امتیازی سلوک رکھنے والا اور رکاوٹ ڈالنے والا قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا جوہری پروگرام تمام حالات میں چلتا رہے گا، اس معاملے پر بیرونی دباؤ قابل قبول نہیں ہوگا۔ اسڑٹجک وژن انسٹیٹیوٹ(ایس وی آئی)کے صدر ظفر اقبال چیمہ نے بھی نیوکلیئر آرڈر کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ این پی ٹی اور نان پرولفریشن رجیم(این پی آر)کو عالمی طاقتیں اپنی سیاسی، اسٹریٹیجک اور خارجہ پالیسی کے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں جس سے ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مغرب کے امتیازی سلوک کا شکار رہا ہے۔ ظفر اقبال چیمہ نے کہا کہ بھارت امریکا جوہری معاہدے کے بعد نئی دہلی کو سالانہ 50مزید ایٹمی ہتھیار بنانے کے وسائل کی دستیابی ممکن ہے۔ سیمینار کے آخر میں تھنک ٹینک نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کے ساتھ کیے جانے والے امتیازی سلوک کا مقابلہ کیا جانا چاہیے جبکہ منصفانہ اور جامع طرزِ طریقے سے گلوبل نیوکلیئر آرڈر میں تبدیلی لائی جانی چاہیے۔ ایس وی آئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف کم سے کم دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھا جائے اور مشورہ دیا کہ نیوکلیئر آرڈر میں شامل ہونے کے لیے سلامتی پر سمجھوتے کی مخالفت کی جائے۔ واضح رہے کہ یہ ایک مہینے میں دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ جوہری معاملات پر ایک سینئر عہدیدار نے بھارت کی نیو کلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے امکانات مسترد کیے ہیں، گزشتہ ماہ کے آخر میں ایک کانفرنس میں مشیر برائے نیشنل کمانڈ اتھارٹی، لیفٹیننٹ (ر) جنرل خالد قدوائی نے کہاتھا کہ نیو کلیئر سپلائرز گروپ میں ہمارے ایسے دوست موجود ہیں جو ایسا ہونے نہیں دیں گے۔

خارج ازامکان

مزید : علاقائی


loading...