جمعیت اتحاد العلما کے زیراہتمام کرپشن فری پاکستان مشاورت

جمعیت اتحاد العلما کے زیراہتمام کرپشن فری پاکستان مشاورت

  



لاہور(خبر نگار خصوصی) جمعیت اتحاد العلمار کے زیراہتمام منصورہ میں تحفظ اسلام وکرپشن فری پاکستان مشاورت منعقد ہوئی جس میں سینکڑوں علمائے کرام نے شرکت کی ۔اس موقع پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جمعیت اتحاد العلماء ضلع لاہور کے زیر اہتمام ضلع لاہور کے تمام مسالک کے علمائے کرام کی یہ مجلس مشاورت ایسے حالات میں منعقد کی جارہی ہے کہ مملکت خداداد کے نظریاتی تشخص کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ اس کو اپنی منزل سے دور لے جایا جارہا ہے۔پاکستان کے مستقبل کو سیکولر نظریے کے ساتھ جوڑنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ملک کے نظریاتی اساس کے علمبردار علمائے کرام کو دہشت گردی کی روک تھام کے نام پر ہراساں کیا جارہا ہے۔ ہر طرف بد عنوانیوں کا بازار گرم ہے اور اس طرح عوام کی آزادیوں کو جدید دور کی بدترین غلامی میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں یہ مجلس مشاورت اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ اس ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور قراردادِ مقاصد اس کے آئین کا لازمی حصہ ہے ۔

جس میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ پاکستان میں اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور اس ملک میں اسلام کے منافی کوئی قانون نہیں بنایاجائے گا۔ یہ مجلس مشاورت اعلان کرتی ہے کہ ملک کی ان اسلامی بنیادوں کا ہر حال میں دفاع کیاجائے گا اور ملک کو کرپشن وبدعنوانی سے پاک کرکے بانیانِ پاکستان کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کیا جائے گا۔ یہ مجلس مشاورت اس بات کا بھی اعادہ کرتی ہے کہ تحفظ ناموس رسالت اور عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کا قیمتی سرمایہ ہے اور اسلام دشمن قوتیں امت مسلمہ کے دل سے یہ جذبہ ختم کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ انھی قوتوں کو خوش کرنے کے لیے ہماری بزدل حکومت نے عاشق رسول غازی ممتاز حسین قادری شہید کو پھانسی دے کر تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو عملاً غیر مؤثر بنانے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ مجلس مشاورت مطالبہ کرتی ہے کہ قانون توہین رسالت کی روشنی میں سزائے موت کے تمام قیدیوں کی سزائے موت پر فی الفور عمل درآمد کو یقینی بنایاجائے۔ مجلس مشاورت اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ تحفظ خواتین بل اسلامی معاشروں کے خاندانی نظام کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔ چنانچہ ہم اس بل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ملک میں جتنی بھی دہشت گردی ہوتی ہے وہ بلیک واٹر، سی آئی اے اور بدنام زمانہ ’’را‘‘ کا کیا دھرا ہوتا ہے، جس کا ایک واضح ثبوت حال ہی میں بلوچستان میں ایک حاضرسروس بھارتی کرنل کا پکڑا جانا ہے۔ مگر حکومت اور ایجنسیاں دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا این جی اوز اور ذرائع ابلاغ اس کا سارا ملبہ مذہبی لوگوں پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ مجلس مشاورت حکومت سے مطالبہ کرتی ہے اس طرح کے جتنے بھی جاسوس ملک میں سرگرم عمل ہیں ان کا سراغ لگاکر نہ صرف بے نقاب کیا جائے بلکہ ان کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دوسرے اس سے عبرت پکڑیں اور آیندہ کے لیے اس طرح کی شرارتوں کو روکا جاسکے۔ یہ مجلس مشاورت اس بات کو بھی واشگاف الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ ملک میں جاری کرپشن اور لوٹ مار کے کلچر کا خاتمہ کیا جائے اور جن لوگوں کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں ان کو فی الفور عوام سے معافی مانگنی چاہیے اور وزیر اعظم کو اپنے منصب کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے، کہ انھیں موجودہ صورتِ حال میں اس عہدے پر برقرار رہنے کا حق نہیں رہا۔ یہ مجلس مشاورت اس بات کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ پر فحش اور بے ہودہ پروگرام اور اشتہارات کا نوٹس لیا جائے جو نوجوان نسل کو بے راہ روی میں مبتلا کررہے ہیں اور جس کی وجہ سے عصمت دری کے واقعات روز کا معمول بن گیا ہے۔ یہ مجلس مشاورت سب سے آخر میں، مگر پوری شدت کے ساتھ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ ملک میں فتنہ وفساد کی اصل جڑ اسلام کے زرین اصولوں کو پس پشت ڈالنا ہے۔ اس لیے ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی راہ ہموار کی جائے اور مختلف مکاتب فکر کے رہنما ۳۱ علماء کے طے کردہ ۲۲ نکات رو بعمل لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس صورت میں یہ مجلس اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ ملک کو ہر قسم کی خرابیوں سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...