فوکر طیارہ حادثہ کیس،عدالتی حکم عدولی پر ڈی ایس پی،ایس ایچ او تھانہ کینٹ20اپریل کو طلب

فوکر طیارہ حادثہ کیس،عدالتی حکم عدولی پر ڈی ایس پی،ایس ایچ او تھانہ ...

  



ملتان (خبر نگار خصوصی ) ایڈیشنل سیشن جج ملتان نے 9 سال قبل ملتان فوکر طیارہ حادثہ کیس کا مقدمہ درج کرنیکے لئے بیان ریکارڈ (بقیہ نمبر27صفحہ12پر )

کرنے کے حکم پرعمل درآمد نہ کرنے پرڈی ایس پی اور ایس ایچ او تھانہ کینٹ کو 20 اپریل کو طلب کرلیا ہے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی ہے فاضل عدالت میں شہباز علی گورمانی ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی تھی کہ 10 جولائی 2006ء کو ایک پرواز ملتان ائیر پورٹ سے روانہ ہوئی جبکہ اس طیارے کو اڑتاتابوت جیسا نام دیا جاتا تھا اور یہ طیارہ ائیرپورٹ سے 3 کلومیٹر دور ہی گر کر تباہ ہوگیا اور اس پروا ز میں شہر کے قابل، پڑھے لکھے اور اپنے اپنے شعبو ں کے ماہر ترین افراد موجود تھے جو سب لقمہ اجل بن گئے جس پر مقدمہ درج کرانے کے لئے پولیس سے رجوع کیا لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے اسلئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے فاضل عدالت کے حکم پر ایس ایچ او نے رپورٹ پیش کی کہ مذکورہ معا ملہ عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے اور مذکورہ معاملہ پولیس کے حدود میں نہیں آتا ہے جس پر درخواست گذا رنے تھانہ کورال اسلام آباد میں درج ایک اور طیارہ حادثہ کا مقدمہ درج ہونے کی نقل پیش کی جبکہ اس سے قبل 9 اگست 2006 ء کوسیشن جج ملتان نے بھی ایک درخواست پر ایس ایچ او کو احکامات جاری کئے تھے جس پرعمل نہ کرنے کے خلا ف وکلاء نے عدالت عالیہ سے رجوع کر لیا تھاجس پر عدالت عالیہ نے آر پی او ملتان کے احکاما ت پر عمل درآمد کرنے کی بھی ہدایت کی تھی اس لئے ایس ایچ او تمام مواد اکٹھا کر نے کے ساتھ مقدمہ درج کرے اور ایس ایچ او کو تھانہ کورال کے مقدمہ کی نقل بھی معلومات او رعمل درآمد کے لئے بھجوائی گئی ہے تاہم عدالتی احکاما ت پر درخواست دینے کے باوجود بیان ریکارڈ نہیں کیاگیا ہے اس لئے سی پی او ملتان اور ایس ایچ او تھانہ کینٹ کو طلب کر کے عمل درآمد کرنے کا حکم دیا جائے جس پر ایس ایچ او تھانہ کینٹ کو طلب کیا گیا تھا لیکن گزشتہ روز ایک سب انسپکٹرنے پیش ہو کرمہلت دینے کی استدعا کی تھی ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...