خانیوال ‘ خطرناک قرار دی گئی مخدوش عمارتیں تاحال نہ گرائی جا سکیں

خانیوال ‘ خطرناک قرار دی گئی مخدوش عمارتیں تاحال نہ گرائی جا سکیں

  



خانیوال (نمائندہ پاکستان)خطرناک قرار عمارات کے مکینوں نے سرکاری نوٹسز کو کھوہ کھاتے ڈال دیا ۔تفصیل کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے خطرناک عمارات کو گرانے اور مخدوش عمارتوں کو درست کرنے کی مہم کے سلسلے میں ضلع خانیوال کی مجموعی طورپر253عمارات خطرناک تجویز قرار دی گئیں(بقیہ نمبر31صفحہ7پر )

خانیوال کی 80عمارتوں میں77عمارات کی مرمت اور دوکوگرانے کا فیصلہ کیا میاں چنوں کی 71 عمارات میں62کو مرمت کرنے اور7کو گرانے کا فیصلہ کیا جبکہ 6عمارتیں گرائی گئیں کبیروالہ کی60عمارت میں51کو مرمت کرنے کا فیصلہ ہوا جبکہ 6گرادی گئیں کبیروالہ میں اولڈ بوائز کالج کو خطرناک قرار دینے کے باوجو دنہیں گرایا جاسکا مگر وہاں انسانی جانوں کو ہروقت خطرہ ہے جہانیاں میں41میں سے36کو مرمت کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ تین عمارتوں کو گرادیا گیا یوں ضلع بھر میں21خطرناک عمارتوں میں سے 14کو گرادیا گیا ابھی سات عمارتیں باقی ہیں اسی طرح جن 227عماتوں کو مرمت کروانا ہے ان میں بعض کی مرمت کی جارہی ہے جبکہ بیشتر عمارتوں کی مرمت کے لئے فنڈز کا انتظار ہے ۔میاں چنوں میں گورنمنٹ سپیشل سکول کی عمارت کو خطرناک قرار دیا ہے مگر وہ گرائی نہیں گئی خانیوال میں اب تک کے سروے کے مطابق پرائیویٹ خطرناک عمارات قرار دی گئیں ان کے قابضین اور مالکوں کو نوٹس دیے گئے ہیں مگر کسی نوٹس کا بھی جواب نہیں آیا اور نہ ہی ان عمارات کو گرایا گیا ہے جن لوگوں کو نوٹس ٹی ایم اے ،متروکہ وقف املاک اور محکمہ ماحولیات نے دیے ان میں کشورارشاد، نویدالرحمن ،فخر عثمان ،خالد پرویز ،عبادلحق، عبدالخالق، عقیل خان لودھی چوک سنگلانوالہ کے ہیں ان کے علاوہ عبدالماجد لکڑمنڈی ،محمداقبال لکڑمنڈی ،الطاف حسین کچہری بازار، روبینہ عزیز بیوہ اشرف ٹرنک بازار،غلام رسول بان والا ٹرنگ بازار، محمدمنور اکبر بازار،راجو اڈہ پرانا بس سٹینڈ،محمداکرام لکڑمنڈی، محمداشفاق ریلوے رو ڈ،عاشق علی بلاک نمبر6،ظفر نعمت کدہ ،محمداکبر بلاک نمبر3،غلام نبی بلمقابل ٹی ایم اے ،عبدالرحمن خان بالمقابل ٹی ایم اے کارخانہ سیٹھ عبدالشکور ،سلیم انصاری بلاک نمبر2،خادم چوہان اکبربازار، گردوارہ بلاک نمبر4اور دیگر شامل ہیں ان تمام عمارتوں میں رہائش کے علاوہ کاروبار بھی ہورہا ہے جہاں ہر وقت سینکڑوں لوگوں کی قیمتی جانیں داؤ پر لگی رہتی ہیں پنجاب ڈیزاسسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی نگرانی میں ڈی سی او کی چیئرمین شپ میں ٹیکنیکل کمیٹی کام کرتی ہے جہاں ہرمحکمے کے ای ڈی او اپنے سب انجینئر ز کی نگرانی میں سروے کا کام کروارہے ہیں ۔

خطرناک عمارتیں

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...