گندم کی خریداری مراکز قائم، اہداف مقرر، باردانہ تقسیم میں تاخیر پر کسان فکر مند

گندم کی خریداری مراکز قائم، اہداف مقرر، باردانہ تقسیم میں تاخیر پر کسان فکر ...

  



خانیوال،بہاولپور،رحیم یارخان،خانقاہ شریف، پپلی،لودھراں،چھب کلاں،ماچھیوال،سمہ سٹہ(نمائندگان) جنوبی پنجاب بھر میں گندم کی خریداری کا عمل شروع کرتے ہوئے خریداری مراکز قائم کرکے اہداف مقرر کردئیے گئے ہیں جبکہ محکمہ خوراک کی جانب باردانہ جاری نہ کئے جانے پر کسانوں نے شدید تشویش (بقیہ نمبر48صفحہ12پر )

کا اظہار کیا ہے۔خانیوال سے نمائندہ پاکستان،ڈسٹرکٹ رپورٹر اور نمائندہ خصوصی کے مطابق ڈی سی او خانیوال خالد محمود شیخ نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر ضلع خانیوال میں ایک لاکھ 85ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری کا حدف مقر ر کیا گیا ہے جس کے لیے ضلعی انتظامیہ نے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں اس سال فی 40کلو گرام گندم کا ریٹ 1300روپے مقرر کیاگیا ہے ڈیلیوری چارجز 9روپے فی 100کلو گرم ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات گندم خریداری سکیم 2016-17کے سلسلہ میں جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔اجلاس میں اے ڈی سی اشفاق احمد چوہدری ‘ ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک خالد محمود ‘ اسسٹنٹ کمشنر عابد حسین بھٹی ‘ اسسٹنٹ کنٹرولر انسپکشن محمد اکرام ‘ ای ڈی او زراعت رانا احمد منیر ‘ ڈی ایف سی ‘ سنٹر کوارڈنیٹر ز و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔اجلا س میں بتایا گیا کہ گندم کی خریداری کے لیے ضلع بھر میں 14خریداری مراکز خانیوال ‘ کچاکھوہ ‘ چک نمبر 65/15-L‘ نیاز ی چوک ‘ مخدوم پور ‘ عبدالحکیم ‘ جوھ پور ‘سردار پور ‘ کوٹ اسلام ‘ سلارواہن ‘ بٹہ کوٹ ‘سلیم چوک ‘ جہانیاں اور ٹھٹھہ صادق آباد میں قائم کرنے کے ساتھ سنٹر کوارڈنیٹرز و دیگر عملہ کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں جبکہ گرداوری لسٹیں بھی سنٹر ز پر لگا دی گئی ہیں ۔پہلے 5روز میں ساڑھے 12ایکڑ سے کم کے کاشتکاروں کو باردانہ جاری کیا جا رہا ہے ۔ڈی سی او نے کہا کہ مڈل مین اور بیوپاریوں کو گندم فروخت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔بہاولپورسے ڈسٹرکٹ رپورٹرکے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک بہاولپورچوہدری محمداجمل نے ایک ملاقات کے دوران تایاکہ بہاولپورڈویژن بھرمیں70 خریداری مراکز قائم کیے گئے ہیں اوروہاں پرباردانہ بھی مہیاکردیاگیاہے کاشتکاروں کوپہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پرباردانہ کااجراء کیاجائیگا انہوں نے کہاکہ تینوں اضلاع کے ڈی ایف سی اورانچارج گندم خریداری مراکز کوہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کاشتکاروں کی گندم خریدکرنے کے حوالے سے ہرممکن سہولیات فراہم کریں انہوں نے مزید بتایاکہ اس مرتبہ کاشتکاروں سے گندم خریدکرنے کے حوالے سے مزیدآسانیاں پیدا کردی گئی ہیں پٹواری سسٹم ختم کرکے براہ راست ٹوکن کااجراء اور1300 روپے من گندم خرید کی جائیگی۔دریں اثنائمحکمہ خوراک پنجاب نے گندم خریداری کے سلسلے میں بادرانہ کا15 اپریل سے شروع کرنے کااعلان کیاتھا گزشتہ روز متوقع بارشوں کے سلسلہ کی وجہ سے باردانہ کی تاریخ میں توسیع کرکے آئندہ اجراء باردانہ تاریخ کااعلان کرنے کافیصلہ کیاہے۔ حکومت پنجاب کے اس فیصلہ سے کاشتکاروں میں سخت مایوسی پائی جارہی ہے۔پپلی سے نما ئند ہ خصو صی کسان ا تحاد کے ضلعی ر ا ہنما نوازش علی چو ہدری خالد محمود چو ہد ری شفیق نے پنجا ب حکو مت سے مطا لبہ کیا ہے فو ر ی طو ر پر با دا نہ جاری کیا جا ئے اور کسا نو ں سے دانہ دانہ خر ید ا جا ئے تا کہ کپاس کی فصل کی کا شت بر و قت کی جا سکے ۔ لودھراں سے نما ئند ہ پا کستا ن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی جہانگیر خان ترین نے کسانوں کے مسائل کے حل کی آواز اٹھاتے ہوئے ایم ڈی پاسکو کولکھے گئے خط میں مطالبہ کیا کہ ملتان میں خریداری سنٹر قائم کرنے کی بجائے لودھراں اور تحصیل کہروڑپکا میں میں قائم پاسکوسنٹرز پر ہی گندم کی خریداری یقینی بنائی جائے ۔جہانگیر ترین نے خط میں موقف اختیار کیا کہ پاسکوحکام کی جانب سے گندم خریداری مر کز ملتان میں قائم کیے جانے سے ضلع لودھراں سمیت دوسرے اضلاع سے گندم کی فروخت کے لئے جانے والے کسانوں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا ۔ جہانگیر خان ترین کی طر ف سے منیجنگ ڈائریکٹر پاسکو کو لکھے گئے خط پر پاسکو حکام نے یقین دہائی کروائی ہے کہ کسانوں سے گندم مقامی سطح پر ہی خریدی جائے گی اور اس سلسلے میں انہیں کسی دوسرے شہر جانے کی ضرور ت نہیں پڑے گی۔ماچھیوال سے نامہ نگار کے مطابق باردانہ کی میرٹ پر فراہمی کو یقینی بنائیں گے محکمہ فوڈ اور محکمہ مال کے اہلکاروں کی فوڈ سنٹر پر موجودگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسانوں کے وقت اور سرمائے کی بچت ہو سکے ان خیالات کا اظہار چوہدری طارق محمود ضلعی صدر کسان مزدور راج تحریک وہاڑی نے جماعت اسلامی ماچھیوال کے امیر ماسٹر شریف آرائیں جنرل سیکر ٹری میاں آصف عظیم ،رضوان صدیق چوہدری ،رانا طارق گلزار ،مرزا رضوان بیگ، و دیگر سے ملاقات میں کیا۔رحیم یارخانسیبیورو نیوز کے مطابق رحیم یارخان ضلع میں بھی گندم کٹائی کاسیزن شروع ہوتے ہی شہروں میں رونقیں ماندپڑناشروع ہوگئی ہیں بازاروں میں رش نہ ہونے کی وجہ سے فارغ بیٹھے دکانداربھی خریداروں کی راہ تکنے پرمجبور ہیں کاروباری مراکزسنسان ہوکررہ گئے ہیں کاروباری نظام معطل ہوکررہنے سے دکانداروں کوشدیدمشکلات کاسامناہے ۔سمہ سٹہسے نمائندہ پاکستان کے مطابق موسم کی انگڑائی تپتی دھوپ نے گندم کی فصل کی ہریالی کو دنوں میں ختم کر دیا ۔گندم پک کر تیار ہو چکی ہے اور ہر طرف کٹائی زور شور سے جاری ہے ۔جبکہ فوڈ سینٹڑ ابھی تک خاموش ہیں اور شنید ہے کہ 15 اپریل سے کسانوں سے فائلیں لی جائیں گی اور پہلے مرحلہ میں چھوٹے کاشتکاروں کو باردانہ دیا جائے گا اور بعد میں حکومتی پالیسی کے مطابق دیگر کاشتکاروں کو باردانی مہیا کیا جائے گا ۔کسانوں نے کہا کہ وہ تو پہلے ہی پسے ہوئے ہیں اگر مڈل مین ہی باردانہ لے جاتے ہیں تو انکی سال بھر کی محنت ضائع ہونے کا خدشہ ہے ۔چھب کلاں سے نمائندہ پاکستان کے مطابق گندم کی نئی فصل مار کیٹ میں آ گئی تا حال سر کا ری خر یداری کے لیے با ر دانہ جا ری نہیں کیا جا ر ہا محکمہ فو ڈ کی طر ف سے با ر دانہ جا ری نہ کر نے پر کسا نوں میں تشو یش پا ئی جا تی ہے ۔کسان ا تحاد کے ضلعی ر ا ہنما نوازش علی چو ہدری خالد محمود چو ہد ری شفیق نے پنجا ب حکو مت سے مطا لبہ کیا ہے فو ر ی طو ر پر با دا نہ جاری کیا جا ئے اور کسا نو ں سے دانہ دانہ خر ید ا جا ئے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر