چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن ، حکومت کی درخواست پرفوج پہنچ گئی ، گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا فیصلہ

چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن ، حکومت کی درخواست پرفوج پہنچ گئی ، گن شپ ہیلی کاپٹر ...

  



لاہور(کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ شہبازشریف چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں ناکامی پر پولیس افسران اور محکمہ داخلہ کے حکام پر برس پڑے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کی زیر صدارت اجلا س ہوا جس میں چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن پر غور کیا گیا۔شہبازشریف نے غلط رپورٹ پیش کرنے پر شدید اظہار برہمی کیا ،شہبازشریف کا کہناتھا کہ پولیس کے پاس اسلحہ کم تھا تو پہلے تیاری کیوں نہیں کی گئی ،تربیت کے بغیر گھنے جنگل میں لڑنے کی اجازت کس نے دی ؟،وزیراعلیٰ کا کہناتھا کہ آپریشن کی ناکامی کے ذمہ داران بچ نہیں سکیں گے۔ذرائع کا کہناتھا کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے انتہائی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے اتنے دنوں کے بعد کیوں جاگے کہ فوج کی ضرورت ہے ،اگر ضرورت تھی تو پہلے کیوں نہیں حکمت عملی بنائی گئی۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران مزاحمت کا پتہ تھا تو جامع حکمت عملی کیوں نہیں بنائی گئی۔واضح رہے کہ چھوٹو گینگ کیخلا ف آپریشن میں سات پولیس اہلکار شہید جبکہ 24اہلکاروں کو چھوٹو گینگ نے یرغمال بنا لیاہے۔آپریشن کی ناکامی یہ بھی وجوہات ہیں کہ اسلحہ کی کمی ،کھانے پینے کی قلت اور جامع حکمت عملی نہیں بنائی گئی۔واضح رہے کہ وزیراعلیٰ نے آج روجھان اور راجن پور کا دورہ کرناتھا۔دوسری طرف لاہور سے کرائم رپورٹر کے مطابقضلع راجن پور کی تحصیل روجھان میں کچے کے علاقے میں 5اپریل سے شروع کیاجانے والا آپریشن ضرب آہن جاری ہے اور اب تک پولیس کی سب سے اہم ترین کامیابی چھوٹو گینگ کے 7اہم ترین ارکان کا خاتمہ ہے۔کچے کا 50کلومیٹر کا علاقہ ہے اور دریا ئے سندھ میں 8کلومیٹر لمبی پٹی پر مشتمل جزیرہ جسے دہشت گردوں اور مجرم گروہوں نے اپنی مستقل آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ اس علاقے میں کریمنل گینگز کے گروہ جن میں چھوٹو بکرانی،پالہو سکھانی اور پت عمرانی قابل ذکر ہیں۔اس آپریشن میں پولیس کے 1600جوان جبکہ 300ایلیٹ اہلکار اوررینجرز کے جوان حصہ لے رہے ہیں۔ اب تک پولیس نے چھوٹو گینگ کے سب سے اہم 7ارکان، چھوٹو گینگ کا رنگ لیڈر،علی گل بازگیر،پاندی ،ڈپٹی لیڈر پہلوان عرف پالہو سکھانی ، بہادر، فقیر محمد، مجید باکھرانی اور ایندڑمارے جا چکے ہیں۔ ڈاکوؤں کے 8ساتھی شدید زخمی ہیں اورحکومت نے ان ڈاکوؤں کے سروں کی قیمت بھی مقرر کر رکھی تھی۔یاد رہے کہ چھوٹو گینگ کا رنگ لیڈر، علی گل بازگیر 19سنگین مقدمات میں پولیس کو انتہائی مطلوب تھا اور اس نے 2013 ؁ء میں EDOہیلتھ ڈی جی خان، مشتاق رسول سمیت درجنوں افراد کو تاوان کے لئے اغواء کیا تھا۔اب تک پولیس کے 6جوان شہید ہو ئے ہیں جن میں حنیف غوری ، قاضی عبیداللہ، امان اللہ، محمد اجمل(ایلیٹ)، شکیل احمد اور طارق شامل ہیں جبکہ 7اہلکار زخمی ہیں جن میں سعید احمد، حق نواز ، آفتاب احمد ، ایاز احمد، سیف اللہ، محمد اسحاق اور تنویر احمد شامل ہیں اور شیخ زید ہسپتال میں ان کی حالت تسلی بخش ہے۔ 24سیکیورٹی اہلکار وں سے تا حال رابطہ منقطع ہے ۔ شہید ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائنز، راجن پور میں ادا کر دی گئی جس میں پولیس افسروں اور اہلکاروں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔ دریں اثناء رحیم یار خان میں میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ یہ آپریشن پاکستان آرمی اور رینجرز کے تعاون سے باقاعدہ حکمت عملی کے تحت شروع کیا گیا ۔ جس میں کرنل رینک کے SSGکے دو افسران کی مستقل راہنمائی حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام سراسر غلط ہے جس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ پولیس کے اہلکاروں کو اسلحہ اور کھانے کی فراہمی نہیں کی جارہی ۔ انہوں نے کہا کہ SOPکے مطابق اسلحہ وافر مقدار میں دیا جا رہا ہے اور آپریشن میں شریک جوانوں کی ویلفےئر کا بھی مکمل دھیان رکھا جا رہا ہے۔

راجن پور(مانیٹرنگ ڈیسک)چھوٹو گینگ کیخلاف جاری آپریشن میں حصہ لینے کیلئے پاک فوج کے جوان ملتان پہنچ گئے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق پاک فوج کی ایک بٹالین اوکاڑہ سے ملتان پہنچ گئی ہے جو چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں حصہ لے گی جبکہ آپریشن کیلئے گن شپ ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کیے جائیں گے۔نجی ٹی وی کا کہناہے کہ گزشتہ روز آئی جی پنجاب نے کور کمانڈر بہاولپور سے ملاقات کی تھی جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے پاک فوج کوچھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں مدد کیلئے درخواست کی گئی تھی جس کے بعد پاک فوج کا 450جوانوں پر مشتمل دستہ ملتان پہنچ گیاہے۔واضح رہے کہ چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں پنجاب پولیس کو ناکامی کا سامنا ہے جبکہ اس آپریشن میں چھ پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں اور 24اہلکار وں کو چھوٹو گینگ نے یر غما ل بنا لیاہے۔ایس ایچ او سمیت سات پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد کارروائیاں روک دی گئیں ، چھوٹو گینگ نے مزید پانچ اہلکاروں کی لاشیں پتن کے مقام پر پولیس کے حوالے کر دیں، تاہم یرغمالی اہلکاروں کی رہائی کے لئے چھوٹو گینگ سے مذاکرات جاری ہیں، 8 اضلاع کی پولیس جدید اسلحہ اور تربیت یافتہ اہلکار بھی ڈاکوؤں کو قابو کرنے میں ناکام رہے۔ گزشتہ روز کچا جمال میں سات اہلکاروں کی شہادت اور متعدد کو یرغمال بنائے جانے کے بعد آپریشن روک دیا گیا جبکہ یرغمال اہلکاروں کی رہائی کے لیے ڈاکوؤں سے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔چھوٹو گینگ نے مزید پانچ اہلکاروں کی لاشیں پتن کے مقام پر پولیس کے حوالے کر دی ہیں جن میں ایس ایچ او حنیف غوری ، شکیل ، اجمل ، طارق اور امان اللہ شامل ہیں۔ ذرائع سے انکشاف ہوا ہے کہ چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں ناکامی اور اہلکاروں کی شہادت ناقص حکمت عملی کا نتیجہ ہے ، کچا جمال میں داخل ہونے والے اہلکاروں کو فی کس صرف ایک سو پچاس گولیاں دیں گئیں جبکہ آپریشن کیلئے پولیس کی مطلوبہ تعداد بھی تعینات نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔کچا جمال اور کچا مورو میں پولیس نے کارروائی کی جبکہ کچا کراچی اور کچا حیدر آباد کونظر انداز کیا گیا۔ ادھر قریبی آبادی میں رہائش پذیر چھوٹو کے رشتہ دار بھی پولیس کے ساتھ تعاون سے گریزاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق چھوٹو گینگ کیخلاف آپریشن میں ناکامی کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ لڑنے والے پولیس اہلکاروں کے پاس اسلحہ بھی ناکافی تھا اور ایک اہلکار کو صرف ڈیڑھ سو راؤنڈز دیئے گئے تھے۔ اہلکاروں نے انکشاف کیا کہ تین دن بھوکے پیاسے لڑتے رہے مگر کھانے کو کچھ نہیں ملا۔ بھوک سے نڈھال اہلکار قاضی عبید اللہ نے کچا جمال جانے سے انکار کیا تو نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی گئی جس کے بعد مقابلے کے دوران قاضی عبید اللہ شہید ہو گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ چھوٹو گینگ کے رشتہ دار پولیس کے ساتھ تعاون سے بھی گریزاں ہے۔

انٹرو ٹو

راجن پور ‘ روجھان ‘ رحیم یار خان ‘ صادق آباد ( نمائندہ پاکستان ‘ ڈسٹرکٹ رپورٹر ‘ نامہ نگار ‘ تحصیل رپورٹر ‘ بیورو نیوز ) کچہ کے علاقے میں پولیس کی طرف سے جاری آپریشن میں جام شہادت نوش کرنے والے 5جوانوں کی پولیس لائن راجن پور میں شام 5بجے نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔نما ز جنازہ میں ڈی سی او راجن پور چوہدری ظہور حسین گجر،ضلعی انتظامیہ کے افسران،پولیس افسران،ریسکیو 1122، علماء کرام،مذہبی و سماجی رہنما ،وکلاء ،ورثاء اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مولانا محمودالحسن قاسمی نے نماز جنازہ پڑھائی اور خصوصی دعا کروائی ،اس کے بعد شہداء کو پولیس کی طرف سے سلامی پیش کی گئی اورتمام لوگوں نے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا کہ شہداء نے امن کی خاطر اپنی جانوں کی بازی لگادی۔ دریں اثناء چھ اضلاع کی پنجاب پولیس چھوٹو گینگ کو پکڑنے یا مارنے میں ناکام ہوگئی ہے جبکہ ۰۲ پولیس اور اہلیٹ فورس کے اہلکار بھی چھوٹو گینگ نے یرغمال بنا لیے ہیں تاہم چھوٹو گینگ کے سرکوبی کیلیے فوج سے مدد لینے کافیصلہ کیا گیا ہے اور چھوٹو گینگ کے خلاف بڑا زمینی اور فضائی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ شہید ایس ایچ او حنیف غوری ،تھانہ بنگلہ اچھااور شہید پولیس اہلکار محمد اجمل،مظاہر چیمہ، جام پور ،شکیل،ہیڈ احمد،طارق،امان اللہ ،عبیداللہ کا تعلق داجل سے کی لاشیں جبکہ چھوٹو گینگ نے چار یرغمال زخمی پولیس اہلکار زبح للہ،سیف اللہ ،تنویرحسین،اور محمد اسحاق کو پنجاب پولیس کے حوالے کردیاگیا ہے زخمیوں کو ریسکیو۲۲۱۱ روجھان کے اہلکاروں نے شیخ خلیفہ ہسپتال رحیم یار خان منتقل کردیا ہے جہا ں انکا علاج جاری ہے جبکہ شہید پولیس اہلکاروں کی لاشیں انکے آبائی شھروں کو روانہ کردی گئی ہیں لاشیں روانہ کرنے سے قبل پولیس لائن میں انکی نماز جنازہ ادا کی گئی دوسری طرف پولیس زرائع نے بتایا ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے چھوٹو گینگ کا اہم ساتھی پہلوان عرف پہلو اور پھوما بھی جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ زرائع نے بتایا ہے پولیس اور چھوٹو گینگ کے درمیان یرغمال پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے مذکرات بھی ہورہے ہیں چھوٹو گینگ نے یرغمال پولیس کی رہائی کے لیے چار مطالبات پیش کیے ہیں روجھان کے علاقہ کچے سے پولیس چوکیاں ختم کرنے،اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی ،اپنی آبائی زمینوں سے قبضہ ختم کرنے کامطالبہ آخری خبر آنے تک پولیس اور چھوٹو گینگ میں مذکرات جاری تھے مذکرات میں اہم سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں جسکا نام تاحال خفیہ رکھا جارہا ہے ۔ ڈی سی او کیپٹن(ر)محمد ظفر اقبال نے کچہ میں سماج و امن دشمن عناصر کے خلاف جاری پولیس اپریشن ضرب آہن میں پولیس جوان کی شہادت پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہیدوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ، اپریشن ضرب آہن آخری ڈکیت و دہشت گرد کے خاتمہ تک جاری رہے گا۔انہوں نے اپریشن میں زخمی ہونیوالے جوانوں کے جلد صحت یابی کے دعا کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائیں۔ ڈی پی او ذیشان اصغر نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب آہن میں پولیس نے بہادری اور جرات کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے ۔ بعض اوقات حالات اور قسمت بھی بڑی کامیابی کے آڑے آجاتے ہیں شہداء اور زخمی محکمہ اور قوم کے بہادر سپوت ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی سی او ظفر اقبال کے ہمراہ کچہ آپریشن ضرب آہن کے دوران زخمی ہونے والے اہلکاروں آفتاب احمد ، حق نواز سعید احمد ، سیف اللہ ، محمد اسحاق ، تنویر احمد ، ذبیع اللہ اور ایاز میتلا کی شیخ زید ہسپتال میں عیادت کرتے ہوئے کیا ۔ آپریشن ضرب آہن میں شہید اور زخمی ہونے والے اہلکار قوم اور محکمہ کے بہادر سپوت ہیں جنہوں نے بہادری کی ان مٹ داستان رقم کی ہے آپریشن جاری ہے اور ظلم کی تاریکی میں امن کی کرن کے طلوع تک جاری رہے گا ۔ صادق آباد سے نمائندہ پاکستان کے مطابق پولیس افسران اور نوجوانوں کی شہادت سے پولیس کا مورا ل بلند ہو ا ہے کچہ جمال آپریشن ضر ب آہن میں چھوٹو گینگ کو بر ی طر ح سے ناکامی ملی ہے ان خیالات کا اظہار ایس ایچ او تھانہ بھونگ سیف اللہ ملہی نے میڈ یا سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ چھو ٹو گینگ کے قریبی نائب کمانڈر کو ان کی کمین گاہ میں پار کرد یا گیا ہے اس کے ساتھ دیگر نصف درجن افراد کو پولیس نے شدید زخمی کیا ۔تاہم اس دوران پولیس کے نوجوان بھی شہادت کار تبہ پا گئے جن میں ایس ایچ او بنگلہ اچھا حنیف غوری جن کو میں سلام پیش کر تاہوں۔

مزید : صفحہ اول