پانامہ لیکس ، کمیشن کے قیام کا فیصلہ مؤخر ، سیاستدانوں اور وکلا ء سے رابطوں کیلئے کمیٹیاں قائم

پانامہ لیکس ، کمیشن کے قیام کا فیصلہ مؤخر ، سیاستدانوں اور وکلا ء سے رابطوں ...

  



لاہور (سعید چودھری) حکومت نے پانامہ لیکس پر کوئی انکوائری کمیشن یا تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا معاملہ موخر کردیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف‘ مریم نواز، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی، وزیر اطلاعات پرویز رشید، وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف، خواجہ سعد رفیق اور سینیٹر مشاہد اللہ شریک تھے۔ انتہائی اعلیٰ سطحی ذرائع نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ سردست انکوائری کمیشن بن رہا ہے اور نہ ہی پانامہ لیکس کے حوالے سے کوئی تحقیقاتی کمیٹی یا ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے۔ حکومت نے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ تحقیقات کے حوالے سے کیا کرنا ہے۔ اجلاس میں شریک ایک اہم شخصیت کے مطابق اتفاق رائے سے طے پایا ہے کہ ’’سیاسی اور دیگر متعلقہ حلقوں کو ’’انگیج‘‘ رکھا جائے‘‘۔ انہوں نے مزید بتایاکہ اس حوالے سے مختلف سیاسی رہنماؤں اور دیگر حلقوں کی اہم شخصیات سے جلد ہی مشاورتی عمل شروع کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اٹارنی جنرل نے تجویز دی کہ پانامہ لیکس کا معاملہ عدالت میں ہے اور کسی حتمی فیصلہ پر پہنچنے سے قبل عدالتی فیصلے کا انتظار کرلیا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس تجویز کو سراہا تاہم اس سلسلے میں پالیسی بیان مناسب وقت پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں انکوائری کمیشن سے متعلق چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کے ریمارکس کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ حاضر سروس ججوں پر مشتمل انکوائری کمیشن تشکیل دینے کے باب کو بند تصور کیا جائے جبکہ ریٹائرڈ ججوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ اس سلسلے میں کئی ریٹائرڈ ججوں کے نام زیر غور آئے۔ ایک اعلیٰ شخصیت نے ’’پاکستان‘‘ کے استفسار پر کہا کہ ’’تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو‘‘ اس وقت مناسب ترین حکمت عملی ہے۔ جب پوچھا گیا کہ پانامہ لیکس پر تحقیقات کا کیا بن رہا ہے تو اعلیٰ شخصیت نے کہا ابھی کچھ نہیں بن رہا۔ اگلا قدم کیا ہوگا اس کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل انکوائری کمشن سے متعلق وزیراعظم کے بیان کی پاسداری کی جائے تاہم یہ کمیشن کب تشکیل پائے گا اس بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا جائے گا۔دریں اثنائحکومت کا پانامہ لیکس پر اپوزیشن کی جانب سے مذموم مقاصد کی خاطر وزیراعظم کی ذات اور خاندان پر لگائے جانے والے مضحکہ خیز الزامات کا ہر فورم پر موثر جواب دینے کا فیصلہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے اقتصادی ایجنڈے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، عوامی ترقی اور تعمیر کے سفر کو الزامات اور اپنی ذاتی خواہشات کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا،حکومت نے اس سے پہلے بھی ایسی سازشوں اور سازشی عناصر کا مقابلہ کیا اور سرخر ہوئی اور اس مرتبہ بھی تمام سیاسی اور قانونی محاذوں پر ان سازشوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔ جمعرات کو وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن )کے سنیئر رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف،وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف ،وفاقی وزراء سینیٹر پرویز رشید،جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ، زاہد حامد، خواجہ سعد رفیق،خواجہ محمد آصف،اٹارنی جنرل آف پاکستان ،سینیٹر مشاہد اللہ نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کی مکمل اور جلد صحت یابی کیلئے دعا کی گئی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن کی جانب سے مذموم مقاصد کی خاطر وزیراعظم کی ذات اور خاندان پر لگائے جانے والے مضحکہ خیز الزامات کا ہر فورم پر جواب دیا جائے گا،اجلاس کے شرکاء کا کہناتھا کہ مسلم لیگ(ن) اس سے پہلے بھی اس طرح کی تمام سازشوں اور سازشی عناصر کا مقابلہ کیا اور اس میں سرخرو ہوئے اور اس مرتبہ بھی تمام سیاسی اور قانونی محاذوں پر ان سازشوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے اقتصادی ایجنڈے کے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور عوامی ترقی اور تعمیر کے سفر کوبھی،الزامات اور اپنی ذاتی خواہشات کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عوام اور تمام سیاسی قوتوں کو ملکی ترقی اور خوشحالی پر اس مذموم ایجنڈے کے اثرات سے آگاہ کیا جائے گا اور انہیں اعتماد میں لیا جائے گا، اجلاس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے شرکاء کو وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پہنچاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ سازشیوں کو اہمیت نہ دی جائے اور اس پر وقت ضائع کرنے کی بجائے پوری توجہ ملکی ترقی کے منصوبوں کو مکمل کرنے پر دی جائے۔

مزید : صفحہ اول


loading...