نواز شریف مستعفی ہو جائیں ، عمران خان ، وزیراعظم پر کوئی الزام نہیں ، چودھری نثار

نواز شریف مستعفی ہو جائیں ، عمران خان ، وزیراعظم پر کوئی الزام نہیں ، چودھری ...

  



  لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایک ہی طیارے کے ذریعے لندن پہنچ گئے جہاں وزیر داخلہ چوہدری نثار دو گھنٹے قیام کے بعد اہل خانہ کے ہمراہ جرمنی روانہ ہوگئے ۔ ذرائع کے مطابق طیارے میں پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین نے خصوصی طور پر اپنی سیٹ وزیر داخلہ چوہدری نثارکے لئے خالی کی اس دوران چوہدری نثار اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے درمیان مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے چوہدری نثار سے کہا کہ پانامہ لیکس کے بعد نواز شریف کو استعفیٰ دے دینا چاہیے ان کے وزیر اعظم رہنے کا اب کوئی جواز نہیں ہے اس پر چوہدری نثار نے کہا کہ نواز شریف پر کوئی الزام نہیں ہے آپ ان کے استعفے کے معاملے کو چھوڑ دیں ہم پاناما لیکس کے معاملات کی تحقیقات کرانے کو تیار ہیں اس سلسلے میں کمیشن جلد ہی باضابطہ طور پر تحقیقات کا آغاز کر دے گا ۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے 24 اپریل کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسے کے حوالے سے کہا کہ وہ ہر صورت ایف نائن پارک میں جلسہ کرینگے اس پر چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینگے ۔ پی ٹی آئی 24اپریل کے جلسے کے حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ سے رابطے میں رہے ۔ طیارے میں گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اپنے زمانہ طالبعلمی کے حوالے سے ماضی کی یادوں کو بھی تازہ کیا ۔ عمران خان نے چوہدری نثار سے کہا کہ آپ کے دور میں کرکٹ تباہ ہو کر رہ گئی ہے ۔ حکومت کو اس سلسلے میں کچھ کرنا چاہیے ، عمران خان نے دو روز قبل چوہدری نثار کی پریس کانفرنس کے حوالے سے اپنے بارے میں تنقید پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرے حوالے سے سخت باتیں کی ہیں جو نہیں کرنی چاہیے تھیں اس پر چوہدری نثار نے کہاکہ ہمارے لیڈر کے خلاف کوئی بھی بات کرے گا تو ہم بھی اس کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار جرمنی سے نیوپارک جائیں گے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے ۔ ملاقات لندن/لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک،نمائندہ خصوصی) تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ہیتھرو ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیامیں پاناما لیکس پر ہلچل مچی ہوئی ہے۔ وزیراعظم اور ان کے خاندان پر بہت بڑے الزامات ہیں۔ ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن قبول نہیں جبکہ لندن میں 3 فرانزک کمپنیوں سے ملاقات ہو گی۔ انہوں نے کہا پاناما لیکس کے معاملے پر آزاد کمیشن انکوائری کرے ہم بھی مدد کریں گے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقات ہوں تو دھرنا نہیں ہو گا اور اگر انصاف نہ ملا تو دھرنا آخری آپشن ہو گا۔ عمران خان نے کہا 24 اپریل کا جلسہ ایف نائن میں ہی کریں گے اس حوالے سے جہاز میں وزیر داخلہ سے بات کی ہے قبل ازیں لندن روانگی سے قبل لاہور ائر پورٹ پر میڈیا سی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب کرپشن کی بات کی جائے تو اس وقت جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے ،انہوں نے کہاکہ جمہوریت تو آئس لینڈ میں ہے ،پہلانام آتے ہی استعفیٰ دے دیا اور جمہوریت تو برطانیہ میں ہے، ڈیوڈ کیمرون نے خود جاکر ہاؤس آف کامن میں کھڑے ہو کر اپنی صفائی پیش کی ہے اور ایک ایک چیز بتائی ہے اور اپنے ٹیکس ریٹرن بھی اس نے چھاپے ہیں یہ ہے جمہوریت ، جب پاکستان میں کرپشن کی بات آئے تو کہتے ہیں جمہوریت خطرے میں ہے یہ جمہوریت نہیں ، جمہوریت کی آڑ میں اپنی کرپشن کو چھپاتے ہیں اوراپنا احتساب سے بچنے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں اورپھر سب کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے ، عمران خان نے کہاکہ اپوزیشن اور حکومت دونوں پانامہ لیکس کے معاملے پر اپنے لیڈروں کی کرپشن چھپانے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اب ان کو بھاگنے نہیں دیں گے اور بھر پور احتساب کیا جائے گا، انہوں نے کہاکہ پاکستان سے پیسہ چوری ہو کر باہر جار ہا ہے اور ملک کو مقروض کر دیاہے اور یہ لوگ پیسہ ملک سے باہر بھیج رہے ہیں ، اب کرپشن کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کا پاکستانیوں کو ایک سنہری موقع ملا ہے ، انہوں نے کہاکہ صاحب اقتدار آتے ہیں ملک کو لوٹنے کے لئے اور پھر سارا پیسہ باہر لے جا کر محلات بناتے ہیں اور عیاشیاں کرتے ہیں اور موقع ملاہے ان کا احتساب کریں گے، انہوں نے کہاکہ لندن میں دو سے تین فرانزک کمپنیوں سے بات چیت کرچکے ہیں، ان کمپنیوں کو اورسیز پاکستانی پیسے ادا کریں گے، اب ہم ان کو چھوڑنے والے نہیں، اس معاملے پر سنجیدگی سے تحریک چلائیں گے اور ان کو بے نقاب کریں گے، اس موقع پر جہانگیر ترین ، عبدالعلیم خان، عون چوہدری اور شعیب صدیقی بھی موجود تھے ۔

مزید : صفحہ اول