لاہورمیں زائدالمیعادعمارتیں زمیں بوس ہوناکوئی نئی بات نہیں

لاہورمیں زائدالمیعادعمارتیں زمیں بوس ہوناکوئی نئی بات نہیں

  



لاہور(رپورٹ۔ محمدیو نس با ٹھ) مصر ی شا ہ میں ایک اور چھت گر گئی۔ 6 ما ہ قبل سا نحہ سندر میں 50 سے زائد افراد فیکٹر ی کی عمارت گر نے سے جا ں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو ئے یہ امر کسی طو ر پر خطر ے سے خا لی نہیں کہ شہر میں سینکڑ وں خستہ حال اور بو سید ہ عما ر تیں مو ت کے ہا تھ پھیلا ئے کسی لمحے بھی اسی قسم کے سا نحہ کا اعا دہ کر سکتی ہیں ۔ستم با لا ئے ستم یہ کہ اس قسم کے وا قعا ت کی رو ک تھا م کے لیے قا ئم کر دہ ادارے نا صر ف خا مو ش تما شا ئی بنے ہو ئے ہیں بلکہ مجر ما نہ غفلت کے مر تکب بھی ہو رہے ہیں ۔اس حو الے سے کیے گئے ایک محتا ط سروے کے مطا بق دس ستمبر 2014 کو لاہور کے علاقہ داروغہ والا میں مسجد کی چھت منہدم ہو گئی جس میں تقریبا 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 8 فروری 2012 لاہور کے علاقہ ملتان روڈ پر ایک کارخانہ منہدم ہو گیاجس میں تقریبا 25کے قریب 21اگست 2006 اندورن شہر میں مکان گرنے سے چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بیس جولائی 2006 لاہور اسلام پورہ میں بلڈنگ گرنے سے چار افراد ہلاک ہوئے ۔ عما رت کے گرنے اور منہدم ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں عمارات کی تعمیر میں استعمال ہونے والا میٹریل ، تکنیکی خرابیاں اور سب سے بڑھ کر ماہرین کی رائے کو نظر اندا ز کیا جانا وغیرہ شامل ہیں۔دیگر اسباب میں قدیم اور شکستہ عمارتوں کی مرمت پر توجہ نہ دینا بھی شامل ہے۔ وسائل کی کمی بھی اس کی بڑی وجہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اندر شعور اور احساس ذمہ داری کب بیدار ہو گا کہ ہم قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روک سکیں اور تمام حفاظتی تدابیر کو مدِ نظر رکھ کر عمارات کی تعمیر کو ممکن بنائیں۔ہمارا یہ دستورہی بن چکا ہے کہ جب تک کوئی حادثہ رونمانہ ہوجائے ہم سد ھرتے نہیں۔ انتظامیہ بھی ’’کارروائی کریں گے‘ کا نعرہ لگا کر میٹھی نیند سو جاتی ہے۔ تھوڑا اور بہتر کریں تو مرنے والوں اور زخمیوں کی سرکاری خزانے سے مالی امداد کر کے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ سال ہا سال سے بارشوں کے موسم میں مکانات ، عمارات اور چھتوں کے گرنے کے حادثے رونما ہو رہے ہیں۔ قیمتی انسانی جانیں حادثات کا شکار ہو کر ضائع ،زخمی یا مفلوج ہو جاتی ہیں مگر ہماری گورنس ہے کہ بدلنے کا نام نہیں لے رہی۔ہمارے پاس حادثات سے نمٹنے کیلئے جدید مشینری نہیں ہوتی۔ اگر کہیں ہوتی بھی ہے تو تنگ وتاریک گلیوں میں سے اْس کاگزر نہیں ہوسکتا اور امدادی کارروائیوں میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو پاتی۔ گزشتہ بیس، پچیس برسوں سے لاہور میں اندرون شہر کے مختلف علاقوں میں دھڑادھڑ کثیر منزلہ عمارتیں بن رہی ہیں۔ان کی تعمیر کے وقت کسی انجینئر سے ڈایزائننگ نہیں کرائی جاتی۔

مزید : صفحہ اول


loading...