مصطفے کمال نے ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا باقاعدہ مطالبہ کر دیا

مصطفے کمال نے ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا باقاعدہ مطالبہ کر دیا

  



تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

’پاک سرزمین پارٹی‘‘ اب قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی ہے، جن لوگوں کا یہ خیال تھا کہ مصطفی کمال چند دن میں ٹھنڈے ہوکر بیٹھ جائیں گے، ان کا خیال درست ثابت نہ ہوا، اب ان کی آئندہ ’’پیش گوئیوں‘‘ کو کیوں کر درست مان لیا جائے؟ کراچی میں ایک حلقے کا یہ بھی خیال ہے کہ بالآخر ’’پاک سرزمین پارٹی‘‘ کی قیادت (گورنر سندھ) ڈاکٹر عشرت العباد سنبھال لیں گے، ان کے اس خیال کی صداقت تو اس وقت سامنے آئے گی، جب عشرت العباد کے پاس گورنر کا عہدہ نہیں رہے گا، اب تک تو وہ تمام ریکارڈ توڑنے کے باوجود اس منصب پر فائز ہیں، ندیم ملک کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے اس سوال کو قبل از وقت قرار دیا کہ جب وہ گورنر نہیں رہیں گے تو کس سیاسی جماعت میں شامل ہوں گے۔ ڈاکٹر عشرت العباد کو گورنر تو ایم کیو ایم ہی نے بنوایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا نام بعض اہم مقدمات میں آتا تھا جو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی مہربانی سے ختم ہوئے، جنہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ایم کیو ایم کی سرپرستی کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ صدر کی مہربانی ہی تھی کہ پہلے تو عشرت العباد کو مقدمات میں کلین چٹ دی گئی جن میں بعض خاصے حساس تھے، پھر انہیں گورنر بنایا گیا اور بطور گورنر ایسے اختیارات بھی دیئے گئے جو کسی دوسرے صوبے کے گورنر کو حاصل نہ تھے اور نہ آئین ان اختیارات کی اجازت دیتا تھا، جنرل پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کو وفاق اور صوبے کے اقتدار میں شریک کیا اور صوبے میں اختیارات کی تقسیم اس انداز سے کی کہ وزیراعلیٰ کے بعض اختیارات گورنر کی جھولی میں ڈال دیئے، اس وقت سے اب تک ڈاکٹر عشرت العباد گورنر چلے آ رہے ہیں، جنرل پرویز مشرف کے بعد پیپلز پارٹی پانچ سال تک اقتدار میں رہی، اس نے بھی نہ صرف ڈاکٹر عشرت العباد کو گورنر کے عہدے پر برقرار رکھا بلکہ ایم کیو ایم کو بھی اس سارے عرصے میں شریک اقتدار رکھا، لیکن ایم کیو ایم ے کئی بار استعفا دیا اور اس کے وزیر روٹھ کر گھر بیٹھ گئے لیکن پھر عبدالرحمان ملک کی کوششوں سے مان بھی گئے۔ گورنر کا تعلق چونکہ ایم کیو ایم سے تھا اس لیے ان سے بھی توقعات وابستہ کی گئیں، لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کے تمام مطالبات یا تو ڈاکٹر عشرت العباد مان نہیں سکتے تھے یا پھر انہوں نے اس سلسلے میں کوئی حدود متعین کر رکھی تھیں۔ جب مطالبات ان سے بڑھ گئے تو پھر اختلافات سامنے آنے لگے اور ایک مرحلے پر ایم کیو ایم نے انہیں ’’ڈس اون‘‘ کردیا اور باقاعدہ برطرفی کا مطالبہ بھی کر ڈالا لیکن یا تو عشرت العباد کے ستارے بہت طاقتور ہیں یا پھر ان کے کوئی ایسے سرپرست ہیں جو انہیں اس عہدے پر دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر ان کی خدمات ایسی ہیں جن کی وجہ سے اگر جنرل پرویز مشرف نے انہیں گورنر بنایا تو پیپلز پارٹی بھی پورے عرصہ اقتدار میں ان سے راضی رہی، اب مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بھی تین سال ہونے کو آئے ہیں اس دوران کئی بار یہ قیاس آرائیاں ہوئیں کہ عشرت العباد کو ہٹایا جا رہا ہے، لیکن کوئی قیاس آرائی درست ثابت نہیں ہوئی۔

سیاست میں حصہ لینے کا مقصد اگر حصول اقتدار ہوتا ہے تو جو شخص پہلے ہی اقتدار میں ہے اور راوی اس کیلئے چین ہی چین لکھتا ہے اسے کیا ضرورت آ پڑی ہے کہ وہ مصطفی کمال کی پارٹی جوائن کرکے پھولوں کی سیج چھوڑ کر کانٹوں کے بستر پر لیٹ جائے۔ البتہ انہوں نے درست طور پر یہ کہا ہے کہ جب وہ گورنر کے عہدے پر نہیں رہیں گے تو پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ وہ سیاست کریں تو کس پلیٹ فارم سے۔ اب ایم کیو ایم سے تو وہ نکالے جاچکے، کیا بدلے ہوئے حالات میں وہ دوبارہ ایم کی ایم جوائن کرنا چاہیں گے؟ ہمارے خیال میں اس عرصے کے دوران پلوں کے نیچے سے جتنا پانی بہہ چکا ہے اور جتنے الزامات سامنے آچکے ہیں ان کے ہوتے ہوئے ایم کیو ایم میں جانے سے بہتر ہوگا وہ خاموشی سے گھر بیٹھ جائیں۔ ویسے ابھی انہیں گورنر سے ہٹا کون رہا ہے کہ اس سوال پر غور کیا جائے؟ ایم کیو ایم کی واپسی کی راہ بھی آسان نہیں ہوگی۔

البتہ مصطفی کمال اب ایم کیو ایم پر براہ راست مہلک حملے کرنے لگے ہیں اور انہوں نے اس پر باقاعدہ پابندی کا مطالبہ کردیا ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ ’’را‘‘ سے تعلقات کے اتنے ثبوت مل جانے کے باوجود اب مزید ثبوتوں کی کیا ضرورت رہ گئی ہے؟ تازہ ترین تو شہریار نیازی کی جانب سے آئے ہیں جن کی وضاحتیں عبدالرحمان ملک بھی کر رہے ہیں، جن کے بارے میں شہریار کا کہنا ہے کہ وہ خود اس بات کے گواہ ہیں کہ برطانوی حکومت نے عبدالرحمان ملک کو بتا دیا تھا کہ الطاف حسین کے ’’را‘‘ سے تعلقات ہیں اور الطاف حسین خود ان کا اعتراف کرچکے ہیں، اب مصطفی کمال اگر ایم کیو ایم پر پابندی کی بات کر رہے ہیں تو ایسے ہی ثبوتوں کی روشنی میں کر رہے ہیں۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اس معاملے کو زیادہ شدومد سے اٹھائیں گے۔

مزید : تجزیہ


loading...