حکومت گندم کی وافر مقدار کو ذخیرہ کرنے کی جامع حکمت عملی نہ بنا سکی

حکومت گندم کی وافر مقدار کو ذخیرہ کرنے کی جامع حکمت عملی نہ بنا سکی

  



لاہور ( اسد اقبال )ملک میں موجود گندم کے وافر ذخیرے کو ٹھکانے لگانے کے لئے محکمہ خوراک و زراعت اور حکومت کوئی جامع حکمت عملی نہ بنا سکی ہے جبکہ رواں سیزن میں گندم کی بمپر کراپ کاشت ہونے سے حکومت کو کسانوں سے خریدی گئی گندم کو محفو ظ بنانے میں مشکلات کا سامنا لاحق ہوگا ۔واضح رہے کہ پنجاب بھر میں 20اپریل سے گندم کی کٹائی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں رواں سیزن میں 2 کروڑ 53 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار متوقع ہے۔ ملک میں پہلے ہی 40 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔ حکومت فی ٹن گندم ایکسپورٹ کرنے پر اوسط 5000 روپے اپنی جیب سے دے رہی ہے تاکہ ایکسپورٹر گندم سستی کر کے بیچیں لیکن اس کے باوجود یہ عالمی خریداروں کیلئے خسارے کا باعث ہے۔ دوسری جانب محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق صوبہ بھر میں گندم کی کٹائی کا کام بیس اپریل سے سے باقاعدہ شروع ہوجائیگا اور گندم کی خریداری کیلئے باردانہ کی تقسیم کا عمل شروع جاری کر دیا گیا ہے تاہم تحصیل اور ٹاؤن سطح پر بھی کاشتکاروں کی سہولت کیلئے باردانہ مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔محکمہ زراعت کے مطابق چند اضلاع میں گندم کی کٹائی شروع کر دی گئی ہے جبکہ ،ساہیوال،سرگودھا ، گجرات، گوجرانوالہ، نارروال، سیالکوٹ، قصور سمیت متعدد اضلاع میں گندم کی کٹائی کا سلسلہ بیس اپریل سے شروع ہوگا۔پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن کے سابق مرکزی چیئر مین عاصم رضا نے پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ رواں سیزن میں بھی گندم کی بھر پور کراپ حاصل ہوگی جبکہ ملک میں گزشتہ سیزن کی لاکھوں بوریاں ابھی بھی سر کاری گوداموں میں پڑی ہیں ۔حکو مت کو چاہیے گندم پر ربیٹ دیتے ہوئے اضافی گندم ایکسپورٹ کر نے کی اجازت دے کیو نکہ بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق پاکستان میں گندم کی قیمت دنیا بھر میں زیادہ ہے جس کے لیے محکمہ کو تھنک ٹینک پالیسی بنا نا ہو گی ۔

مزید : صفحہ آخر