پانامہ لیکس کے تحقیاقاتی عمل کو ملک کے باہر مؤثر انداز میں مکمل کیا جائے: سپریم کورٹ بار کا مطالبہ

پانامہ لیکس کے تحقیاقاتی عمل کو ملک کے باہر مؤثر انداز میں مکمل کیا جائے: ...

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے مجوزہ انکوائری کمشن کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ لوگوں کے خلاف ثبوتوں کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کے کرپشن کے خلاف کنونشن سے استفادہ کیا جائے اور ایسا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے جس کے تحت ملک کے باہر تحقیقاتی عمل کو مؤثر انداز میں مکمل کیا جاسکے ۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید علی ظفر کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس میں موجود شواہد اور انکشافات نے وزیر اعظم نواز شریف کی ذات پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سے اعتراضات کھڑے کر دیئے ہیں اور ایسے حالات میں انکا وزیر اعظم کی کرسی پر فائز رہنا نا ممکن ہے جب تک کہ وہ خود پر لگے الزامات کو غلط ثابت نہیں کردیتے ۔ انہوں نے اس بات کی یاد دہانی بھی کروائی کہ اس معاملہ پر سید علی ظفر نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سطح پر ثالثی کا کردار نبھانے کی پیشکش کی تھی تو تب حکومت اور اپوزیشن اس پر سنجیدہ نظر نہیں آئی،اس وقت حکومت اس بات پر زیادہ سنجیدگی سے غور و فکر کر رہی تھی کہ کمیشن کے ممبران کون ہوں گے۔سید علی ظفر نے کہا کہ ان کی نظر میں یہ مسئلہ اہم نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان سے باہر تحقیقاتی عمل کو کیسے سر انجام دیا جاسکتا ہے اور کیسے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حکومت اور اپوزیشن کے کمیشن تشکیل دینے کے فیصلہ کو رد کرتی ہے،چاہے کمشن کے ممبران حاضر سروس جج ہوں یا ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمشن تشکیل دیا جائے۔ انکا کہنا تھا کے ماضی میں بھی کئی کمشنز بنے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ سید علی ظفرنے مزید کہا کہ اس معاملے پر عدالتوں کو ازخود نوٹس لینے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تحقیقاتی کام سرانجام دینا عدالتوں کا کام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ایک لائحہ عمل تشکیل دینا چاہتی ہے تاکہ شواہد اور ثبوتوں کو حفاظت کے ساتھ موصول کیا جا سکے اور پراپرٹی کی ملکیتوں کی نشاندہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید بارآں سید علی ظفر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مزید صورتوں پر بھی غور و فکر کر ہی ہے کہ کیسے حکومت کو اس تحقیقاتی عمل کو سرانجام دینے کے لئے آمادہ کیا جائے۔

بار ایسوسی ایشن

مزید : صفحہ آخر


loading...