عدالتوں میں اللہ کا نام لے کر جھوٹی گواہی دی جاتی ہے: جسٹس آصف سعید کھوسہ

عدالتوں میں اللہ کا نام لے کر جھوٹی گواہی دی جاتی ہے: جسٹس آصف سعید کھوسہ

  



اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم کی بریت کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی ہے اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جبکہ دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اللہ کا حکم ہے کہ اسی کے لئے سچی گواہی دو تاہم یہاں نام اللہ کا لے کر جھوٹی گواہی دی جاتی ہے ۔ جھوٹے گواہوں کی وجہ سے اصل ملزم آسانی سے بری ہو جاتے ہیں اور بے گناہ پکڑے جاتے ہیں لوگ صرف عدالتوں پر الزام لگاتے ہیں اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے ۔ جمعرات کے روز مقدمہ کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔درخواست گزار کی جانب سے وکیل محمد حمید کے جان عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیئے درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عقیل نے 2008 میں مقتول عباس کو سرعام بازار میں قتل کیا اس کی شہادتیں موجود ہیں تاہم ہائی کورٹ ملزم کو بری کر چکی ہے ملزم کی بریت کو معطل کیا جائے ملزم کو نومبر 2010 میں ہائی کورٹ کی جانب سے بری کیا گیا ہے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سے اتفاق نہ کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ملزم عقیل کو بری کر دیا تھا ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...