لینڈ ریکارڈ انفارمیشن منیجمنٹ سسٹم میں 2ارب روپے کی مبینہ کرپشن، ملی بھگت سے ریکارڈ غائب

لینڈ ریکارڈ انفارمیشن منیجمنٹ سسٹم میں 2ارب روپے کی مبینہ کرپشن، ملی بھگت سے ...

  



لاہور(اپنے نمائندے سے)وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی نشاندہی اور ضلعی انتظامیہ کے زیر نگرانی چلنے والے ایل آر آئی ایم ایس سسٹم میں 2ارب روپے کی کرپشن کے خلاف (نیب) سے تحقیقات کے مطالبے کے بعد ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور کے افسران اور کارخاص ملازمین نے راتوں رات ریکارڈ غائب کروا دیا بڑے بڑے پردہ نشین، بیورو کریٹس ملازمین اور پرائیویٹ کمپنی کے ٹھیکیداروں کے مفادات چھپانے کے لئے تیاریاں شروع، محکمہ ریونیو کی مخصوص لابی ایک مرتبہ پھر سے حرکت میں آ گئی روزنامہ پاکستان کو ملنے والی چند معلومات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کی تقریب سے نیب کے تمام افسران سے مخاطب ہوئے 2002سے لیکر2008تک ضلع انتظامیہ کے زیر نگرانی چلنے والے کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ سسٹم میں ہونے والی2ارب روپے کی خطیر رقم کی ناصرف نشاندہی کی بلکہ فوری طور پر ریکارڈ قبضے میں لیکر اس کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے اس مطالبے کے بعد جہاں قومی احتساب بیورو پنجاب کے افسران حرکت میں آ چکے ہیں تو دوسرئی جانب محکمہ ریونیو کے مفادات پرست ٹولے کی نیندیں بھی حرام ہو چکی ہیں، مبینہ طور پر ملنے والی اطلاعات کے مطابق محکمہ ریونیو کی اسٹیبلشمنٹ برانچ، ڈسٹرکٹ ناظر برانچ، اے ڈی سی آر دفتر اور ڈی سی او لاہور کے ماتحت سٹاف نے راتوں رات سابق ادوار میں پائی جانے والی کرپشن کے تمام ثبوت مٹانے کے لئے ٹرک اور گاڑیوں میں اہم نوعیت کے تمام دستاویزات ثبوت غائب کروا دئیے ہیں۔ ذرائع نے مزید آگاہی دی کہ اس تمام کاروائی میں اے او ایس کمپنی کے چند نمائندے جو کہ اس وقت لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم کا بھی حصہ ہے وہ بھی متحرک ہو چکے ہیں جبکہ ریونیو سٹاف اور افسران بھی اس کاروائی میں برابر کے شامل ہیں ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ لاکھوں روپے مالیت کا قیمتی فرنیچر، کمپیوٹر سسٹمز، لیپ ٹاپ اور دیگر قیمتی سامان گاڑیوں میں ڈال کر لے گئے ہیں ۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ اس وقت کے اکاؤنٹ کا حساب کتاب سے متعلقہ تمام دستاویزاتی ریکارڈ بھی گذشتہ روز ایک آفیسر اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گیا اس تمام کاروائی میں موجودہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کا ملوث ہونا اور اس طرح کی واردات ڈالنا ایک مشکوک عمل بن کر سامنے آیا ذرائع نے مزید آگاہی دی کہ موجودہ سیٹ اپ میں بھی وہ تمام افسران و اہلکاران ریکارڈ سامنے آنے کی صورت میں پھنستے ہیں جنہوں نے اس وقت حکومتی خزانے پر ہاتھ صاف کئے اور بڑی جائیدایں بنائیں تو دوسری جانب ڈسٹرکٹ ناظر اور سیٹلمنٹ برانچ کے سٹاف کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کا کوئی علم نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہمارے پاس رہا ہے بلکہ اس حوالے سے تمام ریکارڈ ٹاؤن ہال بھجوا دیا گیا تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس وقوعہ کی صحیح معنوں میں تحقیقات شروع کر دی گئی تو وہ تمام عناصر اور کرپٹ افسران پھنس جائیں گے جنہوں نے قومی خزانے کے2ارب روپے لوٹے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...