رینجرز کی قادر پٹیل سے 8گھنٹے تک تفتیش ،گھر جانے کی اجازت دیدی

رینجرز کی قادر پٹیل سے 8گھنٹے تک تفتیش ،گھر جانے کی اجازت دیدی

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) رینجرز نے پیپلزپارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل کو 8 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعدگھر جانے کی اجازت دے دی ہے ۔ذرائع کے مطابق مطابق رینجرز کی طلبی پرجمعرات کو پیپلزپارٹی کے رہنما قادر پٹیل رینجرز ہیڈکوارٹر پہنچے۔ قادر پٹیل کو عزیر بلوچ کے سامنے بٹھا کر تفتیش کی گئی ۔عزیر بلوچ کو دیکھ کر قادر پٹیل نے نظریں جھکا لیں۔ تفتیش کاروں نے دوران تفتیش چبھتے ہوئے سوالات کئے تو ان کی اچانک طبیعت بگڑ گئی اور وہ سرمیں درد اور بلڈ پریشر کی شکایت کرتے رہے۔ تفتیش کاروں کے سوالات کے دوران وہ بار بار پانی بھی پیتے رہے جس کے بعد تفتیش روکنا پڑی۔پیپلزپارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے رینجرز کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے تمام رہنما عزیر بلوچ سے مدد لیتے تھے ۔ قادر پٹیل سے پوچھ گچھ کے دوران اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی ہے ۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق رینجرز کے تفتیش کاروں نے سوال کیا کہ عزیز بلوچ کو کب سے اور کیسے جانتے ہیں جس پر قادر پٹیل کا کہنا تھا کہ عزیر بلوچ سے قریبی تعلقات ہیں۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ عزیر بلوچ نے قتل، اغوا برائے تاوان میں آپ کا اور پی پی رہنماؤں کا نام لیا ہے، کیا آپ نے اسے ملک سے فرار کرانے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا جس پر قادر پٹیل نے کہا کہ عزیر بلوچ ایرانی پاسپورٹ کے ذریعے ملک سے کیسے فرار ہوا اس کا مجھے کوئی علم نہیں۔رینجرز تفتیش کاروں نے پوچھا کہ خالد شہنشاہ اور دیگر کے قتل میں کون ملوث ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا تمام معاملات دیکھتے تھے تاہم میرے عزیر بلوچ سے قریبی تعلقات ہیں لیکن خالد شہنشاہ کے قتل کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔عبدالقادر پٹیل سے تفتیش میں انکشاف ہوا کہ پی آئی اے کے ملازم اور پیپلز یوتھ کے صدر عامر کو سہیل ڈاڈا گروپ نے گلستان جوہر میں قتل کیا تھا ۔تفتیش کاروں نے قادر پٹیل سے سوال کیا کہ ہاکس بے اوربلدیہ ٹاؤن میں ہونے والی چائنا کٹنگ میں کون کون ملوث ہے ۔قادر پٹیل سے کے پی ٹی کی سرکاری اراضی فروخت کرنے سے متعلق بھی سوالات کیے گئے ۔عبدالقادر پٹیل نے دوران تفتیش بتایا کہ تمام معاملات ڈیفنس فیز 8 کے بنگلے میں طے ہوتے تھے ۔وہاں کچھ سیاسی رہنماؤں کے علاوہ گینگ وار کے افراد بھی موجود ہوتے تھے۔تفتیشی افسر نے ان سے استفسار کیا کہ گینگ وار کے سر غنہ عزیر بلوچ اور دیگر ملزمان شہر میں نقل وحرکت کے لیے اپ کی گاڑی استعمال کرتے تھے جس پر قادر پٹیل نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے .میں نے کبھی ایسا نہیں کیا ۔ قادر پٹیل سے ایک اور سوال کیا گیا کہ عزیربلوچ کے کہنے پر کون کون سے پولیس افسران کوتعینات کرایا اور وہ پولیس افسران کون ہیں جوگینگ وارسے پیسے لیتے ہیں جس پر ان کا کہنا تھا کہ میں نے کسی پولیس افسر کو تعینات نہیں کرایا، اس وقت کے وزیرداخلہ ہی تمام معاملات دیکھتے تھے اور ایسے کسی پولیس افسر کو نہیں جانتا جو گینگ وار سے پیسے لیتا ہو۔تفتیش کاروں نے منی لانڈرنگ سے متعلق پوچھا کہ کروڑوں روپے آپ کے رشتہ داروں کے اکانٹ میں لندن اورعرب ممالک منتقل کئے گئے جس پرانہوں نے سرمیں درد اوربلڈ پریشرکی شکایت کی جب کہ اس موقع پر رینجرزکا ایک ڈاکٹر بھی موجود تھا تاہم قادر پٹیل کی طبیعت بگڑنے پر تفتیش روک دی گئی۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...