وزیر اعلیٰ کی صنعتی زونز کو سپیشل اکنامک زونز میں شامل کرنے کیلئے کیس وفاق کو ارسال کرنے کی ہدایت

وزیر اعلیٰ کی صنعتی زونز کو سپیشل اکنامک زونز میں شامل کرنے کیلئے کیس وفاق کو ...

  



پشاور(پاکستان نیوز)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے عوامی صحت کی بہتری کیلئے صفائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صفائی نصف ایمان ہے اسلئے صفائی پر وسائل خرچ کرنے سے ہی بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج رنگ روڈ پشاور میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور کیلئے خریدی گئی جدید ٹیکنالوجی سے لیس خصوصی گاڑیوں کی افتتاحی تقریب کے موقع پر کیا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات مشتاق احمد غنی،مشیر عارف یوسف ، اراکین صوبائی اسمبلی شوکت یوسفزئی، جاوید نسیم کے علاوہ ضلع ناظم پشاور محمد عاصم، منتخب ناظمین، کونسلرز اور رضا کار بھی موجود تھے۔ تقریب سے ڈبلیو ایس ایس پی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین خالد مسعود، چیف ایگزیکٹیو محمد نعیم خان اور جنرل منیجر آپریشنز ناصر غفور نے خطاب کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے جدید گاڑیوں کا باضابطہ افتتاح کرکے ڈبلیو ایس ایس پی کے فلیٹ میں شامل کیا۔ وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صفائی کیلئے جدید آلات سے لیس گاڑیوں کی فراہمی کو ایک خوش آئند امر قراردیا اور کہا کہ یہ اقدام صوبے میں حقیقی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایس ایس پی کی کاوشوں سے صفائی کی صورتحال میں 75فیصد بہتری آئی ہے لیکن اس کو مزید سو فیصد ہدف پر پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی کی صورتحال کی بہتری موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اس لئے مقامی حکومت کو صفائی برقرار رکھنے کا پابند بنایا گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ویلج کونسل اور تحصیل کونسل اپنے بجٹ کا 20فیصد صفائی پر ہی صرف کریں گے تاکہ دیہات کو صاف ستھرا رکھا جا سکے۔ انہوں نے کوہاٹ روڈ کی ابتر حالت کا نوٹس لیا اور اسے درست کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے کیلئے کوہاٹ بائی پاس روڈ منصوبے کے تحت ایکسپریس وے کی تعمیر کیلئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اسی طرح انہوں نے اعلان کیا کہ ٹریفک کی روانی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے رنگ روڈ پر پیر زکوڑی فلائی اوور کے قریب ایک اور ہیڈبرج تعمیر کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کو خوبصورت بنانے کیلئے کام جاری ہے جبکہ حیات آباد اور یونیورسٹی ٹاؤن میں سڑکوں کی تعمیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال اندرون شہر کی تمام سڑکوں کی معیاری تعمیر کیلئے اسے ایف ڈبلیو او کے حوالے کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے منشور میں تبدیلی کے وعدے کے تحت تمام محکموں کی اصلاح کیلئے کام کر رہی ہے تاکہ عام آدمی کو بہتر بنیادی سہولیات اور انصاف مہیا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طبقوں کے حقوق کے تحفظ اور اداروں میں سیاسی مداخلت کے بغیر ملک میں ترقی اور خوشحالی نہیں آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ترقیاتی کاموں کا معیار برقرار رکھنے پر توجہ دے رہی ہے اسلئے بدعنوان عناصر کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خدما ت کی فراہمی اور ترقی کیلئے عوام کو ٹیکس اور بل ادا کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام کی تبدیلی بڑا چیلنج ہے اور اس مقصد کیلئے قانون سازی کے ساتھ اداروں کی اصلاح اور خدمات کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ قبل ازیں ڈبلیو ایس ایس پی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین خالد مسعود نے کہا کہ پشاور میں صفائی کی حالت 35فیصد سے بڑھا کر 75فیصد تک بہتر کی گئی ہے اور اس کو ایک عالمی شہر کے ہم پلہ بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے چیف ایگزیکٹیو محمد نعیم خان نے کہا کہ ادارہ پشاور میں صفائی اور آب رسانی کیلئے پائیدار نظام وضع کر چکا ہے جبکہ اس کے تحت صفائی کیلئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کیلئے ٹریکنگ کا طریقہ کار بنایا گیا ہے اور عملہ کی مانیٹرنگ بھی شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے ٹسٹنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے جبکہ شہر میں 45کلو میٹر نالیوں کی صفائی کے علاوہ ایک سو گیارہ کلو میٹر بوسیدہ پانی کے پائپ تبدیل کئے گئے ہیں۔ جنرل منیجر آپریشنز ناصر غفور نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 16جدید ٹرک اور 151کنٹینرز ادارے کے حوالے کئے گئے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں 50منی ڈمپرز ،3آرم رولرز اور ایک واٹر بلڈوزر ڈبلیو ایس ایس پی کے حوالے کیا جائے گا۔

پشاور( پاکستان نیوز)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبے کے چار صنعتی زونز حطار فیز 7 ، رشکئی ، جلوزئی اور غازی کو سپیشل اکنامک زونز میں شامل کرنے کیلئے کیس وفاقی حکومت کو ارسال کرنے کی ہدایت کی ہے وہ جمعرات کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں خیبرپختونخوا سپیشل اکنامک زونز اتھارٹی کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے صوبائی محکموں خزانہ، مواصلات و تعمیرات ، زراعت ، منصوبہ بندی و ترقیات اور آئی سی اینڈ ٹی ای کے انتظامی سیکرٹریوں، چیئرمین سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی آفتاب درانی، چیئرمین سیزا (SEZA) غلام دستگیر ، چیف ایگزیکٹیو ازمک محسن سعید، ڈائریکٹر فنانس سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی روح اﷲ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ سیکرٹری صنعت اور چیئرمین سرحد ڈویلپمنٹ اتھارٹی آفتاب درانینے اس موقع پر اتھارٹی کے بارے میں بریفینگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 2012 ء میں سپیشل اکنامک زون ایکٹ پاس کیا تھا جس کے تحت صوبائی حکومتوں کو سپیشل اکنامک زون اتھارٹی تشکیل دینے کااختیار دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا سپیشل اکنامک زون اتھارٹی بنائی گئی ہے انہوں نے بتایا کہ سیزا ایکٹ کے تحت صنعتی زونز کو درآمدات پر کسٹم ڈیوٹی ، ٹیکس اور انکم ٹیکس میں دس سال کیلئے چھوٹ دی جائے گی وزیراعلیٰ نے صوبے کے چار صنعتی زونز کو سیزا میں شامل کرنے کیلئے کیس وفاق کو بھیجنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مذکورہ صنعتی زونز کے ملازمین کے لئے بھی ٹیکس کی چھوٹ دینے کی تجویز پر سٹیک ہولڈرز سے سفارشات طلب کرنے کی بھی ہدایت کی ۔واضح رہے کہ سیز اایکٹ کے تحت سپیشل اکنامک زون میں شامل ہونے کیلئے کسی بھی صنعتی زون کا کم ازکم 50 ایکڑ یا اس سے زیادہ کے رقبہ پر محیط ہونا لازمی ہے واضح رہے کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے نہ صرف سب سے پہلے اتھارٹی تشکیل دی ہے بلکہ چار صنعتی زونز کو سیزا میں شامل کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے سفارش بھی کی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ اول


loading...