نوشہرہ پولیس کا پاکستانی نژاد برٹش آرمی کے اہلکار کے گھر پر دھاوا

نوشہرہ پولیس کا پاکستانی نژاد برٹش آرمی کے اہلکار کے گھر پر دھاوا

  



نوشہرہ(بیورورپورٹ) نوشہرہ پولیس نے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے پاکستانی نژاد برٹش آرمی کے اہلکار کے گھر پردھاوا بول کر ان کی جواں سالہ ہمشیرہ کے ہمراہ مارمار کر درگت بناڈالا پولیس نے بے گناہ پاکستانی نژاد برٹش آرمی کے اہلکار کو تھانے لے جاتے ہوئے ان کے گھر سے ساڑھے تین لاکھ روپے پاکستانی اور 500پاؤنڈ برطانوی لے اڑے متاثرہ نوجوان کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، آئی جی پی خیبرپختونخوا اور برٹش ہائی کمشنر سے داد رسی کا مطالبہ اس سلسلے میں پاکستانی نژاد برٹش آرمی کے اہلکار جہانگیر باچا سکنہ صالح خانہ حال حکیم آباد نوشہرہ نے نوشہرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ سال 2014کو پولیس اہلکار فواد خان پر میرے ہم نام شخص نے فائرنگ کی تھی جس میں وحید خان نامی ٹیکسی ڈرائیور زخمی ہوچکا تھا اور وقوعہ کے وقت میں خود انگلینڈ میں برٹش آرمی میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہاتھا لیکن پولیس اصل ملزم کی بجائے میری گرفتاری پر تلی ہوئی تھی جب 26مارچ 2016کو میں اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے پاکستان آیا تو 30مارچ کی شام ایس ایچ او تھانہ اکوڑہ خٹک خادمین پولیس کی فوج ظفر موج کے ہمراہ آیا اور انہوں نے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے میری ہمشیرہ مسماۃ کائنات کو مجھ سمیت میرے گھر کے اندر شدید تشدد کا نشانہ بنایا مجھے تھانے لے جاتے ہوئے میرے گھر میں پڑے ہوئے ساڑھے تین لاکھ روپے پاکستانی اور پانچ سو پاؤنڈ برطانوی لے اڑے اور اپنے ہمراہ موجود نفری کو بتاتا رہا کہ آج رات ان پیسوں پر موج مستیاں کریں گے مفت کا مال ہے کھاؤ پیوں مزے اڑاؤں جب پولیس کے اعلیٰ حکام کو اصل حقائق کا پتہ چل گیا تو ڈی ایس پی پبی خان خیل نے خادمین کے خلاف شکایت کرنے پر بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خاموش ہوجاؤ اور خادمین ایس ایچ او کے ساتھ راضی نامہ کردوں اگر راضی نامہ نہ کیا میرے اختیارات کے طاقت کااندازہ ہوجائے گا انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک، آئی جی پی خیبرپختونخوا ناصر درانی چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور برٹش ہائی کمشنر سے داد رسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے انصاف دلایا جائے اور ایس ایچ او خادمین اور ڈی ایس پی پبی خانخیل کے خلاف کاروائی کریں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...