پختون اور اسلامی اقدار کرے منافی سرگرمیوں کی کسی صورت اجازت نہیں :مولانا گل نصیب

پختون اور اسلامی اقدار کرے منافی سرگرمیوں کی کسی صورت اجازت نہیں :مولانا گل ...

  



چارسدہ (بیو ر و رپورٹ ) جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان نے کہا ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت با چا خان یونیورسٹی میں مخلوط میلے کا انعقاد کرکے یہودی کلچر لانے کیلئے راہ ہموار کی گئی ہے۔ با چا خان یونیورسٹی میں منعقدہ فن فےئر کے نام پر فحاشی و عریانی کا سیلاب شہداء اور ان کے لواحقین سے ظلم اور زیادتی ہے ۔ جے یوآئی کے ہوتے ہوئے پختون اور اسلامی روایات و اقدار کے منافی سرگرمیوں کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائیگی ۔حکومت اور ذمہ داراداروں نے باچا خان یونیورسٹی کے انتظامیہ کے خلاف راست اقدام نہ اُٹھایا تو جے یوآئی احتجاج کا راستہ اپنائیگی ۔ وہ اشفاق خان کی رہائش گاہ پر جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی مجلس شوری اور مجلس عمومی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اجلاس سے صوبائی نائب امیر رفیع اللہ قاسمی ، ضلعی امیر مولانا محمد ہاشم خان ،جنرل سیکرٹری مفتی پیر گوہرعلی شاہ ،مولانا عبدالرؤف شاکر ،ڈاکٹر الہی جان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ مولانا گل نصیب خان نے پارٹی کے تنظیمی امور پر اظہار خیال کر تے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ غیر یقینی صورتحال کے تناطر میں پارٹی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ کارکنوں کے ساتھ ساتھ عوام الناس سے قریبی روابط بہتر بنا کر جمعیت کا پیغام گھر گھر پہنچائے تاکہ آئندہ عام انتخابات میں مخالفین کو عبرت ناک شکست سے دوچار کریں۔ انہوں نے کہاکہ جے یوآئی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اسلامی نظام کے نفاذ اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف بر سر پیکار ہے ۔ آج ملک دشمن او ر اسلام دشمن قوتیں نہ صرف پاکستان بلکہ دین اسلام کے خلاف بھی سازشیں کر رہے ہیں جن کو ناکام بنانے کیلئے جے یوآئی ہر اول دستے کا کر دار اد ا کر رہی ہے ۔ مولانا گل نصیب خان نے کہاکہ باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے فن فےئر کے نام پر طلباء اور طالبات کیلئے یونیورسٹی کے اندر مخلوط حیا سوز تقریبات منعقد کرکے شہداء سے زیادتی اور ان کی لواحقین کے زحموں پر نمک پاشی کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہود ی لابی کے آلہ کاروں نے باچا خان یونیورسٹی میں شعائر اسلام اور پختون کلچر کا جنازہ نکال کر قہر خداوندی کو دعوت دی ہے ۔ باچا خان یونیورسٹی میں نوجوان طلباء وطالبات کو بے راہ روی پر گامزن کرانے اور پختون اقدار کی پامالی کے خلاف عوام میں پایا جانے والا اشتعال کسی بھی وقت لاوا بن سکتا ہے۔ تعلیمی درسگاہوں میں رقص و سرور کی محفلیں اور اخلاق سوز سر گرمیوں سے معماران قوم کی ذہنی اور اخلاقی کر دار سازی کی بجائے ان کو فحاشی ،عریانی اور مغربی تہذیب کے راہ پر ڈالتی ہے۔مولانا گل نصیب خان نے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ تحریک انصاف کے تمام انتخابی نعرے اور دعوے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ۔ خیبر پختون خواہ کے عوام کو سبز باغ دکھا کر مایوسی اور مسائل کے دلدل میں پھینکا گیا ہے ۔ عمران خان اور ان کے خواری تحت اسلام آباد اور تحت لاہور کو فتح کرنے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ خیبر پختون خواہ میں عوام جرائم پیشہ گروہوں ،بھتہ خوروں اور اغواء کاروں کے رحم و کرم پر ہیں۔صوبائی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے ۔ وزیر اعلی پر ویز خٹک نے تمام اختیارات بنی گالہ منتقل کر دئیے ہیں جہاں سے ریمورٹ کنڑول کے ذریعے حکومت چلائی جا رہی ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر