، سرکاری گاڑیوں میں ٹریکر لگانے کا منصوبہ بیوروکریسی کی نذر ہو گیا

، سرکاری گاڑیوں میں ٹریکر لگانے کا منصوبہ بیوروکریسی کی نذر ہو گیا

  



لا ہور (جنر ل رپورٹر) سرکاری گاڑیوں اور پٹرول کے بے جااستعمال کی مانیٹرنگ کے لئے ٹریکرز لگا کر کروڑوں کی بچت کا منصوبہ بیوروکریسی کے سرخ فیتے کی نذر ہو گیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے اپنی تعیناتی کے بعد منصوبے پر ایک اجلاس بھی نہیں بلایا۔تفصیلا ت کے مطا بق حکومت پنجاب کی جانب سے سرکاری گاڑیوں اور پٹرول کے بے جا استعمال کی روک تھام اور ان کی مانیٹرنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جس کے پیش نظر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اشتراک سے سرکاری گاڑیوں کو ٹریکر زلگانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ منصوبے کے ذریعے گاڑیوں اورپٹرول کے بے استعمال کی مد میں کروڑوں روپے کی بچت کی جا سکتی تھی۔اس وقت کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری سید مبشر رضا کی سربراہی میں منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پی آئی ٹی بی کی جانب سے سرکاری گاڑیوں میں ٹریکرز لگانے کے لئے نجی کمپنیوں سے معاملات بھی طے ہو گئے تھے اور تمام سرکاری محکموں سے زیر استعمال گاڑیوں کاریکارڈ طلب کرکے فہرستیں تیار کر لی گئی تھیں۔منصوبے کے تحت پچیس ہزار سے زائد گاڑیوں کو ٹریکرز لگانے کا حتمی پلان تیار کیا گیا تھا۔جس کے پہلے مرحلے میں سیکرٹریٹ کی سرکاری گاڑیوں کو ٹریکرز لگائے جانے تھے جبکہ دوسرے مرحلے میں پنجاب پولیس کی گاڑیوں کو ٹریکرز لگنے تھے۔ سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری سید مبشر رضا کی تعیناتی کے د وران منصوبے پر بیشتر کام مکمل ہوا تاہم موجودہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شمائل احمد خواجہ کی عدم دلچسپی کے باعث منصوبے پر مزید کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ شمائل احمد خواجہ کے دسمبر میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک اس منصوبے پر ایک بھی اجلاس نہیں بلایا جا سکا جس کے باعث کروڑوں کی بچت کا منصوبہ التواء کا شکار ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...