کوہاٹ شہر میں قائم کیلا گودام سیل ،6 لاکھ کا کیلا خراب ہونے کا اندیشہ

کوہاٹ شہر میں قائم کیلا گودام سیل ،6 لاکھ کا کیلا خراب ہونے کا اندیشہ

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) میونسپل کمیٹی کوھاٹ کے اہلکاروں نے عرصہ دراز سے شہر میں قائم کیلا گودام سیل کر دیا‘ پشاور ہائی کورٹ نے کیلے کے آڑھتیوں کو ریلیف دیا تھا ٹی ایم اے اہلکاروں نے قانون کی دھجیاں ارا کر گودام بند کروا دیا 6 لاکھ روپے کا کیلا خراب ہونے کا اندیشہ‘ نقصان کی ذمہ داری ٹی ایم اے پر عائد ہو گی ان خیالات کا اظہار کیلا آڑھتیان اور سٹور مالکان ملک رضوان‘ شفیق حسن اور محمد شفیق نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہم 1981 سے کیلا سٹور چلا رہے ہیں جو ہماری ذاتی ملکیت ہے کسی سبزی فروٹ منڈی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ٹی ایم اے اور ھنگو روڈ سبزی منڈی کا معاہدہ ختم ہونے پر اس منڈی کو نہر پل نئی سبزی منڈی منتقل کر دیا گیا وہاں کیلا سٹور قائم نہ ہونے کے سبب ہمیں پرانے سٹور میں کھیلا رکھنے کی اجازت اس شرط پر دی گئی کہ وہاں بولی یا فروخت کا کاروبار نہیں ہو گا ہم نے یہ معاہدہ قبول کر لیا مگر بعد ازاں ٹی ایم اے کے اہلکاروں نے کیلے کے ٹرک سٹور آنے سے قبل ہی راستے میں روک لیے اور اس طرح لاکھوں کا کیلا گل سڑ گیا جس پر ہم سینئر سول جج کی عدالت میں گئے تو عدالت نے ٹی ایم اے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے کر ہمیں حکم امتناعی دے دیا اور ہم نے دوبارہ کاروبار شروع کر لیا انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو لاکھوں روپے کا ٹیکس ادا کرتے ہیں مگر اس کے باوجود کیلا سٹور مالکان کو ہراساں کیا جاتا ہے اور جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی ہے حالانکہ ہم بھی پاکستانی شہری ہیں اور جائز و حلال کاروبار کر کے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایک بار پھر ٹی ایم اے کے سپرنٹنڈنٹ محمد بشیر اور انسپکٹر محمد وقاص آئے اور انہوں نے پولیس نفری کے ہمراہ کیلے کے گودام سیل کر دیئے جس میں پڑا تقریباً 6 لاکھ روپے کا کیلا خراب ہونے کا خدشہ ہے انہوں نے کہا کہ نئی سبزی فروٹ منڈی میں کیلے کا گودام نہیں اور عرصہ دراز کا قائم گودام ٹی ایم اے کے ہاتھوں خاص ہدف بنا ہوا ہے آکر ہم کہاں جائیں جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں مختلف مقامات پر سٹور قائم ہیں مگر ہمارے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر کے غیر قانونی طور پر کاروبار سے روکا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اس غیر قانونی اقدام کے خلاف ہم دوبارہ عدالت جائیں گے اور اپنے ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے ٹی ایم اے اہلکاروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...