کار لفٹروں سے مقابلے میں شہید ہیڈ کانسٹیبل سپردخاک

کار لفٹروں سے مقابلے میں شہید ہیڈ کانسٹیبل سپردخاک

  



پبی ( نما ئندہ پاکستان)کارلفٹروں کے ساتھ مقابلے میں شہید ہونے والے ہیڈکانسٹیبل تقی اللہ کو اپنے آبائی گاوءں اضاخیل بالا میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا ۔جنازے میں ڈی ائی جی مردان ریجن محمد طاہر ،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر واحد محمود،ڈپٹی کمشنر افتخار عالم،پولیس افسران،سول انتظامیہ،عمائدین علاقہ ،عزیز واقارب نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔تفصیلات کے مطابق کا ر لفٹروں اورمنشیات کے ڈیلروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں شدید زخمی اور بھر بعد میں شہید ہیڈ کانسٹیبل تقی اللہ کی نماز جنازہ پولیس لائن نوشہرہ اورآبائی گاوٗں اضاخیل بالا میں ادا کرنے کے بعد پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔پولیس کے چاک و چوبند ستے نے سلامی پیش کی ۔شہید ہیڈ کانسٹیبل تقی اللہ مورخہ 02.01.1982 کو گاوءں اضاخیل بالا میں فرمان اللہ کے گھر پیدا ہوا۔تقی اللہ 5بھائیوں اور 2بہنوں میں سے سب سے چھوٹے تھے۔۔2000میں گورنمنٹ فیڈر ل پبلک ہائی سکول نوشہرہ کینٹ سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا ۔والد واپڈا میں ملازم تھے مگر تقی اللہ کو روز اول سے محکمہ پولیس کی ملازمت پسند تھی۔31.01.2001کو ضلع نوشہرہ میں بطور کانسٹیبل بھرتی ہو ا ،اسی سال پولیس ٹرینگ کالج ہنگو سے ریکروٹ کورس پاس کیا ۔2003 میں پرائیویٹ FAپاس کیا ۔اپنی خوش اخلاقی،ذہانت کی بدولت جہاں پولیس افسران کا پسندیدہ قرار پایا تو وہاں عوام میں بھی ککی خان کے نام سے شہرت پائی۔مختلف کورسز پاس کرتے ہوئے 2011میں حوالداری کا کورس ہنگو سے پاس کیا ۔اور اسی سال شادی کے بندھن میں بھی بندہ گیا۔سال بعد اللہ نے بیٹا رحمان اللہ جبکہ سال بعد تسبیح اللہ سے نوازاا ۔ابھی چند دن قبل ہی تقی اللہ اپنی زوجہ کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد واپس ڈیوٹی پر آئے تھے۔ شہید تقی اللہ نے دو بیٹے اور ایک بیوہ سوگوار چھوڑے ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...