پنجاب اسمبلی میں شادی بیاہ سمیت 6ترمیمی قوانین کے مسودات منظور ،اپوزیشن کی ترامیم مسترد

پنجاب اسمبلی میں شادی بیاہ سمیت 6ترمیمی قوانین کے مسودات منظور ،اپوزیشن کی ...

  



لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی نے شادی بیاہ،ویجیلنس کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے6ترامیمی قانون منظورکرلئے گئے،شادی بیاہ کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو 6ماہ تک قید اور50ہزار سے لیکر20لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر،صوبے سے دہشت گردی کو کنٹرول کرنے اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ویجیلنس کمیٹیوں کے قیام کے قانون کی بھی منظوری دی گئی ہے اپوزیشن کی تمام ترامیم کثرت رائے سے مسترد،ترامیمی بل وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان نے پیش کئے ۔گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں 6بلوں کی منظوری کثرت رائے سے دی گئی جبکہ ایک بل ایوان میں متعارف کروایا گیا۔ کثرت را ئے سے منظور کئے گئے بلوں میں پہلا ترمیمی بل جنگلات پنجاب2016ء دوسرا بل فلڈ پلین ریگولیشن پنجاب2015ء تیسرا ترمیمی بل ویجیلنس کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے منظو ر کیا گیا ہے جس کا مقصد صوبہ میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے اور دہشت گردی کی روک تھام کے لئے گلی محلے کی سطح پر ویجلینس کمیٹیوں کے قیا م کے قانون میں ترامیم کی گئی ہے چوتھا بل شادی بیاہ کے آرڈیننس کو قانونی شکل دی گئی اور اس بل میں تمام فضول رسومات جن میں آتشبازی، گلیوں میں لائٹیں، شور شرابا ون ڈش سے زیادہ خورد نوش کی اشیاء شامل ہیں کی روک تھام کے لئے ایک قانون بنا دیا گیا ہے جو بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اس کے لئے سزا 6ماہ تک قید اور50ہزار سے20لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے ،اور شادی بیاہ کا وقت بھی10بجے رات تک مقرر کیا گیا ہے۔پانچواں ترمیمی بل اکنامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پنجاب2016ء اور ترمیمی بل کمیشن برائے مقام نسواں پنجاب2015ء منظور کئے گئے ہیں ، قبل ازیں مسودہ قانون ایگریکلچر،فوڈ اور ڈرگ اتھارٹی پنجاب بل2016ء ایوان میں پیش کیا گیا جسے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا اور دو ماہ میں اس کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس کے دوران جب دوسرا بل زیر بحث تھا کہ رکن اسمبلی عارف عباسی کی طرف سے کورم کی نشاندہی کی گئی سپیکر نے کورم پوار نہ ہونے پر 5منٹ تک گھنٹیاں بجانے کے لئے کہا جس کے بعد کورم پورا ہونے پر اجلاس کو دوباری جاری رکھا گیا۔ قبل ازیں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ارکان کی عدم دلچسپی،ایس اینڈ جی اے ڈی کے پارلیمانی سیکرٹری علی اصغر منڈا تیاری نہ ہونے کی وجہ سے خود ہی سوالوں کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرتے رہے،ایوان میں پیش کردہ 16میں سے7سوال زیربحث آئے6متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد ایک موخر دیگر ممبران کی عدم موجودگی کی وجہ سے نمٹا دئے گئے۔ اجلاس میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے بارے میں سوالوں کے جوابات پارلیمانی سیکرٹری علی اصغر منڈہ نے دئے ایوان میں متعلقہ محکمہ کے ک16سوالات ایوان میں پیش کئے گئے ،ممبران کی اسمبلی سیشن میں دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ9سوالوں کے متعلقہ ممبران ہی ایوان میں موجود نہیں تھے،بقیہ7سوالوں میں 6پارلیمانی سیکرٹریء کی طرف سے صحیح جواب نہ آنے پر ایس اینڈ جی اے ڈی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کردئے گئے ، ایک سوال کا جواب محکمہ کی طرف سے ہی نہیں دیا گیا تھا جسے موخر کردیا گیا اور محکمہ کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ جب بھی مذکورہ محکمہ کے سوالوں کی باری آئے جواب ضرور دیا جائے۔وقفہ سوال ختم ہونے کے بعد تحاریک التواء کار کے جواباب دینے کے لئے سپیکر نے متعلقہ پارلیمانی سیکرٹریز کو باری باری پکارا لیکن سوائے ایک پارلیمانی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن مہوش سلطانہ کے علاوہ بقیہ 8پارلیمانی سیکرٹریز میں سے کوئی بھی موجود نہ تھا ۔

مزید : ملتان صفحہ اول