چھوٹو گینگ کیخلاف 2005میں راجن پور کے ناظم نے آپریشن شروع کر وایا تو نائب ناظم شمشیر مزاری نے آپریشن رکوا دیا:حبیب اکرم

چھوٹو گینگ کیخلاف 2005میں راجن پور کے ناظم نے آپریشن شروع کر وایا تو نائب ناظم ...
چھوٹو گینگ کیخلاف 2005میں راجن پور کے ناظم نے آپریشن شروع کر وایا تو نائب ناظم شمشیر مزاری نے آپریشن رکوا دیا:حبیب اکرم

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)  راجن پور کے بدنام زمانہ ’’چھوٹو گینگ‘‘ کے خلاف 2005 میں بھی آپریشن کا آغاز ہوا تھا ،تاہم مسلم لیگ ن کے موجودہ ایم پی اے  عاطف مزاری کے بھائی اور اس دور میں نائب ناظم کے عہدے پر فائز شمشیر مزاری نے یہ آپریشن رکوا دیا تھا ۔عاطف مزاری ’’چھوٹو گینگ ‘‘سےاغوا برائے تاوان کی ڈیلیں بھی کراتے تھے ،غلام رسول چھوٹو بلوچستان کی کالعدم دہشت گرد تنظیم سے بھی رابطے میں تھا ۔  

اس اَمر کا انکشاف نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’خبر یہ ہے ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئےسینیئر صحافی اور تجزیہ کار  حبیب اکرم نے کیا ۔ان کا کہناتھا کہ غلام رسول  چھوٹو 2005سےکچے کے  اس علاقے میں متحرک ہے،  اس وقت ’’چھوٹو‘‘ نے  پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ یہ میرا  علاقہ ہے یہاں پولیس نہیں آسکتی ، غلام رسول چھوٹو کے اس اعلان پر  ڈسٹرکٹ ناظم نے  سیکیورٹی اداروں اور پولیس کے ساتھ مل کر  پلان کرتے ہوئے 

جب آپریشن شروع  کیا تو نائب ناظم راجن پور شمشیر مزاری جو کہ ن لیگ کے موجودہ ایم پی اے عاطف مزاری کے چھوٹے بھائی ہیں،نے آپریشن رکوانے کیلئے کردار ادا کیا ۔ حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ جب ڈسٹرکٹ ناظم نے آپریشن روکنے سے انکار کیا تو  ڈسٹرکٹ ناظم کے لئے مسائل اتنے بڑھ گئے تھے کہ بات ڈسٹرکٹ  ناظم کو ہٹانے کیلئے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئیں تھی جس پر اسوقت آپریشن روکنا پڑا ۔انہوں نے کہا کہ چھوٹو گینگ کے پاس پولیس کے مقابلے میں انتہائی جدید ترین اسلحہ موجود تھا کیونکہ اس وقت بھی چھوٹو گینگ کے بلوچستان کے علحیدگی پسند اور دہشت گرد تنظیم بی ایل ایف سے رابطہ تھا  اور پولیس بھی ان کے بھاری اور جدید ہتھیاروں سے آگاہ تھی ۔

حبیب اکرم کا کہناتھا کہ چھوٹو گینگ کیخلاف جب آپریشن شروع ہوئے تو بعد میں اسے سیاسی سپورٹ بھی مل گئی ،عاطف مزاری اغوا برائے تاوان کے ملزموں کے درمیان ڈیل کراتے رہے ،یعنی چھوٹو گینگ اغواءکرتاتھا تو لوگ چھڑوانے کیلئے عاطف مزاری کے پاس پہنچ جاتے

تھے ۔

مزید : لاہور