پاناما لیکس ،حکومت اور حزب اختلاف نے سپریم کورٹ بار سے مدد مانگ لی ،ملاقاتوں کے شیڈول طے پاگئے

پاناما لیکس ،حکومت اور حزب اختلاف نے سپریم کورٹ بار سے مدد مانگ لی ،ملاقاتوں ...
پاناما لیکس ،حکومت اور حزب اختلاف نے سپریم کورٹ بار سے مدد مانگ لی ،ملاقاتوں کے شیڈول طے پاگئے

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی )پاناما لیکس کے معاملے پر حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے مدد مانگ لی ۔حکومت کی طرف سے وفاقی وزیرقانون زاہد حامد اور اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی جبکہ حزب اختلاف کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے راہنما شاہ محمود قریشی اورمسلم لیگ (ق)کے راہنما چودھری پرویز الہی نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر سید علی ظفر سے رابطہ کیا ۔سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے سربراہ سلیم مانڈی والا نے بھی سید علی ظفر سے رابطہ کرکے ان سے پاناما لیکس کے معاملے کو حل کرنے کے لئے تجاویز فراہم کرنے کی درخواست کی ۔حکومتی اورحزب اختلاف کے وفود 16اپریل کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے جبکہ سلیم مانڈی والا اور سپریم کورٹ بار کے صدر سید علی ظفر کی ملاقات 28اپریل کو طے پائی ہے ۔سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں سے ملاقات کرنے والے حکومتی وفد میں وزیرقانون اور اٹارنی جنرل شامل ہوں گے جبکہ تحریک انصاف کے وفد کی سربراہی شاہ محمود قریشی کریں گے ۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار وں سے دونوں وفود کی ملاقات لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں ہوگی ۔حکومتی وفد صبح 11:00بجے جبکہ تحریک انصاف کا وفد دوپہر1:00بجے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات کرے گا۔چودھری پرویز الہی نے سپریم کورٹ بار کے صدر سید علی ظفر سے رابطہ کرکے ان پر اعتماد کا اظہار کیا اور پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ بار کے کردار کو سراہا ۔گزشتہ روز وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہدایت پراٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے صدر سپریم کورٹ بار کو ٹیلی فون کر کے تعاون کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاناما لیکس کے معاملے کا حل چاہتی ہے اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے بھی راہنمائی کی خواہش مند ہے ۔حکومتی عہدیداروں نے جوڈیشل کمشن کے قیام کے حوالے سے بھی سپریم کورٹ بار سے تعاون طلب کیا ،آج ہونے والی ملاقات میں جوڈیشل کمشن کے لئے ریٹائرڈ ججوں کے مختلف ناموں پر بھی غور متوقع ہے ۔سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے سربراہ سلیم مانڈی والا نے صدر سپریم کورٹ بار سے فون پر رابطہ قائم کیا ہے اور علی ظفر کو پاناما لیکس کے معاملے کے حل کے لئے تجاویز دینے کے لئے کہا جس پر دونوں کے درمیان 28اپریل کو ملاقات طے پاگئی جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اس بابت مختلف تجاویز پیش کی جائیں گی جن میں کرپشن کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کی مدد سے پانامالیکس کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی تجویز بھی شامل ہوگی ۔دوسری طرف عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے سپریم کورٹ بار کے صدر علی ظفر کو ٹیلی فون کر کے پاناما لیکس کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل یا درمیانہ راستہ نکالنے کے حوالے سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

مزید : لاہور