سرحدی کشیدگی کے باوجود بھارت کو برآمدات میں اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک

سرحدی کشیدگی کے باوجود بھارت کو برآمدات میں اضافہ ہوا، اسٹیٹ بینک

  

کراچی( آن لائن ) پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باوجود رواں مالی سال کے آغاز سے ہی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاملات مستحکم ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 17۔2016 کے ششماہی کے دوران پاکستان سے بھارت کو جانے والی برآمدات میں اضافہ ہواجبکہ درآمدات میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی۔ دونوں ممالک کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار ہیں تاہم سیاسی تعلقات میں کشیدگی کے باوجود پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ تجارتی تعلقات پر اس کا اثر بہت کم ہے۔14 فیصد اضافے کے بعد پاکستان سے بھارت جانے والی برآمدآت جولائی 2016سے فروری 2017کے دوران 28 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز رہیں جبکہ بھارت سے آنے والی درآمدات 23 فیصد کمی کے بعد 1 ارب 24 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ واضح رہے کہ بھارت سے اچھے تجارتی تعلقات کے خواہاں لوگوں کو پاکستان میں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ سرحد کے پار صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔پاکستان سے بھارت برآمدات میں اضافے کی اہم وجہ ہمسایہ ملک میں سیمنٹ کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے اور یہی وجہ پاکستان کی افغانستان اور جنوبی افریقا میں سیمنٹ کی برآمدات میں کمی کا باعث ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے حصے میں جنوبی افریقا اور افغانستان میں سیمنٹ برآمدات میں تنزلی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں پاکستان کا بھارت کے ساتھ تجارتی خسارہ 67 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز رہا

جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے کے دوران اس خسارے کی شرح 99 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز تک تھی۔مالی سال 16۔2015 میں بھارت سے درآمدات کی شرح پاکستان کی برآمدات سے 4 گنا زیادہ تھی۔گذشتہ پانچ سال میں دوطرفہ تعلقات کمزور ترین رہنے کے باوجود بھارت سے درآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ 16۔2015 میں پاکستانی درآمدات 1ارب 80 کروڑ رہیں۔#/s#

مزید :

کامرس -