صنعتی اور تعلیمی شعبے کے مضبوط رابطے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کا اہم ذریعہ ہیں

صنعتی اور تعلیمی شعبے کے مضبوط رابطے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کا اہم ذریعہ ہیں

  

لاہور(کامرس رپورٹر) صنعتی اور تعلیمی شعبے کے درمیان مضبوط رابطے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کا اہم ذریعہ ہیں ، ان سے نئے بزنس ماڈل تیار کرنے میں بھی مدد ملے گی جو ساری دنیا میں بڑی تیزی سے فروغ پارہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر ارشد علی، لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط، سینئر نائب صدر امجد علی جاوا ، سابق صدر انجینئر سہیل لاشاری ، چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل جاوید سلیم قریشی، ابرار احمد، خامس سعید بٹ، کنوینر سٹینڈنگ کمیٹی برائے انڈسٹری و تعلیمی شعبے کے درمیان تعلقات کا فروغ عمر سلیم اور پندرہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز/نمائندوں نے لاہور چیمبر میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ارشد علی نے کہا کہ تعلیمی شعبے کا علم اور تحقیق صنعتوں کے لیے کیسے مددگار ثابت ہوسکتی ہے اس کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایکشن پلان وضع کرنے کی ضرورت پر زور دی۔ انہوں نے بتایا کہ 2002ء میں جب ہائر ایجوکیشن کمیشن تشکیل پایا تھا تو ملک میں 67یونیورسٹیاں تھیں جن میں 7لاکھ طلباء زیرتعلیم جبکہ اس کا بجٹ چھ ارب روپے تھا، اب یونیورسٹیوں کی تعداد 183ہوچکی ہے جن میں تین ملین کے لگ بھگ طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے کہا کہ صنعتی و تعلیمی شعبوں کے درمیان انڈرسٹینڈنگ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ لاہور چیمبر عرصہ دراز سے انڈسٹری اور تعلیمی شعبے کے درمیان روابط مستحکم کرنے کے لیے کام کررہا ہے ، اس کے لیے حال ہی میں ایک سٹینڈنگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو تعلیمی شعبے سے انڈسٹری کو براہِ راست فائدہ دینے کے لیے کام کرے گی، انہوں نے کہا کہ ضروریات کی مطابقت سے تحقیقی کام ہونا چاہیے جس سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہونگے جبکہ محقق اپنا تحقیقی کام براہِ راست صنعتوں کو دے سکیں گے۔ سینئر نائب صدر امجد علی جاوا نے کہا کہ صنعتوں اور تعلیمی شعبوں کے درمیان مستحکم تعلقات دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ برین ڈرین کا مسئلہ بھی حل کریں گے۔ سابق صدر سہیل لاشاری نے کہا کہ تعلیمی شعبہ صنعتوں کی ضروریات سے مکمل آگاہی حاصل کرے تاکہ مطلوبہ ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے میں مدد مل سکے۔انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ صنعتوں کے لیے فائدہ مند پراجیکٹس تیار کریں۔ سٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر عمر سلیم نے کمیٹی کی تشکیل کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ مختلف یونیورسٹیوں کے دورے کیے جارہے ہیں جبکہ جلد ہی ایک کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔ چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل جاوید سلیم قریشی نے مزید ہوم ورک کرنے اور تحقیقی اداروں میں نجی شعبے کو نمائندگی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریورس انجینئرنگ آج کے دور میں کامیابی کی ضمانت بن چکی ہے کیونکہ اس کی مدد سے مصنوعات کو ری پروڈیوس کیا جاسکتا ہے۔

مزید :

کامرس -