پنجاب ایگزامینیشن کمیشن ۔۔۔ایک تعارف

پنجاب ایگزامینیشن کمیشن ۔۔۔ایک تعارف
پنجاب ایگزامینیشن کمیشن ۔۔۔ایک تعارف

  

حکومت پنجاب نے 2008ء سے صوبے میں تعلیم عام کرنے کے لئے متعدد نتیجہ خیز اور متوازن اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔پنجاب کا ایجوکیشن سیکٹر ریفام پروگرام دنیا میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑھ چکا ہے اور اس تعلیمی منصوبے کی افادیت اور کامیابیوں کا اعتراف عالمی ڈونر ادارے متعدد بار کر چکے ہیں۔دوسری جانب حکومت پنجاب نے پرائمری اور مڈل امتحانات میں شفافیت اور یکسانیت لانے کے لئے یہ فیصلہ بھی کیا کہ یہ امتحانات علیحدہ علیحدہ لئے جانے کی بجائے ایک ادارے کے پلیٹ فارم تلے منعقد ہوں تا کہ تمام طالب علموں کی ذہنی سطح اور قابلیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔اس ادارے کے قیا م کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ امتحانی نتائج سے مستقبل کی تعلیمی پالیسیاں ترتیب دینے میں مدد ملتی ہے۔ گزشتہ برسوں کے تعلیمی نتائج اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ حکومت پنجاب کی تعلیمی اصلاحات اپنی افادیت کے اعتبار سے انتہائی مفید ثابت ہوئی ہیں ،جن سے طالب علموں کو بے انتہا فائدہ پہنچا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم و تدریس کی کامیابی کا تعین،تعلیمی معیار کاتجزیہ ا ور نصاب کے مقاصد کے حصول کا جائزہ صرف امتحانات کے انعقادو پیمائش اور جانچ پرکھ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان امتحانات کے نتائج سے نظامِ تعلیم کے معیار کی مطلوبہ اور متوقع سطح کا اندازہ لگانا آسان ہو جا تا ہے۔حکومتِ پنجاب صوبہ بھر میں طلبہ کو معیاری تعلیم دینے کے لئے کوشاں ہے۔اس ضمن میں امتحانی نظام کو بہتر بنانے کے لئے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن اہم کردار ادا کر رہا ہے۔اس سلسلے میں پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کی جانب سے سکول ایجوکیشن سسٹم کی بہتری کے لئے کئے جانے والے نمایاں اقدامات میں ماہرینِ مضامین کی تعیناتی ،معیاری پرچہ جات کی تیاری،بلا معاوضہ آن لائن رجسٹریشن،طلبہ و طالبات کی سہولت کے لئے نزدیک ترین امتحانی مراکز کا قیام ،نقل کی روک تھام کے لئے اقدامات،شفاف اور غلطیوں سے پاک امتحانی نتائج کو یقینی بنانے کے لئے مختلف اقدامات کئے گئے ہیں۔

پنجاب ایگزامینیشن کمیشن نے مخصوص معیار کے مطابق ماہرین نصاب کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔یہ ماہرین بہترین تعلیم،پیشہ وارانہ تربیت اور تجربے کے حامل ہیں جو نہ صرف خود امتحانی سوالات تیار کرتے ہیں، بلکہ پاکستان بھر کے مختلف تعلیمی اداروں سے اہل آئٹم رائٹرز منتخب کر کے ان کی تربیت بھی کرتے ہیں اوران کے بنائے گئے سوالات کوشاملِ امتحان کرتے ہیں۔معیاری پرچہ جات کی تیاری کے لئے ہر ماہرِ مضمون پیپر میں دیئے گئے ہر سوال کی قومی نصاب میں دی گئی سٹوڈنٹ لرننگ آؤٹ کمز سے مطابقت کو بہرصورت یقینی بناتا ہے۔اسیسمنٹ ایکسپرٹ اور سائکومیٹریشین بتدریج ہر سوال کا فکری و فنی تجزیہ کر کے انھیں شاملِ امتحان کرتے ہیں۔قومی نصاب کی کوریج کے لیے پیپرز میں 50فیصد موضوعی اور 50 معروضی طرز کے سوالات دیے جاتے ہیں اور نقل کے رجحان کے مکمل انسداد کے لئے چار سیٹ بنائے جاتے ہیں۔اسی طرح سالانہ امتحان سے پہلے تمام مضامین کے پیپرز میں دیئے جانے والے سوالات سے تین گنا زائد سوالات تیار کر کے ان کی پنجاب کے ایک تہائی ضلع جات میں پائلٹنگ کی جاتی ہے۔ان پیپرز کے نتائج کا مخصوص سافٹ وئیر کے ذریعے تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یوں مجوزہ معیار کے حامل سوالات سالانہ امتحانات کے لئے منتخب کیے جاتے ہیں۔سالانہ امتحان کے ہر پیپر میں دئیے گئے سوالات تیارکردہ فریم ورک کے مطابق ہوتے ہیں۔یہ سوالات آسان ،درمیانی اور مشکل سطح کی شرح کے مطابق ہوتے ہیں۔

پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کی جانب سے صوبہ پنجاب کے تمام ضلعوں میں پانچویں اور آٹھویں کے طلبہ کو بلا معاوضہ آن لائن رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ مزید براں مرکز کی سطح پر کلسٹر سنٹر زقائم کیے گئے ہیں۔ان سنٹرز میں سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں کے طلبہ اور نجی طور پر درخواست دہندہ بچوں اور بچیوں کی بروقت آن لائن رجسٹریشن کو ممکن بنایا جاتا ہے۔امسال پانچویں اور آٹھویں کے تقریباً23 لاکھ97ہزار 2397000) (طلبہ رجسٹرڈ ہوئے تھے۔حالیہ امتحانات میں صوبہ پنجاب کے تمام ضلعوں میں پانچویں اور آٹھویں کے طلبہ و طالبات کے امتحانی سینٹرزمرکز کی سطح پربنائے گئے تھے۔اس سلسل' میں کلسٹر سنٹر ز کے ذریعے طلبہ کے امتحانی مراکز کی دوری کے مسائل کے حل کو یقینی بنایا گیا ہے۔پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات میں نقل کی روک تھام کے لئے ہر مضمون کے چار ورژن اس طرح تیار کیے گئے کہ ان میں سوالات تو یکسر مختلف ہوتے ہیں مگر ان میں ایس ایل اوز اور آسان اور مشکل سوالات کی شرح ایک جیسی ہے۔نقل کے رجحان کو روکنے کے لئے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے مقرر کردہ مانیٹرنگ آفیسرز کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح کے افسران بھی مانیٹرنگ کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔

مَیں یہاں پر یہ بھی بتاتا چلوں کہ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن نے پیپرز کی مارکنگ کے لئے بہترین نظام وضع کیا ہے۔مارکنگ سکیم اور روبرکس (Rubrics) کی تیاری کے لئے ہر مضمون کے لیے ہر ضلع سے کم از کم ایک ایک ماہر مضمون منتخب کیا گیا۔ یوں چھتیس اضلاع کی نمائندگی کرتے ہوئے ماہرین مضامین کے ذریعے مارکنگ سکیم اور روبرکس تیار کی گئیں۔مذکورہ ماہرین مضامین نے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن سے اس مارکنگ سکیم اور روبرکس پر عملدرآمد کی تربیت حاصل کی، بعدازاں اپنے اپنے اضلاع میں ہیڈ ایگزامینرز کو ٹرینڈ کیا اور آخر میں ہیڈ ایگزامینرز نے سب ایگزامینرز کو ٹریننگ دے کر مارکنگ سکیم اور روبرکس کے مطابق پیپرز کی مارکنگ کو یقینی بنایا۔اس سلسلے میں ہیڈ ایگزامینرز اور پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے مقرر کردہ مانیٹرز کو’’ اے ایم ڈی‘‘پرفارماز بھی روزانہ کی بنیاد پر تیار کرنے کا کہا گیا تا کہ مارکنگ سکیم کے اطلاق کوفول پروف بنایا جا سکے۔ مارکنگ سینٹرز میں پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کی طرف سے فراہم کردہ مارکنگ میپ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ایوار ڈ لسٹس اپ لوڈ کی گئیں اور امتحانات کے نتائج کے بروقت اعلان کو یقینی بنایا گیا۔اس سال کے تعلیمی نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔طالب علموں کی کامیابی کا کل تناسب82فیصد رہا ہے۔ان تمام اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج پنجاب ایگزامینیشن کمیشن صوبے میں پرائمری و آٹھویں کے امتحانات کے انعقاد کے حوالے سے ایک مثال بن کر ابھرا ہے۔ اس ادارے کی کارکردگی بے مثال ہے جس پر سب کو اعتبار ہے۔ اس کامیابی اور دیگر بے شمار کامیابیوں کا کریڈٹ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کو جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ہمیشہ سکول ایجوکیشن کی کامیابی کے لئے دِل کھول کر فنڈز فراہم کئے ہیں اور ان کی مسلسل سرپرستی کی بدولت صوبہ پنجاب تعلیمی کامیابیوں کے حوالے سے دُنیا میں مثال بن کر ابھرا ہے۔

مزید :

کالم -