یہاں سب ۔۔۔زد میں ہیں، پھر کیا ہوگا؟

یہاں سب ۔۔۔زد میں ہیں، پھر کیا ہوگا؟
 یہاں سب ۔۔۔زد میں ہیں، پھر کیا ہوگا؟

  

پاناما گیٹ کا فیصلہ محفوظ اور ڈان لیکس زیر التوا ہے۔ اس حوالے سے جو بیان بازی ہوئی اور بڑی حد تک جاری ہے۔ اس سے الزام جوابی الزام کی بہت خاک اڑی۔ ابھی یہ سب فضا میں ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے منیجر سمیت تین قریبی ساتھی پر اسرار طور پر لاپتہ ہو گئے۔ پیپلزپارٹی نے ذمہ داری وفاقی حکومت پر ڈالی۔ قومی اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور سندھ اسمبلی میں آواز اٹھائی گئی۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور سینئر وزیر نثار کھوڑو نے بھی احتجاج کیا۔ پھر ان حضرات ہی کے حوالے سے نعرہ ایجاد ہوا اور سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔ ’’ہم سب زرداری ہیں‘‘۔

ابھی یہ قصہ چل ہی رہا ہے کہ لیاری گینگ والے عزیر بلوچ کا مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا ایک بیان مشتہر ہو گیا جس کے مطابق عزیر بلوچ نے آصف علی زرداری کے ایماء پر بلاول ہاؤس کلفٹن کے اردگرد کم از کم 20کوٹھیوں کے مالکان کو دھمکایا اور یہ سب گھر آصف علی زرداری نے اونے پونے خرید لئے، یہیں پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اس کا کہنا ہے کہ وہ زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو بھتہ کا حصہ بھی دیتا تھا اور یہ رقم ایک کروڑ روپیہ ماہوار تھی، عزیر بلوچ ہی کے بیان میں ہے کہ مظفر ٹپیّ کے کہنے پر کم از کم 14 شوگر ملوں پر قبضے کئے جو آصف علی زرداری کی ملکیت میں گئیں جبکہ رکن اسمبلی قادر پٹیل کے ایماء پر لوگوں کو قتل بھی کیا۔ ابھی تک اس بیان میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا نام سامنے نہیں آیا، جنہوں نے اعلان کرکے لیاری میں جلسہ کیا اور عزیر بلوچ کا ہاتھ بلند کرکے دوست قرار دے کر کہا ’’ہم یاروں کے یار ہیں‘‘۔

اس صورت حال میں پیپلزپارٹی کی طرف سے سینیٹر سعید غنی نے کہا ’’پیپلزپارٹی کا عزیر بلوچ کے جرائم سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔ ابھی تک آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا البتہ خورشید شاہ گم ہونے والے ساتھیوں کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری ان دنوں سیاسی طور پر متحرک ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اگلی باری پیپلزپارٹی کی ہے، ایسے میں جب سابقہ ادوار اور ریفرنسوں کے حوالے سے کرپشن کے الزام لگائے جاتے ہیں تو جواباً اسی تحرک کو وجہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بوکھلا گئی ہے۔ جواز یہ دیا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری گیارہ سال جیل میں رہے اور کچھ ثابت نہ ہوا، پھر محرک سیف الرحمن نے ان سے معذرت کی تھی۔

ان دونوں جماعتوں اور رہنماؤں کی بات ہوئی تو ایک تیسرا موثر فریق بھی تو ہے تحریک انصاف کے عمران خان بھی نشانے پر ہیں۔ الیکشن کمیشن میں جماعتی فنڈنگ کا کیس زیرسماعت ہے۔ ان کے اردگرد جہانگیر ترین اور علیم خان بھی اس زد میں ہیں اور یوں جو تین جماعتیں اس وقت ایک دائرے میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں وہ کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں اور یہ سب کرپشن ختم کرنے کی بھی بات کرتی ہیں، رہ گئی جمعیت علمائے اسلام (ف) تو کبھی کبھی عمران خان کے نشانے پر ہوتی ہے مجموعی طور پر ایک کونے میں مزے کر رہی ہے۔

ان حالات میں عوام کی ذہنی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو حمایتی ہیں وہ یقین نہیں کرتے اور جو مخالف ہیں وہ پرزور اصرار کرتے ہیں یوں اس حمام میں سبھی والی بات ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایسے میں آصف علی زرداری کے خلاف عزیر بلوچ کا بیان ہی آج کل زیر بحث ہے۔ یہ عزیر بلوچ ان دنوں فوج کی تحویل میں ہیں ان کے خلاف فوجی عدالت میں سرکاری راز دوسرے ممالک کو پہنچانے کا سنگین الزام ہے اور یہ بھی جلد کلبھوشن بننے والے ہیں۔

لیاری گینگ کا ذکر ہوتا ہے تو اس کا پس منظر بھی ہے، یہ علاقہ سالہا سال سے گینگسٹر ازم کی زد میں ہے۔ ماضی میں یہاں شیرو اور دادل دو بھائی تھے۔ ان کے مد مقابل کو ’’کالا ناگ‘‘ کہا جاتا تھا اور یوں دادا گیری کے حوالے سے دونوں گروہ ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتے تھے، ایک زمانہ چاقو، چھری اور کلہاڑی کا تھا جو بتدریج پستول اور ریوالور سے کلاشنکوف تک گیا۔ جوں جوں دور جدید آتا گیا اس علاقے میں قتل و غارت گری بڑھتی گئی۔ شیرو، دادل گئے تو دادل کے صاحبزادے عبدالرحمن گدی نشین ہو گئے جو عبدالرحمن ڈکیٹ کہلائے، دوسری طرف کے گینگ کی سربراہی بابا لاڈلا کے سپرد ہو گئی اور پھر وہ وقت آ گیا کہ عبدالرحمن بھی قتل ہوا اور اس کے جانشین یہ محترم عزیز بلوچ تھے۔ یوں دونوں گروہ برسرپیکار رہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہر دو گروہوں کو سیاسی اور سرکاری سرپرستی حاصل رہتی تھی۔ عزیر بلوچ تو جلسے اور تقریریں کرتے اور بڑے بڑے سیاسی رہنما ان کے ڈیرے اور گھر کا طواف کرتے تھے۔ان کی یہ اہمیت اس وقت تک برقرار رہی، جب تک رینجرز نے لیاری کا رخ نہیں کیا اور پھر ان گروہوں کو فرار ہونا پڑا، بابا لاڈلا اور عزیر بلوچ دونوں چھپ گئے عزیر بلوچ ایران کے قصبے چاہ بہار سے پکڑا گیا اور بابا لاڈلا مارا جا چکا ہے۔ اب یہ شخص فوج کے پاس مقدمے کا منتظر ہے اور اپنے بیان میں سب کو ملوث کر چکا ہے۔ یہ سب حضرات جواب دہ ہیں اور ان کو جواب دینا بھی ہوگا، تاہم یہ سوال بھی بہت بڑا ہے کہ الزام تو سب پر ہیں فیصلہ کون کرے گا؟ اس حوالے سے کئی بار عرض کی کہ جو احتساب بل زیر التوا ہے اسے دیانتداری سے منظور کر لیں، سب خود کو بے گناہ اور دوسروں کو گناہ گار قرار دیتے ہیں تو ان کو ایک آزاد، خود مختار اور بااختیار احتساب بیورو پر متفق ہو جانا اور پھر سب کو اپنا اپنا حساب دینا چاہیے۔ اس سے اور کچھ نہیں تو عوام کی تسلی تو ہوگی۔ ویسے ان دنوں ملکی حالات اور اب تازہ ترین امریکی رویے سے بھی یہ لازم ہے کہ ملک کے اندر محاذ آرائی ختم کی جائے۔ انصاف پر اتفاق ہو اور سکون سے متحد ہو کر دشمنوں کا مقابلہ کیا جائے۔ ایسا نہیں ہوا تو پھر ایک دوسرے کے گندے کپڑے بازار میں دھوتے جایئے اور دنیا میں اپنا مذاق بنوایئے۔

مزید :

کالم -