جدید ترین ٹیکنالوجی اور ہمارے راز

جدید ترین ٹیکنالوجی اور ہمارے راز
 جدید ترین ٹیکنالوجی اور ہمارے راز

  

حسین حقانی کی جانب سے بطور پاکستانی سفیر سی آئی اے کے ایجنٹوں کو پاکستانی ویزے دینے کا موضوع کافی گرم رہا ہے اور اس پر افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کا رد عمل بھی سامنے آچکا ہے۔ حسین حقانی اس موضوع پر ’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں مضمون لکھنے کے بعد میمو گیٹ سکینڈل کی طرح ایک مرتبہ پھر پاکستانی میڈیا میں زیر بحث آچکے ہیں۔ جب نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو وہ وزیر اعلیٰ کے مشیر بن گئے اور انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف مشورے دیتے رہے، لیکن جب نواز شریف نے ان سے فاصلہ بڑھانا شروع کردیا تو وہ محترمہ ناہید خان کے توسط سے بے نظیر بھٹو کے قریب ہوگئے اور ان کے مشیر بن کر نواز شریف کے خلاف مشورے دینے کا سلسلہ شروع کردیا۔ امریکیوں کے دوست ہمارے حکمرانوں کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں۔ امریکہ سے اچھے روابطہ کے باعث صدر آصف علی زرداری نے اپنے دور حکومت میں امریکہ کی سفارت کے لئے حسین حقانی کا انتخاب کیا۔ امریکیوں کو سینکڑوں ویزے دینے کے معاملے میں صرف حسین حقانی اکیلے ذمہ دار نہیں ہیں۔ افغان سوویت جنگ کے دوران جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی سی آئی اے کے سینکڑوں ایجنٹوں کو ویزے جاری کئے گئے۔ بریگیڈئر یوسف میرے دوست ہیں اور ٹیکسلا کے قریب رہائش پذیر ہیں۔ بریگیڈئر یوسف 8برس تک اس زمانے میں آئی ایس آئی کے اندر کام کرنے والے افغان بیورو کے سربراہ رہے۔ انہوں نے سوویت افغان جنگ کے دوران امریکہ اور سی آئی اے کی بھرپور مداخلت کے بارے میں مجھے آگاہ کیا۔

بریگیڈئر یوسف نے سوویت افغان جنگ کے بارے میں ایک برطانوی مصنف سے مل کر ایک مشہور کتاب ’’دی بیرٹریپ‘‘ بھی لکھی۔ 9/11کے حادثے کے بعد جب امریکی وزیر خارجہ نے صدر پرویز مشرف کو دھمکی دی کہ اگر طالبان اور القاعدہ کے خلاف امریکی کارروائیوں میں تعاون نہ کیا گیا تو پاکستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے امریکی سی آئی اے کے ایجنٹوں کے لئے پاکستان کا درکھول دیا۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ طالبان کا بھرپور ساتھ دینے میں ہم امریکہ کے ساتھ تھے، لیکن امریکیوں کی آنکھیں پھرنے کے بعد طالبان کو بھرپور رگڑا دینے کے لئے بھی ہم امریکہ کے ساتھ ہیں۔ امریکہ کے بارے میں ہماری خارجہ پالیسی اور دیگر پالیسیاں سول اور فوجی حکومتوں کے دوران ایک جیسی رہی ہیں، لیکن امریکہ کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہمیشہ منتخب سول حکومتوں کو کرنا پڑا ہے۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور ان کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں حسین حقانی کی باتوں سے زیادہ وزن جسٹس جاوید اقبال کی رپورٹ میں ہے۔جس میں اسامہ بن لادن کے بارے میں تمام حقائق بیان کئے گئے ہیں، لیکن جسٹس جاوید اقبال کمیشن کی رپورٹ کو بوجوہ منظر عام پر نہیں لایا گیا۔یہ رپورٹ شاید کبھی منظر عام پر نہ آسکے۔ اچھے اور برے طالبان کی تھیوری بھی ناکام ہو چکی ہے۔ ڈان لیکس کا معاملہ بھی باربار سامنے آرہا ہے۔کیا یہ عجیب سوچ نہیں ہے کہ اگر ’’ڈان‘‘ میں کوئی خبر شائع ہوگئی تو ہمارے راز دنیا کے سامنے آشکارہ ہو جائیں گے۔ خاص طور پر سپر پاورکو ہماری پالیسیوں کا علم ہو جائے گا۔ حالیہ دنوں میں امریکی سی آئی اے کے بارے میں چھپنے والی خبروں کے مطابق سی آئی اے جدید ترین آلات کے ذریعے سوشل میڈیا کے تمام اکاؤنٹس ، ای میلز اور دنیا بھر کے موبائل فونز پر ہونے والی گفتگو کی نگرانی کررہا ہے۔ امریکی حکومت نے سی آئی اے کے اس راز کو افشا کئے جانے کی تحقیقات شروع کر رکھی ہے۔

اس بات کا بھی ہمیں علم ہے کہ امریکہ کا جدید ترین سیٹلائٹ سسٹم دنیا کی کسی تنگ گلی میں چلنے والی سائیکل کو بھی دیکھ رہا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سی آئی اسے کے ماہرین کو ڈورڈز میں ہونے والی گفتگو کو بھی ڈی کوڈ کرنے کے عمل میں مصروف رہتے ہیں۔ اسامہ بن بلادن کی ہلاکت کے بعد چھپنے والی خبروں میں یہ بتایا گیا تھا کہ اسامہ کو یمن سے آنے والی کال کو اسلام آباد میں بیٹھے سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ڈی کوڈ کیا تھا، جس کے باعث اسامہ تک ان کی رسائی ممکن ہوسکی تھی۔ علاوہ ازیں پاکستان کے مختلف حلقوں میں امریکہ نواز لوگوں کی کمی نہیں، جو ا ڈالروں کے لالچ میں اپنے اپنے ضمیر کا سودا کرسکتے ہیں۔ اسامہ بن لادن تک پہنچنے کے لئے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ ایسے حالات میں ان خبروں کا نوٹس لینے کی کیا ضرورت ہے، جن معاملات کے بارے میں اپنے بے پناہ وسائل اور جدید آلات کے باعث سپر طاقتیں ہم سے زیادہ جانتی ہیں۔ ان کی جدید ٹیکنالوجی کا یہ عالم ہے کہ جب اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لئے چار امریکی ہیلی کاپٹر کابل سے پرواز کرکے ایبٹ آباد پہنچے تو ہمیں ان کا علم نہ ہوسکا۔ ان حالات میں ہمیں ’’ڈان‘‘ کی کسی خبر کے لئے پرویز رشید جیسے دیانت دار اور شریف انسان کی بھینٹ لینے کی کیا ضرورت تھی۔ ہمارا دنیا کی ترقی سے لاعلمی کا ثبوت یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اپنے دریاؤں کے پلوں پر تصویر کھینچنے سے منع کرنے والے بورڈ آویزاں کررکھے ہیں، جبکہ سپر طاقتوں کے سیٹلائیٹ ہماری ہر چیز کو دیکھ رہے ہیں، ان حالات میں مسکرائیں یا روئیں، کچھ سمجھ نہیں آتا۔وزیر اعظم نواز شریف دنیا میں ہونے والی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے اچھی طرح آگاہ ہیں، لیکن بعض دفعہ اداروں کی سوچ کے آگے مصحلتاً خاموش رہتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں یہ حقیقت سمجھ لینی چاہئے کہ اگر ہم نے دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو وہ ہم صرف سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا کے برابر یا اس سے زیادہ ترقی کرکے ہی کرسکتے ہیں۔

مزید :

کالم -