ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات

ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات
 ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات

  

ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے امریکہ اپنے سامراجی عزائم کے حصول کے لئے زیادہ کھل کر سامنا آ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد مشرق وسطیٰ اور افغانستا ن میں امریکہ کی عسکری کارروائیوں میں غیر اعلانیہ طور پر بہت زیا دہ اضافہ ہوا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تیز ہوتی ہوئی عسکری کارروائیوں پر ٹرمپ انتظامیہ نے نیٹو، حتیٰ کہ امریکی کانگرس اور میڈیا کو بھی پہلے سے ا عتماد میں نہیں لیا۔ اب جمعرات کو امریکہ نے افغانستان کے صوبے ننگر ہارمیں سب سے بڑا غیر جوہری بم جی بی یو 43 گرایا ہے۔اس بم کو تمام ’’بموں کی ماں‘‘ بھی کہا جا تا ہے۔ امریکی دعوے کے مطابق یہ بم داعش کے ٹھکانوں پر مارا گیا ہے، جبکہ افغان وزارتِ دفاع کے مطابق اس بم سے 36دہشت گرد ہلاک ہو ئے ۔ننگرہار صوبے میں گرائے گئے اس بم میں 21ہزار 600 پاونڈ دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ افغانستان میں کئے گئے اس بم حملے کے داعش کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے،اس بارے ابھی سے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، تاہم اس وقت بڑی حقیقت یہی نظر آرہی ہے کہ افغانستان میں عسکری کارروائیوں میں شدت کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں بھی ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ کی عسکری کارروائیوں میں بہت زیادہ تیزی آگئی ہے۔ گزشتہ ہفتے شام پر حملے سے چند روز قبل ہی امریکہ نے یمن پر 30ہوائی حملے کئے، جسے میڈیا نے خاص کوریج نہیں دی۔ٹرمپ کے صدر بننے کے ساتھ ہی یمن پر جو 30ہوائی حملے کئے گئے گزشتہ پورے سال کے عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں حملے نہیں کئے گئے، جبکہ خانہ جنگی کے باعث یمن کی صورتِ حال پہلے ہی کشیدہ ہے۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یمن کی کل 27ملین آبادی میں سے دو تہائی آبادی کو خوراک اور امداد کی اشد ضرورت ہے ۔ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد 400 امریکی فوجی اہلکار وں کو شام بھیجا جا رہا ہے تاکہ ’’الرقہ‘‘ کا کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔اسی طرح 1000امریکی فوجیوں کو متبادل فورس کے طور پر کویت بھیجا جا رہا ہے۔ 400 امریکی فوجیوں کوعراق بھیجا جا چکا ہے،جبکہ امریکی اخبارات کی اطلاعات کے مطابق 8000تازہ دم فوجیوں کو افغانستان میں بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے جنگجویانہ عزائم کی ایک مثال یہ ہے کہ ٹرمپ نے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ میں تین تہائی کی کمی کرنے اور عسکری بجٹ میں 54ارب امریکی ڈالرز کے اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔امریکی کانگرس اور میڈیا میں ایسی تجاویزکی زبردست مخالفت کی جا رہی ہے۔ کانگرس اور امریکی میڈیا کے کئی سنجیدہ حلقے اس بات پر تشو یش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بجٹ میں کمی کر نے سے دُنیا کے کئی تنا زعات اور جنگوں کے سفارتی حل کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔

شام، عراق، لیبیااور یمن میں جنگ کے باعث انسانی ہلاکتوں اور تباہی پر تحقیقاتی رپورٹس پیش کرنے والے بر طانوی ادارے ’’ائیر وارز‘‘کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق مارچ میں امریکی بمبا ری کے باعث شام اور عراق میں عام انسانوں کی ہلاکتوں میں4گنا اضافہ ہوا ہے۔ان اعداد و شمار کے مطابق شام اور عراق میں دسمبر 2016ء میں 465عام افراد ہلاک ہوئے تھے،جبکہ گزشتہ ماہ مارچ میں ان ملکوں میں 1,754افراد ہلاک ہوئے، یوں ہلاکتوں کی تعداد میں 277فیصد تک کا اضافہ ہوا۔’’ائیر وارز ‘‘کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی جا رہی ہے، جب امریکہ نے شام میں صدر بشار الاسد کے باغیوں کے خلاف کیمیائی حملے کو جواز بنا کر گزشتہ ہفتے حملہ کیا ۔برطانوی ادارے کی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ مارچ میں امریکی بمباری کے باعث موصل(عراق) میں شام کے کیمیائی حملے کے مقابلے میں زیادہ افراد بشمول بچے ہلاک ہوئے۔’’ائیر وارز‘‘کی یہ انتہائی اہم رپورٹ چونکہ بہت سے حقائق پر سے پردہ اٹھاتی ہے، اِس لئے اس رپورٹ کو امریکی میڈیا میں بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔2017ء کے ابتدائی تین ماہ میں عراق اور شام کے جنگ زدہ علاقوں میں 2,826 عام افراد ہلاک ہوئے،جبکہ2016ء کے پورے سال میں ان جنگ زدہ علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کم تھی۔ یوں ان اعداد و شمار سے واضح ہو رہا ہے کہ شام اور عراق میں کئی طرح کے جتن کرنے کے باوجود امن قائم ہونا تو دور کی بات ہے، ان علاقوں میں صورتِ حال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔ان ہلاکتوں کی تعداد میں اس وقت اضافہ ہونا شروع ہو ا،جب گزشتہ سال عراقی فوج نے امریکی فوج کی ’’مشاورت‘‘ کے ساتھ موصل میں داعش کے خلاف کا رروائی کا آغاز کیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی تازہ ترین تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر سے لے کر دسمبر تک موصل میں امریکی ہوائی حملوں میں بڑے پیمانے پر عام لوگ جاں بحق ہوئے۔ گزشتہ ہفتے پیش کی گئی اس رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کی گئی ہوائی بمباری کے باعث کئی خاندان اور ان کے گھر بار مکمل طور پر تبا ہ ہو گئے۔اس گروپ میں کام کرنے والی صحافی خاتون ’’ڈونیٹیلا رورا ‘‘کے مطابق موصل میں بڑے پیمانے پر عام انسانوں کی ہلاکتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اتحادی فوج نے سول آبادی کو بمباری سے محفوظ رکھنے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے تھے اور یہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔اس سال کے آغاز میں جب مغربی موصل میں ایک مرتبہ پھر بمباری کا آغاز کیا گیا تو 20لاکھ آبادی کے اس شہر میں سول گھروں پر بھی اندھا دھند بم باری کی گئی۔17مارچ کی بمباری میں 300سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ یہ تعدا د شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے جاں بحق ہونے والے افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ شام کے کیمیائی حملے میں 100افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ امریکی بمباری کے باعث عام انسانوں کی ان ہلا کتوں کا امریکی میڈیا میں کوئی خاص نوٹس نہیں لیا جاتا۔ امریکی میڈیا خاص طور پر پرنٹ میڈیا کا ایسا حصہ بھی جو ٹرمپ کی داخلی پالیسیوں کا زبردست ناقد ہے،وہ بھی عام انسانوں کی ان ہلاکتوں پر توجہ نہیں دے رہا،حتیٰ کہ ٹرمپ کے سیاسی مخالف اور ڈیمو کریٹ پارٹی کے کانگرس کے ارکان، جنہوں نے ٹرمپ کے شام پر حملے کا زبردست خیر مقدم کیا یہ ارکان بھی موصل میں سول آبادی کی ہلاکتوں پر کوئی مذمت نہیں کر رہے۔ مغربی میڈیا اور غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کی اس بات میں کوئی جھوٹ نہیں ہے کہ بشار الاسد ایک آمر ہے، جس نے اپنے باپ حافظ الاسد کی طرح اپنا اقتدار بر قرار رکھنے کے لئے ظالمانہ ہتھکنڈے اختیار کئے، مگر اس بات کا کسی کے پاس کیا جواز ہے کہ جن علاقوں پر بشار الاسد کی فوج اپنا کنٹرول واپس لے رہی ہے، ان علاقوں میں امر یکہ اور اس کے اتحادی عام انسانوں کو ہی نشانہ بنانا شروع کر دیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے کئی اہم عہدیدار اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ بشار الاسد اس خانہ جنگی میں شکست کھا کر اقتدار چھوڑ دے گا۔ اس اعتراف کے باوجود شام میں جنگ جاری رکھنے کا کیا فائدہ ہے کہ جب اس جنگ میں عام انسانوں کی جانیں ہی ضائع ہو رہی ہیں۔ آخر امریکہ اس مسئلے کا سفارتی حل نکالنے کی سنجیدہ کوشش کیوں نہیں کرتا؟صاف ظاہر ہے کہ امریکہ ایسی جنگوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا اور سامراجی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کے ان اقدامات سے دُنیا میں امن قائم نہیں ہو گا،بلکہ ان اقدامات سے دہشت گردی میں بھی اضافہ ہو گا۔خود امریکہ کے سنجیدہ اور غیر جانبدار تجزیہ نگا ر بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ دہشت گردی کی عالمی لہر میں جہاں بہت سے عوامل کا دخل ہے، وہیں پر ردعمل کے عامل نے بھی دہشت گردی کے فروغ میں بڑا اہم کر دار ادا کیا ہے۔ آج کی دُنیا 9/11کے مقابلے میں زیادہ غیرمحفوظ ہے۔ 9/11سے پہلے کے مقابلے میں آج زیادہ ممالک دہشت گردی کا شکار ہیں۔ کل کے ہنستے بستے مُلک آج ویران بستیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ظاہر ہے دہشت گردی اور اس تباہی کے بہت سے عوامل ہیں، مگر سامراجی جنگوں کے باعث جنم لینے والا ردعمل بھی دہشت گردی کی اس عالمی لہر میں ایک اہم عامل ہے۔

مزید :

کالم -