کلبھوشن یادیو کا معاملہ لٹکایا نہ جائے

کلبھوشن یادیو کا معاملہ لٹکایا نہ جائے
 کلبھوشن یادیو کا معاملہ لٹکایا نہ جائے

  

ساری بات عزم کی ہے ،پھر کہیں نہ کہیں تو ہمیں آہنی ہاتھوں سے ابتدا کرنا ہو گی۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سنائی جانے والی سزائے موت کے بلاشبہ دو نمایاں پہلو ہیں۔1۔قانونی 2۔سفارتی ۔۔۔تاریخ جب سے مرتب ہونا شروع ہوئی ہے اسی وقت سے یہ مسلمہ اصول وضع ہو گیا کہ جاسوسی کرنے والوں کے لئے کسی قسم کی معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ جب کبھی اور جہاں کہیں غیر ملکی جاسوس پکڑا گیا، فوری طور پر اس کی گردن مار دی گئی۔ جدید دور میں بھی سزا یہی ہے، ہاں، مگرچند تقاضے ضرور پیش نظر رکھے جاتے ہیں۔ اولین اہمیت اس امر کی ہوتی ہے کہ دوران تفتیش زیادہ سے زیادہ باتیں اگلوالی جائیں، تاکہ دشمن کے ارادوں کے ساتھ ساتھ اس کے نیٹ ورک کا بھی علم ہو سکے۔ انڈین نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو بڑی محنت کے بعد رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ وہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے بلوچستان و کراچی میں نفرت کے بیج بو رہا تھا اور انتہا پسند تنظیموں کے ذریعے خیبرپختونخوا اور فاٹا میں تخریبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا۔ پاک چین اقتصادی راہداری تو اس نیٹ ورک کا ہدف تھی ہی، مگر اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں جاری شورش کو بڑھاوا دے کر پاکستان کی سالمیت کے بھی درپے تھا۔ کراچی کے حوالے سے بھی ایسے ہی ناپاک عزائم تھے۔ افغان بارڈر کے ساتھ واقع بھارتی قونصل خانوں کے ذریعے شدت پسندوں سے رابطے کر کے زبردست مالی معاونت فراہم کی جارہی تھی۔ بھاری مقدارمیں اسلحہ پورے پاکستان میں پھیلایا جارہا تھا۔ سیکیورٹی فورسز پر حملوں، جگہ جگہ بم دھماکوں، دہشت گردی اور تخریب کاری کے ساتھ ساتھ اصل ٹارگٹ چھوٹے صوبوں کے عوام کو وفاق سے بدظن کرنا تھا۔ حسین مبارک پٹیل کے نام سے جعلی پاسپورٹ بنانے والے کلبھوشن یادیو نے اپنی سرگرمیوں کے لئے ایران کی سرزمین کو خوب استعمال کیا۔ گوادر پورٹ کے مقابلے کے لئے تیار ہونے والی چاہ بہار بندرگاہ کے قریب بھی جاسوسی کا مرکزی اڈا قائم کر رکھا تھا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ کلبھوشن یادیو کی مخبری ایران اور انڈیا کے لئے بیک وقت جاسوسی کرنے والے غدار وطن عزیر بلوچ نے کی تھی۔ پاکستانی سیکیورٹی اور خفیہ اداروں نے زبردست تگ و دو کے بعدکلبھوشن یادیو کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ بلوچستان میں موجود تھا۔ گرفتاری کے فوری بعد جب اسے سیف ہاؤس میں لے جا کر پوچھ گچھ کی گئی تو طوطے کی طرح فرفر بولنے لگا۔ کلبھوشن یادیو کو اچھی طرح سے علم تھا کہ اس کو پکڑنے والوں نے ہاتھ ڈالا ہی اس وقت ہے ۔جب تمام ثبوت اکٹھے کر لئے گئے۔ بچ نکلنے کی کوئی صورت تھی، نہ ہی جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ، اس لئے وقت ضائع کئے بغیر ’’سمجھداری‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعتراف جرم کر لیا۔آرمی ایکٹ کے تحت فیئر ٹرائل کے بعد بالآخر اسے سزائے موت سنا دی گئی۔ کلبھوشن یادیو جیسے ہائی پروفائل جاسوس کی گرفتاری کے باعث اعلیٰ بھارتی حکام پہلے ہی سے بری طرح بوکھلائے ہوئے تھے۔ پھانسی کی سزا کا سنا تو ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہو کر اول فول بکنے لگے۔ کسی بھی حد تک جانے کی گیدڑ بھبھکیاں دی جارہی ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اعترافات کے فوری بعد حکومت پاکستان نے اس حوالے سے عالمی برادری کو بھی اعتماد میں لینے کا سلسلہ شروع کیا۔ دنیا کو شواہد سے آگاہ کیا گیا۔ زبردست سبکی کا سامنا کرنے پر بھارت نے ایک اور جھوٹ تراشا اور یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے نہیں، بلکہ ایرانی شہر چاہ بہار سے اغوا کیا گیا۔ یہ لایعنی موقف محض عالمی برادری کے سامنے ’’فیس سیونگ ‘‘کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ اپنے مذموم عزائم کے باعث پوری دنیا کے سامنے عریاں ہونے کے باوجود بھارت نے سازشوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل حبیب ظاہر کو نیپال کے سرحدی شہر لمبیسی سے اغوا کر لیا گیا۔ ’’را‘‘نے اس مقصد کے لئے ایک پورا جال بچھایا۔ پاک فوج کے اس سابق آفیسر کو ای میل پر ایک پُرکشش جاب آفر کی گئی، جس کا معاوضہ ساڑھے تین سے ساڑھے آٹھ ہزار ڈالر تک بتایا گیا۔ ’’سٹارٹ سلوشنز‘‘ نامی ویب سائٹ سے ایک ریکروٹر مارک تھامسن نے ای میل کے ذریعے رابطہ کر کے کمپنی کے نائب صدر اور زونل ڈائریکٹر سیکیورٹی کے عہدوں کی پیشکش کی۔ کرنل حبیب اس جھانسے میں آگئے۔ وہ ملازمت کے لئے نیپال پہنچے۔ ائیر پورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نامعلوم شخص نے ان کا استقبال کیا، ساتھ لے گیا اور پھر وہ لاپتہ ہو گئے۔

انہیں کس نے اور کیوں اغوا کیا؟ یہ گتھیاں اب سلجھتی جارہی ہیں۔ پاکستانی ادارے اور دفتر خارجہ تو اس حوالے سے کافی واضح طور پر اشارے دے رہے ہیں۔ جس ویب سائٹ کے ذریعے کرنل (ر) حبیب کو ٹریپ کیا گیا، وہ ممبئی سے آپریٹ کی جارہی تھی ۔بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی اپنی رپورٹ بھی انہی خدشات کو مزید تقویت دے رہی ہے۔ بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ لاپتہ ہونے والے کرنل حبیب ’’را‘‘ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ کرنل حبیب 2014 ء میں پاک فوج سے ریٹائر ہو چکے تھے، لیکن ان کی آپریشنل صلاحیتوں کی وجہ سے ان کے ادارے نے مسلسل ان کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ بھارتی سیکیورٹی ذرائع نے مذکورہ اخبار کو خود ہی آگاہ کیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں ایک عرصے سے کرنل (ر) حبیب ظاہر کے پیچھے لگی ہوئی تھیں۔کرنل(ر) حبیب ظاہر کے ’’را‘‘ کے ہاتھوں اغوا کے معاملے کی سرکاری تصدیق ہونا اب محض رسمی کارروائی ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق پاکستانی کرنل نے 2014 ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد 2015 ء میں کلبھوشن یادیو اور ان کی فیملی سے رابطے کرنے شروع کئے اوران کا تعاقب کیا ۔ پھر 2016ء میں ان کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ بھارتی سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کلبھوشن یادیو کو سنائی جانے ولی سزائے موت اور کرنل(ر) حبیب ظاہرکی گمشدگی کے کیسوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور اس کا مقصد بڑا واضح ہے۔ پاکستانی ریٹائرڈ کرنل کی نیپال میں گمشدگی کے بعد بعض حلقے یہ خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارت کلبھوشن یادیو سے ملتا جلتا کوئی کیس ڈال کر ان کی گرفتاری اپنے کسی علاقے سے ظاہر کر سکتا ہے۔ اسی صورت میں کلبھوشن یادیو کے کیس کو کرنل(ر) حبیب کے معاملے سے منسلک کر کے سودے بازی کی کوشش کی جائے گی۔ بھارتی اخبار کی یہ رپورٹ اگر درست ہے تو نہایت تشویشناک بھی ہے۔ بھارت کو اتنی حساس معلومات کیسے حاصل ہوئیں؟ ہمارے ملک کے اندر بھی یقیناکوئی تو ہے جو اس سارے معاملے میں سہولت کار ہے۔ اس تمام قضیے کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، اب ہمیں بحیثیت قوم ڈٹ کر کھڑے ہونا ہو گا۔

سیاسی و عسکری قیادت نے تو واضح کر دیا ہے کہ کلبھوشن یادیو والے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ عام پاکستانی بھی بالکل یہی سوچ رکھتا ہے۔ اپنی ملکی سالمیت اور خودمختاری کے لئے ہمیں کہیں نہ کہیں تو فل سٹاپ لگانا ہو گا۔ کلبھوشن یادیو کوئی ریمنڈڈیوس ہے، نہ بھارت امریکہ ہے۔ ایک زندہ قوم کی طرح جس کے اپنے فعال ادارے موجود ہیں، قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ’’ناموس ریاست‘‘ کے لئے لازمی ہوچکا۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی دباؤ آئے۔ امریکہ اور بعض یورپی ممالک کے سفیر تو ابھی سے متحرک ہو گئے ہیں، مگر ہمیں کسی کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ کلبھوشن یادیو کو سنائی جانے والی سزا اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے ملکی قوانین پر عمل کرنے کے سوا کوئی اور راستہ ہی نہیں۔ یقینی طور پر سیاسی حکومت تنہا اس چیلنج سے نہیں نمٹ سکتی۔ تمام اداروں کو اس پوری کارروائی میں ایک ہی اپروچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ سفارتی دباؤ آئے تو معاملے کو مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب موڑا جائے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس حوالے سے غیر متوقع ،مگر بہت جامع بیان جاری کیا ہے ، جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرانے کی پیشکش کی گئی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی حکام اور ادارے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پائی جانے والی امریکی اور عالمی تشویش سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کو اس کے انجام تک پہنچانا ہمارے آئین اور ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ قومی غیرت کا بھی تقاضا ہے۔ ہمارا قومی مرض وہی پرانا ہے کہ ادارے اپنا اپنا کام ڈھنگ سے کرنے کے بجائے غیر متعلقہ کاموں میں پڑے رہتے ہیں۔ سب ڈھنگ اور سلیقے سے اپنی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہوتے تو نہ ملک کی یہ حالت ہوتی اور نہ ہی بھارت سمیت کسی بھی دشمن ملک کو پاکستان میں جاسوس بھیجنے کی جرأت ہوتی۔ ماننا ہو گا اور سب کو ماننا ہو گا کہ یہ ہماری اپنی کوتاہیاں اور کمزوریاں ہیں، جن کے باعث دشمن اپنے تئیں ہمیں ترنوالہ تصور کررہے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کے حوالے سے ہی سہی، ہمیں ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر اپنی خودمختار ی کے تصور کو پختہ کرنے کا موقع ملا ہے، اسے گنوانا نہیں چاہیے۔

پس تحریر:توقع کی جارہی ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ جلد آئے گا۔ پوری قوم کو انتظار ہے کہ قانون کے مطابق میرٹ پر فیصلہ سنایا جائے گا۔ انصاف کرنا عدلیہ کا کام بھی ہے اور نشان بھی۔ ایسے میں ایک فاضل جج کی جانب سے یہ ریمارکس سامنے آنا کہ ایسا فیصلہ کریں گے جو صدیوں یاد رہے گا ،کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ پاناما کیس کے حوالے سے یہ ریمارکس ایک دوسرے مقدمے( اورنج لائن ٹرین کیس) کی سماعت کے دوران دئیے گئے۔ اعلیٰ عدلیہ سے مودبانہ درخواست ہے کہ آپ کا کام دستور اور رائج الوقت قوانین کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے۔ انصاف دینے سے بڑی خدمت اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ ریمارکس دیتے ہوئے اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ انصاف اور صرف انصاف ہو گا۔ صدیاں تو دور کی بات، فیصلہ چند برسوں تک بھی یاد رکھنے کے قابل ہوا تو قوم مایوس نہیں کرے گی۔

مزید :

کالم -