’’سٹیٹس کو‘‘ کے حامی اور تبدیلی کا خواب

’’سٹیٹس کو‘‘ کے حامی اور تبدیلی کا خواب
 ’’سٹیٹس کو‘‘ کے حامی اور تبدیلی کا خواب

  

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ قبل از وقت انتخابات کرانا وزیراعظم کا استحقاق ہے،لیکن وہ ایسا نہیں سوچ رہے۔ اُن کی اِس بات سے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ قبل از وقت یا وقت پر انتخابات سے مُلک میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی تو یہ اُس کی خام خیالی ہے،زیادہ سے زیادہ حکومت تبدیل ہو گی، ایک جماعت کی جگہ دوسری جماعت کی حکومت قائم ہو جائے گی، باقی تو سب کچھ وہی رہے گا، جو موجود ہے اور جس میں تبدیلی کا فی الوقت دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ تبدیلی کے نعرے بہت لگتے ہیں، ہر کوئی اِس کی بات نظریۂ ضرورت کے تحت کرتا ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ عوام اس طرزِ سیاست اور نظامِ کہنہ سے تنگ آ چکے ہیں، اس نظام میں عوام کے لئے کچھ نہیں ہے، جس طرح منڈیوں میں آڑھتی، کسان تک فوائد نہیں پہنچنے دیتے، اسی طرح موجودہ نظامِ سیاست و جمہوریت میں سب کچھ وہ ارکانِ اسمبلی اور سیاسی جماعتیں لے جاتی ہیں،جو عوام کے نام پر سیاست کرتی اور انہی کے ووٹوں سے منتخب ہوتی ہیں۔ گزرے ہوئے ان چار برسوں پر نظر ڈالنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ سیاست کے زعماء کی دُنیا اور ہے اوروہاں عوام کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ عوام کی وہی بے قراری و بے تابی ہے جو پہلے تھی اور سیاست دانوں کا وہی چلن ہے جو ہمیشہ مفاد کی گرد سے اٹا رہا ہے۔وزیراعظم محمد نواز شریف کوئی فکری سیاست تو کرتے نہیں جس کی وجہ سے کوئی اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جائے کہ مُلک میں کوئی تبدیلی آ جائے گی، وہ تو سیدھی سادی ترقی والی سیاست کرتے ہیں اور ترقی بھی وہ جو سڑکوں، فلائی اووروں، اورنج لائن ٹرین جیسے منصوبوں اور میٹرو بسوں کی طرح نظر آئے۔ وہ اُس نظام کو چھیڑتے تک نہیں جو سارے فساد کی جڑ ہے اور جس میں عوام کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں۔

اب ذرا چشم تصور سے دیکھئے کہ قبل از وقت انتخابات کا اعلان ہو گیا ہے۔ نگران حکومتیں بن گئی ہیں، الیکشن کی بساط بچھا دی گئی ہے تو کیا موجود نظامِ انتخابات کے ہوتے کوئی بڑی تبدیلی آ سکے گی؟۔۔۔ پچھلے کئی برسوں سے تو یہی دیکھا جا رہا ہے کہ چند لوگ ہیں جو کبھی اِس پارٹی میں جاتے ہیں اور کبھی اُس پارٹی میں جاتے ہیں۔ چند خاندان ہیں، جنہوں نے مُلک کے مختلف علاقے سنبھال رکھے ہیں، گھوم پھر کر ہر جماعت کی سوئی انہی پر آ کر ٹک جاتی ہے۔ وہ کبھی پیپلزپارٹی میں چلے جاتے ہیں اور کبھی مسلم لیگ(ن) میں آ جاتے ہیں۔اِن دونوں سے ناراض ہونے والوں کے لئے تحریک انصاف دیدہ و دل فرش راہ کر دیتی ہے۔حال ہی میں گوشۂ گمنامی کا شکار لیاقت جتوئی اپنی مٹی جھاڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ اب تک تو وہ کوئی کارنامہ نہیں کرسکے۔ اب تحریک انصاف میں کون سی گیدڑ سنگھی ساتھ لے کر آئے ہیں کہ یہاں آتے ہی وہ انقلاب لے آئیں گے؟ اُن کی تو اپنی تاریخ خاصے الزامات اور تنازعات میں الجھی ہوئی ہے،مگر کیا کِیا جائے اور کوئی موجود ہی نہیں۔ جب قحط الرجال ہو تو روڑی کی بھی سُنی جاتی ہے۔ سارا قصور سیاسی جماعتوں کا نہیں، عوام کا بھی ہے۔ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ کوئی نامی گرامی سیاست دان ہو، جسے وہ اپنا نمائندہ منتخب کریں، بھلے وہ چور ہو، لٹیرا ہو، پکڑا گیا ہو، نیب کو مطلوب ہو، مگر ہو نامی گرامی، اِس لئے مستند لٹیرے بھی انتخابات کے دِنوں میں دامن جھاڑ کر سامنے آ جاتے ہیں۔ اُن پر کوئی اُنگلی اِس لئے نہیں اٹھاتا کہ اُن کے سامنے بھی کوئی فرشتہ نہیں،بلکہ اُن جیسا ہی کوئی کردار ہوتا ہے۔

2013ء میں جب دھاندلی کے الزامات لگے، دھرنے ہوئے، احتجاجی تحریکیں چلیں تو تان اِس نکتے پر ٹوٹی کہ آئندہ انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں گی،لیکن اس ضمن میں کچھ بھی نہیں ہوا اور انتخابات سر پر آ گئے ہیں۔ انتخابی اصلاحات میں کبھی بھی کسی سیاسی جماعت کا یہ ایجنڈا نہیں رہا کہ اہلیت کے معیار کو کیسے بہتر بنانا ہے؟ بلکہ سارا زور اِس بات پر دیا جاتا ہے کہ پولنگ کے دن دھاندلی کیسے روکنی ہے اور نتائج کے عمل کو شفاف کیسے بنانا ہے؟ کبھی اِس پہلو پر کسی نے زور نہیں دیا کہ انتخابات کو دولت و امارت کا جو کھیل بنا دیا گیا ہے، اُس کا خاتمہ کیسے کیا جائے، تاکہ کوئی عام آدمی بھی انتخابات میں حصہ لے سکے۔ اب تو یہ چکر چلا ہوا ہے کہ اِدھر کروڑوں روپے خرچ کر لئے ہیں اور اُدھر منتخب ہو کر کروڑوں، بلکہ اربوں بنانے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنی ٹکٹیں بیچتی ہیں، جو زیادہ بولی لگا دے، وہ ٹکٹ حاصل کر لیتا ہے۔ وہ ایسے کسی امیدوار کو ٹکٹ ہی نہیں دیتیں جو انتخابات میں دو چار کروڑ خرچ کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔ ایک زمانہ تھا کہ سیاسی جماعتیں چند فی صد کارکنوں کو بھی ٹکٹ دے دیتی تھیں، مگر اب تو سیاسی جماعتوں کو ان داتا قسم کے امیدواروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں ایک بار حج کرنے والے پر اگلے سات سال تک حج پر نہ جانے کی پابندی تو لگا دی جاتی ہے، مگر بار بار الیکشن لڑنے والوں پر کوئی آئینی قدغن نہیں لگائی جاتی، الٹا یہ دلیل لائی جاتی ہے کہ وہ تجربہ کار پارلیمینٹرین ہیں، اُن کے ہونے سے سیاست اور جمہوریت میں بہتری آئے گی۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ اُن کے بار بار اسمبلی میں آنے سے ہی تو ساری خرابیاں پیدا ہوئی ہیں اور یہی لوگ تو مُلک میں سیاست کے نام پر کرپشن، اختیارات سے تجاوز اور قانون شکنی کرنے والے ہیں۔بہت سے لوگ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ پاناما کیس کا فیصلہ انتخابی عمل کو بھی سیدھا کر دے گا۔ہماری یہ پرانی عادت ہے کہ امید کا کوئی نہ کوئی روزن تلاش کر لیتے ہیں، جیسے آج کل پاناما کا روزن تلاش کر رکھا ہے۔ جب سے سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے یہ کہا کہ پاناما کیس میں ایسا فیصلہ دیں گے جو صدیوں تک یاد رہے گا، اُسی وقت سے بھانت بھانت کے تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ ممکن ہے یہ فیصلہ واقعی ہمارے لئے امرت دھارا ثابت ہو،لیکن زمین پر جو کچھ ایک بڑے گند کی صورت میں موجود ہے، اُسے کسی ایک فیصلے سے کیونکر صاف کیا جا سکتا ہے؟

مَیں تو صرف اتنی سی امید لگائے بیٹھا ہوں کہ سپریم کورٹ اپنے اس فیصلے میں آئین کی شق62-63 کی مکمل وضاحت کر دے اور اسے ابہام سے نکال کر اس طرح سامنے لے آئے کہ جب انتخابات کے لئے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرائے جائیں تو ریٹرننگ افسر کو یہ مشکل پیش نہ آئے کہ کون اِس پر پورا اترتا ہے اور کون پورا نہیں اُترتا؟ آئین کی یہ شقیں ہی وہ موہوم سی امید ہیں، جو آئندہ انتخابات میں اچھے لوگوں کے سامنے آنے کے ضمن میں باندھی جا سکتی ہیں۔2013ء کے انتخابات سے پہلے ان شقوں کو جس طرح مذاق بنا کر رکھ دیا گیا، اُس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی تھی کہ ہم ایک صالح، ایماندار اور پُرخلوص قیادت چاہتے ہی نہیں۔اگر سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں اِن شقوں کی حدود و قیود طے کر دے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ بہت سے پرانے کھلاڑی جو ہماری سیاست کو کئی دہائیوں سے گدلا کئے ہوئے ہیں، خود بخود سیاست سے کنارہ کش ہو کر گھر بیٹھ جائیں گے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جب تک سیاسی جماعتیں جیتنے والے گھوڑوں کے چنگل سے نہیں نکلتیں اور ایک کے بعد دوسری پارٹی میں جا کر ہر صورت اقتدار کے مزے لوٹنے والے سیاسی کرداروں سے جان نہیں چھڑاتیں، اُس وقت تک نہ تو ہماری سیاست بامقصد ہو سکتی ہے اور نہ ہی مُلک میں کوئی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ آپ ذرا اس نکتے پر غور فرمائیں کہ ایک طرف عزیر بلوچ کے یہ انکشافات ہیں کہ اُس نے آصف علی زرداری کے کہنے پر کلفٹن کے چالیس بنگلے اُونے پونے خرید کر انہیں دیئے اور دیگر ایسے بے شمارکام کئے۔ دوسری طرف آصف علی زرداری کا یہ دعویٰ ہے کہ اس بار وہ پنجاب اور وفاق میں حکومت بنا کر دکھائیں گے، کس بات کی چغلی کھاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہنا وہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت بنانا عوام کا نہیں،بلکہ سیاسی شطرنج میں مہارت رکھنے والے اُن جیسے لوگوں کا کام ہے۔عوام کے سامنے جو مہرے رکھے جائیں گے، وہ اُن پر نشان لگا دیں گے، کیونکہ اس کے سوا اُن کے پاس دوسرا کوئی آپشن ہو گا ہی نہیں۔ اس طریقے سے اقتدار میں آنے والوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ مُلک میں بڑھتے ہوئے سیاسی، سماجی، مذہبی، لسانی اور علاقائی چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں گے، دیوانے کا خواب ہے۔ نئے عمرانی نظریۂ پاکستان کی اشد ضرورت ہے، مگر اس کے امکانات دور دور تک اِس لئے دکھائی نہیں دے رہے کہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ کی طاقتیں پورے نظام کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔

مزید :

کالم -