سب سے بڑا بم افغانستان پر چل گیا

سب سے بڑا بم افغانستان پر چل گیا

  

امریکہ نے افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں سب سے بڑے غیر ایٹمی بم سے حملہ کر دیا، جس کا وزن21ہزار600پاؤنڈ(تقریباً11ٹن) ہے، جس علاقے میں بم گرایا گیا یہ پاکستانی سرحد کے قریب ہے، اس ہتھیار کو ایٹم بم کے بعد سب سے تباہ کن اور ہلاکت خیز بم سمجھا جاتا ہے،جو داعش (آئی ایس آئی ایس) کے زیر استعمال سرنگوں پر مشتمل کمپلیکس کو نشانہ بنانے کے لئے پھینکا گیا، اِس غیر ایٹمی ہتھیار کو ’’تمام بموں کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے۔اگرچہ یہ تو نہیں بتایا گیا کہ اِس بم کے نقصان کی نوعیت کیا تھی اور جن سرنگوں پر یہ پھینکا گیا اُن کی اب کیفیت کیا ہے اور وہ کس حد تک قابلِ استعمال رہ گئی ہیں۔ تاہم افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا ہے کہ ’’آئی ایس آئی ایس خراسان‘‘ کے خلاف حملے کے لئے یہ بہترین ہتھیار ہے، جس سے داعش کے خلاف مقاصد حاصل ہوں گے اور داعش کے خاتمے تک امریکی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی‘‘۔ اِس ہتھیار کا تجربہ پہلی مرتبہ2003ء میں کیا گیا تاہم اس کے باقاعدہ جنگی مقاصد کے لئے استعمال کی نوبت اب آئی ہے۔ ایک بیان میں امریکی ترجمان شان سپائر نے کہا ہے کہ امریکہ داعش کے خلاف لڑائی کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور ہم پُرعزم ہیں کہ داعش کو متحرک ہونے کی کوئی جگہ نہ دی جائے۔ اس ٹھکانے سے امریکی افواج پر حملے کئے جاتے رہے ہیں، بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ اس بات کو مدّنظر رکھا گیا تھا کہ شہری آبادی کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ بم امریکی فضائیہ کے سی130طیارے نے ہداف پر گرایا۔

ننگر ہار میں داعش کے زیر استعمال غاروں اور سرنگوں پر امریکی بمباری سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ شام میں ہزیمت اور بعض مقامات پر پسپائی کے بعد داعش نے افغانستان کا رُخ کیا ہے اور یہاں اپنے محفوظ ٹھکانے ایسے مقامات پر بنائے ہیں جو زمینی راستوں کے ذریعے قابلِ رسائی نہیں ہیں اور اگر ایسے کسی مقام پر کارروائی کے لئے امریکی یا افغان فورسز آگے بڑھیں گی تو اُنہیں نہ صرف غیر معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،بلکہ ایسی کسی کارروائی سے بہت زیادہ جانی نقصان کا بھی اندیشہ ہے، اِسی لئے امریکہ نے فضائی کارروائی کا فیصلہ کیا اور بم بھی ایسا طاقتور گرایا جو سرنگوں اور غاروں کے اندر تک کارآمد ہو سکتا ہے۔ جب سے صدر ٹرمپ برسر اقتدار آئے ہیں یہ دوسری بڑی کارروائی ہے جو اُن کے حکم سے کی گئی ہے اس سے پہلے شام کے فوجی اڈے پر بیک وقت59میزائل برسا دیئے گئے تھے۔ یہ میزائل اس ہوائی اڈے پر پھینکے گئے جہاں سے مبینہ طور پر شامی باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا، جس سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی۔ اگرچہ شام کی حکومت اور اس کے حامی روس کا دعویٰ ہے کہ میزائلوں کے حملے سے پہلے امریکہ کو اِس بات کی تصدیق کرنی چاہئے تھی کہ کیمیائی ہتھیار واقعی شامی فوج نے استعمال کئے تھے یہ بھی عین ممکن ہے کہ ایسے ہتھیار خود باغیوں نے عالمی رائے عامہ کو استعمال کرنے کے لئے استعمال کر لئے ہوں۔اِن دونوں واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے انتخابی وعدوں کے برعکس اب شام میں نئی پالیسی اختیار کر رہے ہیں اور سابق صدر اوباما کی شام کے متعلق پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنانے کا دور گزر گیاہے، افغانستان پر داعش کے ٹھکانے پر حملہ یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ اِس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ داعش کے خطرے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں اور اگر ایسا کیا گیا تو یہ خطرہ بڑھتا رہے گا اِس لئے امریکہ کا سب سے خطرناک اور نیا ہتھیار پہلی ہی مرتبہ استعمال کر ڈالا گیا ہے اِس سے امریکہ کو اِس ہتھیار کی ہلاکت خیزی کا بھی درست ادراک ہو جائے گا۔

اتنے تباہ کن اور جدید ترین ہتھیار کا استعمال بذاتِ خود اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ امریکہ کو داعش کے خطرے کا بھرپور احساس ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کا استحصال نہ کیا گیا تو یہ پھیلتا چلا جائے گا اور دُنیا کے بہت سے ممالک میں دہشت گردی کی جو کارروائیاں وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی ہیں اُن کا سلسلہ بھی نہیں رُک سکے گا۔ اگرچہ صدر ٹرمپ شام کی صورتِ حال کے متعلق اپنے پیشرو سے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں تاہم اب محسوس ہوتا ہے کہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اُن کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے اور وہ نئے حقائق سے روشناس ہوئے ہیں۔ اب یہ امکان بھی نظر آتا ہے کہ امریکہ فوری طور پر افغانستان سے کلّی انخلا کے لئے بھی تیار نہیں ہوگا، اور جتنی فوج اس وقت افغانستان کے اندر موجود ہے اس کی تعداد میں مزید کمی نہیں کی جائے گی

اس وقت افغانستان کے حالات بھی مستحکم نہیں ہیں اور دارالحکومت کابل سمیت کسی نہ کسی شہر میں خود کش حملے ہوتے رہتے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی شہری ہلاک ہو رہے ہیں تاہم افغانستان میں امن کے لئے روس بھی اپنی نوعیت کی ایک منفرد کاوش شروع کر چکا ہے اور ماسکو میں افغانستان میں امن لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ان مذاکرات میں طالبان شریک نہیں اور وہ اِس کوشش کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ یہ امن مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ ہے اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ طالبان اور افغان انتظامیہ ایک میز پر کیسے بیٹھیں؟ دونوں کے نظریات مختلف ہیں اور دونوں مذاکرات کے لئے اپنی اپنی شرائط رکھتے ہیں۔ خطے کے ممالک کو افغانستان کے حالات کے متعلق تشویش ہے، پاکستان افغان حالات کی وجہ سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے اِس لئے اس کی کوشش یہ ہے کہ افغان انتظامیہ اور طالبان کسی نہ کسی طرح مذاکرات کا آغاز کر دیں۔ ماسکو میں افغان مذاکرات کا یہ راؤنڈ اگرچہ کسی نتیجے پر پہنچتا تو نظر نہیں آتا تاہم لگتا ہے کہ روس اِس سلسلے میں اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔شام میں امریکی مداخلت بڑھ گئی ہے اور افغانستان میں امریکہ نے دُنیا کے سب سے بڑے بم سے حملہ کر کے یہ پیغام دے دیا ہے کہ ابھی دُنیا میں امن کا دور بہت دُور ہے، بدقسمتی کی بات ہے کہ جنگجو تنظیموں نے دُنیا کے بہت سے خطوں میں بدامنی کے جو شعلے دہکا رکھے ہیں نہ صرف وہ پھیلتے جا رہے ہیں،بلکہ دُنیا اِن جنگجوؤں کی تمام تر کارروائیوں کو مسلمانوں کے ساتھ نتھی کر دیتی ہے، حالانکہ شام و عراق میں بدامنی پھیلانے والوں کا ایجنڈا اپنا ہے ان کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں، تاہم اِن جنگجوؤں نے جو حالات پیدا کر رکھے ہیں اُن کا علاج بھی طاقت کے اندھے استعمال ہی میں دیکھا جا رہا ہے، جس سے دُنیا کے بہت سے خطے اگلے کئی عشروں تک عدم استحکام کی بھٹی میں جلتے رہیں گے۔

مزید :

اداریہ -