وزیراعلیٰ سندھ کی دھمکی؟

وزیراعلیٰ سندھ کی دھمکی؟

  

یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی محاذ آرائی اب حقوق اور معاشی جنگ میں تبدیل ہونے لگی ہے، اِس کا اندازہ سندھ حکومت اور وفاقی محکموں کے درمیان دوبدو ہونے سے ہو جاتا ہے، پہلے ہی انسپکٹر جنرل پولیس کراچی کے تبادلے کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے کہ اب سندھ حکومت اور سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کے درمیان سخت قسم کی کشمکش شروع ہو گئی اور سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے گیس پائپ لائن کے کنکشن کاٹنے اور سوئی سدرن کے دفاتر پر قبضے کی دھمکی دے دی ہے، اسے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ’’جذباتی بھڑک ‘‘ قرار دیا، تاہم سندھ اسمبلی نے اس معاملے کو سنجیدہ لیا ہے، وزیراعلیٰ نے اعلان بھی اسمبلی میں کیا اور ان کو اپوزیشن کی حمائت بھی مل گئی ہے۔ جو کراچی کے مسئلے پر اُن کے خلاف مسلسل نکتہ چینی کررہی تھی۔وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی غلام قادر چانڈیو نے نقطہ اعتراض پر تقریر کرتے ہوئے کی جانے والی شکایت کے جواب میں خطاب کیا۔ غلام قادر چانڈیو نے کہا کہ سندھ کے عوام بلا شیڈول لوڈ شیڈنگ سے بلبلا رہے ہیں کہ بارہ بارہ اور سولہ سولہ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے اور بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ وقت کے لئے بجلی نہیں ملتی، اس کے جواب میں سید مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مسئلہ متعلقہ فورم پر کئی بار اٹھایا گیا اس کے علاوہ رواں مالی سال کے بجٹ میں نوری آباد میں 100میگاواٹ کا ایک بجلی گھر بنانے کی گنجائش رکھی گئی۔ اِس سلسلے میں حیدر آباد الیکٹریسٹی کمپنی کو پیشکش کی گئی کہ وہ اِس پاور سٹیشن کی پیداوار لے کر صارفین کو بجلی مہیا کرے حیدر آباد الیکٹرسٹی کمپنی نے پیشکش یہ کہہ کر مسترد کردی کہ ان کے علاقے میں لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی ہے ، اس کے بعد یہ معاہدہ کراچی کی کے، الیکٹرک سے کرکے ٹرانسمیشن لائن بھی بچھا دی گئی، لیکن سوئی سدرن نے تاحال پاور پلانٹ کے لئے گیس مہیا نہیں کی، وزیراعلیٰ کا اس پر کہنا تھا کہ سندھ گیس کی 70فیصد ضرورتیں پوری کرتا ہے اور اسے ہی گیس نہیں دی جاتی،جو آرٹیکل 158 کے تحت صوبے کا حق ہے، سوئی سدرن نے جواب میں کہا کہ معاہدہ ہوچکا، اور جونہی کمپنی کے پاس ایک ارب روپے کی بینک گارنٹی آجائے گی گیس مہیا کردی جائے گی۔

ضرورت، حق اور استعمال اپنی جگہ اور یہ بھی کہ سندھ 70 فیصد گیس پیدا کرتا ہے یہ سوال مشترکہ کونسل کے اجلاس میں بھی کیا جا سکتا اور اس کے لئے دوسرے فورم بھی موجود ہیں اس لئے وزیراعلیٰ سندھ کی طرف سے گیس بند کر دینے کی دھمکی مناسب عمل نہیں ہے، ان کو خود ہی اپنے الفاظ پر غور کر لینا چاہئے۔ یوں بھی ان کو خود دلچسپی لے کر کمپنی سے بات کرنے کی ضرورت تھی اور ہے کہ کمپنی کے مطابق گیس دینے سے انکار نہیں کیا گیا ،البتہ سیکیورٹی طلب کی گئی جو طریق کار اور ضابطے کے مطابق ہے اس بات کا جواب وزیر اعلیٰ کے ذمے ہے۔ اِن حالات سے واضح ہوتا ہے کہ اِس معاملے پر بات چیت کی جاتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی اب بھی بہرحال وفاقی حکومت کو مداخلت کرکے یہ مسئلہ حل کرانا چاہئے جیسا کہ وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے بھی کہا ہے ، سندھ حکومت کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا ہو گا کہ یہ لب و لہجہ جمہوریت کے بھی منافی ہے، فریقین کو تحمل سے کام لینا ہو گا کہ حالات بتاتے ہیں کوئی تنازعہ نہیں اور بات کرنے سے معاملہ حل ہو جائے گا۔

شیخوپورہ میں دردناک واردات!

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بجا طور پرنوٹس لیا اور شیخوپورہ کے طالب علم کے ساتھ بہیمانہ سلوک کرنے والے ملزموں کو سخت ترین سزا دینے کی ہدایت کی ہے، سولہ سالہ طالب علم عیش کو ملزموں نے بدترین سلوک کا نشانہ بنایا ہے اور محض شک کی بنا پر نہ صرف اُس کی دونوں آنکھیں نکال کر اُسے اندھا کر دیا،بلکہ اُس کے عضوخاص کو بھی کاٹ کر اُسے معذور بنا دیا ہے۔ یہ انتہائی ظالمانہ سلوک ہے، جس کی پہلے کہیں مثال نہیں ملتی، اِس سلسلے میں پولیس کے رویے کی بھی شکایت ملتی ہے کہ اتنا بڑا سانحہ ہوا اور مقدمہ صرف قاتلانہ حملے کے الزام میں درج ہوا، پھر ملزم بھی گرفتار نہیں کئے گئے۔ عیش کے والدین اُسے گود میں لے کر چیخ و پکار کرتے پائے گئے ہیں۔

یہ اکیسویں صدی ہے اور اس میں بھی رومن دور جیسے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ہمارے مُلک میں دیہاتی زندگی آج بھی پرانے دور کے جاگیردارانہ معاشرے میں ہے، جہاں طاقتور ہی کا قانون چلتا ہے اس میں پولیس بھی بااثر حضرات کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔یہ تو اپنی نوعیت کی پہلی واردات ہے اِس سے پہلے بھی آنکھیں نکالنے یا معذور کرنے کے واقعات ہوتے رہے، ہر واردات پر سخت سزا اور نشانِ عبرت بنانے کی باتیں بھی ہوئیں، لیکن عمل کبھی نہ ہوا۔ یوں بھی ایسے واقعات چند روز تک میڈیا کی زینت بنتے اور پھر بھلا دیئے جاتے ہیں۔اِس واردات کے حوالے سے اب وزیراعلیٰ نے نوٹس لیا، پولیس اہلکار معطل بھی کئے گئے اصل مسئلہ پیروی کا ہے کہ اِس کا انجام بھی عبرت آموز ہو، اِس سلسلے میں انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں کا کردار بالکل سامنے نہیں آیا کہ ابھی تک یہاں دورِ جہالت جیسے ایسے دردناک واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -