23ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں میں توسیع سپریم کورٹ میں چیلنج

23ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں میں توسیع سپریم کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد (آن لائن ) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے 23ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں میں توسیع کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے ،جمعہ کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی کی جانب سے دائر درخواست میں وفاق، وزات قانون ،وزارت دفاع کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں اور 23 ویں ترمیم سے آزاد عدلیہ کا تصور متاثر ہوگااور عام شہری کے بنیادی حقوق متاثر ہونگے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پہلے بھی 2 سال کے لیے فوجی عدالتیں بنائی گئیں لیکن فوجی عدالتوں کے قیام کا تجربہ ناکام ہوا ہے ا س کے باوجود ناکام تجربے کو دوبارہ دہرانے کا کوئی جواز نہیں بنتا،درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 23 ویں ترمیم کے ذریعے ناکام تجربے کو نئی زندگی دی گئی ،سپریم کورٹ نے دہشتگردی کی جنگ کو مدنظر رکھ کر 21 ویں ترمیم کو برقرار رکھا تھا، درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ 23 ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کوکالعدم قرار دے کیوں کہ دونوں ترامیم آئین کے ڈھانچے اور خدوخال سے متصادم ہیں۔

چیلنج

مزید : علاقائی