تاریخی ورثہ کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اس پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں : سپریم کورٹ

تاریخی ورثہ کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے اس پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں : سپریم ...

اسلام آباد (آن لائن )سپریم کورٹ میں اورنج لائن میٹروٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تاریخی ورثہ کا تحفظ ہماری بھی ذمہ داری ہے، جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ جوتاریخی ورثہ بچ گیا اس کا تحفظ ضروری ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ تاریخی ورثہ پر کو ئی سمجھوتہ نہیں لیکن لاہور شہر کو ترقی بھی عزیز ہے ،جمعہ کو کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید ، جسٹس مقبول باقر ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل پانچ رکنی لارجربنچ نے کی، دوران سماعت سول سوسائٹی کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کسی ادارے کی تاریخی ورثہ کے تحفظ کی ذمہ داری نہیں لگائی گئی،نیسپاک کا بطور کنسلٹنٹ تقرر بھی شفاف نہیں ہوا،اس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت کے سامنے منصوبے کی شفافیت کا مقدمہ نہیں جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت کے سامنے مقدمہ تاریخی ورثہ اور ٹرین کی تھرتھراہٹ کا ہے،جسٹس اعجاز افضل نے کہ اکہ منصوبہ کی شفافیت پر اعتراض ہے تو الگ مقدمہ دائر کریں۔جبکہ نیسپاک کے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ بارہ ہفتے نگرانی میں کوئی نقصان ہوا تو ٹرین روک دی جائے گی، جبکہ ارکیالوجسٹ کامل خان ممتاز نے کہا کہ بادشاہی مسجد،جہانگیر مقبرے کے مناروں کی دنیا میں اہمیت ہے،منصوبے کی تعمیرات سے تاریخی ورثہ کی جوبصورتی ختم ہو جائے گی، جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ جوتاریخی ورثہ بچ گیا اس کا تحفظ ضروری ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ تاریخی ورثہ پر کو ئی سمجھوتہ نہیں۔کامل خان ممتاز نے کہا کہ زیب النساء سائیٹ سے چوبرجی تک میٹرو ٹرین زیر زمین چلائی جائے۔ عدالت نے بریفنگ کے لیے حکومت کو ماہر نامزد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی ۔

سپریم کورٹ

مزید : علاقائی