وزرا ء کی عدم موجودگی ، چیئرمین سینیٹ ناراض ، گھر چلے گئے ، ڈار منانے ناکام

وزرا ء کی عدم موجودگی ، چیئرمین سینیٹ ناراض ، گھر چلے گئے ، ڈار منانے ناکام

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان میں وزرا کی عدم موجودگی پر احتجاجاً کام کرنا بند کر کے سرکاری پروٹوکول واپس کردیا جبکہ سیکرٹریٹ کوہدایت کی ہے کہ کوئی سرکاری فائل مجھ تک نہ لائی جائے کیونکہ میں اب چیئرمین نہیں ہوں۔ سینیٹ میں گزشتہ روز وقفہ سوالات کے دوران ایوی ایشن ڈویژن سے متعلقہ سوالات وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد کی درخواست پر پہلے لئے گئے جس کے بعد کیڈ سے متعلقہ سوالات ایجنڈے پر تھے تاہم وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے چیئرمین کو بتایا کہ کیڈ ڈویژن کے بعض سوالات وزارت داخلہ و انسداد منشیات کو منتقل کئے ہیں کیونکہ یہ کیڈ سے متعلقہ نہیں ہیں۔ چیئرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ وزراء ایوان میں موجود نہیں ہیں جو ارکان کے سوالات کے جوابات دے سکیں اس کے بعد انہوں نے اجلاس کچھ وقت کیلئے ملتوی کردیا۔دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو چیئرمین نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سیکرٹریٹ متعلقہ سیکرٹریوں کو یہ پیغام دے دے کہ تمام وزارتوں کے سیکرٹریوں،ایڈیشنل اور جوائنٹ سیکرٹریوں کو فائنل نوٹس ایشو کئے جارہے ہیں کہ اگر ایوان کی کارروائی کو سنجیدہ نہ لیا اور وقفہ سوالات میں ارکان کے سوالات کے درست اور بروقت جوابات فراہم نہ کئے گئے تو ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ ان کی حتمی وارننگ ہے۔رضا ربانی نے کہاکہ جب سے یہ سیشن شروع ہوا وزرا ء نہیں آرہے اگرحکومت کو مجھ سے مسئلہ ہے تو میں مستعفی ہونے کو تیار ہوں حالانکہ میں آئینی طریقے سے ایوان کو چلانے کی کوشش کررہا ہوں مگر اب ایسا ناممکن ہوتا جارہا ہے حکومت سینیٹ کی آئینی حیثیت کو تسلیم کرنا ہی نہیں چاہتی ملکی معاملات میں سینیٹ اپنا آئینی کردار ادا کر رہی ہے تاہم حکومت کا رویہ ٹھیک نہیں۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے (آج) ہفتہ سے شروع ہونے والا دورہ ایران بھی منسوخ کردیا ۔مسلم لیگ (ن ) اے این پی اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ کے اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ سینیٹر رضا ربانی کی وجہ سے ایوان بالاکا وقار بڑھا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں راجہ ظفر الحق نے کہاکہ رضا ربانی کی ناراضی بجا ہے ،ان سے کہا ہے کہ سفر جاری رکھیں گے اورجو بھی خامیاں ہیں انہیں دور کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بیک وقت دونوں ایوانوں میں اجلاس بلائے گئے ٗاس لئے کچھ وزراء قومی اسمبلی اور کچھ سینیٹ میں تھے،اس لئے کنفیوژن پیدا ہوئی ۔راجہ ظفر الحق نے کہاکہ میں نے رضا ربانی سے ملاقات میں انہیں کہا کہ آپ نے دو سال میں بہت سی اصلاحات کی ہیں۔ایم کیو ایم کے طاہر مشہدی نے کہا کہ وزراء کرپشن میں لگے ہوئے ہیں ان کے پاس ٹائم نہیں ، اگررضا ربانی نے استعفیٰ دیا تو تمام ارکان مستعفی ہوجائیں گے۔اے این پی کے شاہی سیداور زاہد خان نے رضا ربانی کے اقدام کو درست قراردیا ہے اور کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے جو کچھ کیا وہ اچھی بات اور درست کام ہے۔زاہد خان نے مزید کہاکہ پارلیمانی جمہوری حکومت عوام کو جوابدہ ہوتی ہے مگرحکومت جمہوری رویوں سے ناآشنا ہے۔مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر نثار محمد خان نے حکومتی رویے سے دلبرداشتہ ہو کر سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا سے منتخب ہونے والے مسلم لیگ ن کے سینیٹرنثار محمد خان نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کو پیش کردیا۔نثار محمد خان نے کہا کہ وہ حکومتی رویے سے نالاں ہیں کیونکہ حکومت نے ایوان بالا کے افراد سے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ درست نہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں اور اس معاملے پر ان کے ساتھ ہیں۔چیرمین سینٹ کی ناراضگی کے بعد گذشتہ چند گھنٹوں میں ا سحاق ڈار نے ان سے تین ملاقاتیں کیں تاہم کوئی بھی ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔ نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسحاق ڈار کی ملاقاتیں بھی چیرمین سینٹ کو راضی نہ کرسکے۔ اسحاق ڈار نے وزیر اعظم کو چیرمین سینٹ کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے چیرمین سینٹ کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی مگر حکومتی یقین دہانی بھی رضا ربانی کے ساتھ معاملات کو طے نہیں کر سکی۔ جبکہ رضا ربانی نے حکومتی یقین دہانی پر سینٹ کے دیگر ارکان کو اطمینان میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق حکومت اور چیرمین سینٹ کے درمیان مزید مذاکرا�آاج ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے

مزید :

صفحہ اول -