مودی کا الیکشن ڈرامہ فلاپ ، مقبوضہ کشمیر میں ٹرن آؤٹ 2فیصد سے کم ، بھارت کا پاکستان پر الزام

مودی کا الیکشن ڈرامہ فلاپ ، مقبوضہ کشمیر میں ٹرن آؤٹ 2فیصد سے کم ، بھارت کا ...

  

سرینگر( مانیٹرنگ ڈیسک /ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آئین کے تحت رچایا گیا الیکشن کا ایک اور ڈرامہ فلاپ ہو گیا ہے جہاں لوگوں نے حریت قیادت کی اپیل پر انتخابی عمل کا مکمل بائیکاٹ کیا، ٹرن آؤٹ2فیصد کی شرمناک حد سے بھی کم رہا،پولنگ مراکز میں سے 27پر ایک ووٹ نہیں پڑا ،انتخابی عملہ نیند کے مزے لیتا رہا،مجموعی طور پر 709ووٹ پول پو ئے ، حریت قیادت کی اپیل پر لوگوں نے الیکشن ڈرامے کا مکمل بائیکاٹ کیااور ہڑتال کی ،فورسز کے ساتھ تصادم ،پتھراؤ کے الزام میں 32نوجوان گرفتار کئے گئے ۔سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے قابض فورسز لوگوں کو گھروں سے زبردستی نکالنے میں بھی ناکام رہیں،ووٹنگ کی شرح میں کمی کا الزام بھی بھارت کی جانب سے پاکستان پر عائد کیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں سخت سکیورٹی بندوبست اور ناکہ بندی کے باوجود38 پولنگ مراکز پردوبارہ ووٹنگ کے دوران صرف2فیصد لوگوں نے ہی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا27پولنگ مراکز پر پولنگ عملہ ووٹروں کا انتظار کرتے رہا۔ نصر اللہ پورہ میں احتجاجی کے دوران ایک درجن افراد زخمی ہوئے جبکہ سوئیہ بگ اور بیروہ میں بھی سنگبازی ہوئی۔ ریاستی پولیس سربراہ ایس پی وید نے پرامن انتخابات کا سہراپولیس اور فورسز کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صبر کے دامن کو ہاتھوں سے جانے نہیں دیا۔بڈگام کے38پولنگ مراکزپر از سر نو انتخابات کا عمل سخت سیکورٹی کے بیچ مکمل کیا گیا۔ 38پولنگ مراکز پر مجموعی طور پر2فیصد ووٹروں نے اپنی رائے دہی کا اظہار کیا جبکہ بیشتر جگہوں پر پرامن طریقے سے انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ 38پولنگ مراکز پر مجموعی طور پر709ووٹ ڈالے گئے کل ملاکر ان پولنگ مراکز پر ووٹروں کی تعداد35ہزار169تھی۔ چیف الیکٹورل افسر شانت منو نے کہا 38پولنگ سٹیشنوں کے 35169رائے دہندگان میں709نے دوبارہ پولنگ کے دوران اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔چیف الیکٹورل افسر کے مطابق مجموی طور پر 2.02فیصد رائے دہندگان نے ووٹ کا استعمال کیا۔ اس دوران38میں سے27کے قریب ایسے پولنگ مراکز تھے جہاں پر کوئی بھی ووٹ نہیں ڈلا گیا۔ کرالہ پورہ60-Aاور61-Bکے علاوہ پنچایت گھر کرالپورہ میں واقع63-Dاور گورنمنٹ ہائر اسکینڈری انسٹی چیوٹ واتھورہ سمیت ریہ پورہ چاڈورہ اور ہائراسکینڈری اسکول سوئیہ بگ میں کوئی بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا ۔بڈگام میں 2بجے تک3ووٹروں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا جبکہ خانصاحب میں کسی نے بھی ووٹ نہیں ڈالا۔سب سے زیادہ ووٹ ڈونی واری حلقہ انتخاب چاڈورہ میں پڑے ۔ڈونی واری میں 1247ووٹروں میں سے دو پہر1بجے تک 243ووٹ پڑے تھے ۔9اپریل کو ہوئی ووٹنگ کے دوران یہاں 670ووٹ ڈالے گئے تھے ۔38پولنگ مراکز میں سے 2پولنگ مراکز کو دوسری جگہ منتقل بھی کیا گیا تھا ۔نصر اللہ بی اور سی پولنگ مراکز کو ٹکی پورہ منتقل کیا گیا ۔ہڑتال اور بائیکاٹ کال کے بیچ 0.99فیصد ووٹروں نے پہلے تین گھنٹوں کے دوران اپنی رائے کا اظہار کیا تھا ۔7106رائے دہندگان میں سے نصر اللہ (بی) میں 2ووٹ اور نصراللہ(سی) میں ایک ووٹ ڈالا گیا تھا ۔گلوان پورہ کے ساتھ دیگر کئی پولنگ مر اکز پر مکمل طور پر بائیکاٹ رہا ۔ پولنگ عملے نے شکایت کی ان کیلئے پولنگ مراکز پر کوئی بھی انتظام نہیں کیا گیا تھا اور صرف سوکھی ڈبل روٹی اور ٹماٹر کی چٹنی دی گئی گیا۔ا ر ات کے اندھیرے میں4بجے کے قریب ا نہیں پولنگ مراکز پر پہنچایا گیا اور رات گزارنے کیلئے کوئی بھی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ان ملازمین نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹنی پڑی اور جب صبح ہوا تو خوف کے ماحول نے رہی سہی کثر پوری کی۔فورسز اور پولیس اہلکاروں کو پولنگ مراکز کے اندر و باہر۔پولنگ مراکز کے گردو نواح گلی،کوچوں،کھیت کھلیانوں اور باغات کے علاوہ مکانوں کے چھتوں پر بھی تعینات کیا گیا تھا۔ اس دوران پولیس اور فورسز کی گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی کی گئی تھی جبکہ بکتر بند گاڑیوں اور فوج کی کسپر گاڑیاں بھی گشت کرتی ہوئی نظر آئیں۔ اس دوران دوبارہ پولنگ زدہ علاقوں کے ساتھ بڈگام ضلع میں مکمل ہڑتال رہی ،جسکی وجہ سے یہاں ہو کا عالم دیکھنے کو ملا ۔ دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمدرفت بند رہی۔بڈگام کے کئی ایک علاقوں میں ہڑتال نہیں رہا جہاں ووٹنگ نہیں تھی،تاہم چاڈوہ کے بیشتر علاقے جمعرات کو مسلسل بند رہے۔پولنگ مراکز پر دوبارہ پولنگ کیلئے ضلع بڈگام میں فقید المثال سیکورٹی بندوبست کئے گئے ۔20اضافی فورسز کمپنیوں کو پولنگ عمل کیلئے تعینات کیا گیا جبکہ فوج کی بھی خدمات حاصل کی گئی ۔صورتحال پر نظر گزر رکھنے کیلئے خصوصی نگراں فورسز کی بھی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔اس دوران پولنگ عمل کے دوران متعدد مقا مات پر بائیکاٹ کے حق میں احتجاج بھی ہوا ۔ سوئیہ بگ میں نوجوانوں نے فورسز پر پتھراؤ کیا ،جس دوران فورسز نے ان کا تعا قب کرکے منتشر کیا۔ نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھی اور وہ اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی بھی کر رہے تھے۔ بڈگام کے ہی نصر اللہ پورہ میں بھی فورسز اور مظاہرین کے درمیان سنگبازی دیکھنے کو ملی۔نوجوانوں نے منتقل کئے گئے پولنگ مرکز سے150میٹر کی دوری پر محاذ سنبھالا تھا اور وہ فورسز اہلکاروں پر خشت باری کر رہے تھے جبکہ فورسز اہلکار بھی اکا دکا پتھر سنگ اندازی کرنے والے نوجوانوں کی طرف پھینک رہے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شام کے وقت علاقے میں اس وقت تشدد آمیز جھڑپیں شروع ہوئیں جب دن بھر تعینات رہنے کے بعد فورسز اہلکاروں نے جانے کی کوشش کی،تو نوجوانوں نے ان پر سنگبازی کی۔ مقامی لوگوں کے مطابق بعد میں فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ بندوق کا بھی استعمال کیا۔ فورسز کی کارروائی میں کئی نوجوان زخمی ہوئے جن میں سے2پیلٹ لگنے کی وجہ سے مضروب ہوئے تھے۔مقامی لوگوں نے فورسز اہلکاروں پر رہائشی مکانات کے شیشے توڑنے کے علاوہ مکانوں کے صحن اور سڑک پر کھڑی درجنوں گاڑیوں کے شیشوں کو بھی چکنا چور کیا۔اس دوران بیروہ میں انتخابی عمل ختم ہونے کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ نوجوانوں نے فورسز پر سنگبازی کی جبکہ فورسز نے بھی جوابی سنگبازی کی ،جس کے ساتھ ہی طرفین میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پولیس نے مجموعی طور پر دن بھر کی صورتحال کو پرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ فورسز اور پولیس اہلکاروں نے پرامن طور پر سر نو انتخابات کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں اہم کرداقر ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ فورسز اور پولیس نے صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہونے دیا اور اس دوران انکو نشانہ بھی بنایا گیا۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اتوار کو ضمنی انتخابات کے دوران اس طرح کی حکمت عمل کیوں نہیں اپنائی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں خدشات تھے مجاہدین الیکشن میں رخنہ ڈالیں گے دریں اثناء کشمیرمیں عوامی مزاحمت کوپاکستان کی نئی حکمت عملی قراردیتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ نے کہاہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری نوجوانوں میں بنیادپرستی کے رجحان کوفروغ دیاجاتاہے۔سالانہ رپورٹ برائے 2016-17 میں دراندازی کوجنگجوئیانہ سرگرمیاں جاری رہنے کی بڑی وجہ بتاتے ہوئے کہاگیاہے کہ2016کے دوران جنگجوئیانہ حملوں اورسیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت میں لگ بھگ 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے بنیادپرستی کے رجحان کوکشمیری نوجوانوں کے جنگجوگروپوں میں شامل ہونے کی ایک بنیادی وجہ سے تعبیرکیا ہے۔رپورٹ میں جموں وکشمیرکی صورتحال کاخاص طورپرتجزیہ کرتے ہوئے اعتراف کیاگیاہے کہ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران کشمیروادی میں احتجاجی مظاہروں ،عوامی مزاحمت ،نوجوانوں کے جنگجوگروپوں میں شامل ہونے ،دراندازی کی کوششوں اورجنگجوئیانہ سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی پاکستان نے اپنی کشمیرپالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے یہاں احتجاجی مظاہروں اورعوامی مزاحمت کی نئی حکمت عملی اپنارکھی ہے ،اوراس نئی حکمت عملی کے تحت سوشل میڈیااورعلیحدگی پسندوں کے ذریعے نوجوانوں کوبنیادپرستی کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ ۔مرکزی وزارت داخلہ نے کہاہے کہ کشمیری نوجوانوں کوبنیادپرستی کی جانب راغب کرنے کیلئے پاکستان سرحدپارقائم سماجی ویب سائٹ گروپوں بشمول واٹس اپ ،فیس بک ،ٹویٹر،انسٹراگرام کااستعمال کررہاہے ۔رپورٹ کے مطابق 1990کے بعدپاکستان کی پالیسی رہی کہ کشمیرمیں ملی ٹنسی کوپروان چڑھاکربدامنی کوجاری رکھاجائے تاہم اب ہمسایہ ملک نے ایک نئی پالیسی کے تحت کشمیروادی میں بالخصوص عوامی مزاحمت یااحتجاجی مظاہروں پراپنی توجہ مرکوزکررکھی ہے ،اوراس مقصدکیلئے انٹرنیٹ کے ذریعے چلنے والے سوشل میڈیاگروپوں کااستعمال کیاجاتاہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال2016کے دوران جنگجوئیانہ تشدداورسیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے واقعات میں کافی اضافہ پایاگیا۔ 2016میں جنگجوئیانہ حملوں اورسیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت میں54.81فیصداضافہ ریکارڈکیاگیاجسکے تحت گزشتہ برس ملی ٹنسی تشددکے 322واقعات پیش آئے اوراس دوران 247افرادہلاک ہوئے ،جن میں 150جنگجو،82سیکورٹی اہلکاراور15عام شہری بھی شامل ہیں ۔رپورٹ کے مطابق 2016کے مقابلے میں سال2015کے دوران جنگجوئیانہ تشددسے جڑے 208واقعات رونماہوئے تھے ،اوراس دوران108جنگجو،39سیکورٹی اہلکاراور17عام شہری مارے گئے تھے ۔رپورٹ کے مطابق2016کے دوران دراندازی کی364ایسی کوششوں کے دوران112جنگجوجموں وکشمیرمیں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے جبکہ اسکے برعکس سال2015کے دوران دراندازی کی 121کوششوں کے دوران صرف33جنگجولائن آف کنٹرول عبورکرکے اسپارپہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔ادھر ٹہاب پلوامہ میں32 نوجوانوں کی گرفتاری اور سی آ رپی ایف کیمپ کی منتقلی کولیکر جمعرات کومکمل ہڑ تا ل رہی اور لوگوں نے احتجاجی مظا ہر ے بھی کئے۔ بد ھ اور جمعرات کی درمیانی شب پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت پلوامہ کے ٹہاب علاقہ میں وارد ہوئی اور آنا فانا گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو گرفتار کر نے لگی ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس اور فورسز اہلکار چن چن کر بعض رہائشی مکانوں میں داخل ہوئے اور نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لانے کا آغاز کیا۔اس موقعے پر اگر چہ لوگوں نے مزاحمت کی کوشش بھی کی اور علاقے میں شبانہ احتجاج کے دوران شوروغل بپا کیا، تاہم فورسز نے23سے زائدنوجوانوں کو حراست میں لیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد گاؤں میں رات بھر سراسمیگی کا عالم رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جن نوجوانوں کوحراست میں لیا جارہاہے ان پرامن مخالف سرگر میوں اورر فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ کا الزام عا ئد ہے اور انہیں احتیاطی طور حراست میں لیا گیا ہے۔ اسی دوران نائرہ پلوامہ میں دس نو جوان کو حراست میں لیا گیا جن میں بیٹے کے بدلے میں اس کا باپ بھی شامل ہیں۔ صبح کے وقت مقامی لوگوں نے گرفتاریوں کے خلاف زوردار احتجاجی مظا ہر ے کرتے ہو ئے کہا کہ ٹہاب پلوامہ میں 182 سی آ ر پی ایف کیمپ قائم ہے اور اس پر دوردراز علاقہ کے نوجوان آ کر سنگ باری کرتے ہیں جس کا خمیازہ لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کیمپ کی فوری منتقلی کا مطالبہ کیا ۔وادی میں مسلسل چوتھے روز بھی ممکنہ احتجاجی مظاہروں اور دوبارہ پولنگ کے پیش نظر ریل سروس معطل رہی ۔تاہم مسلسل 4روز بند رہنے کے بعد جمعرات کوموبائل انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی۔وادی میں 8اور9اپریل کی درمیانی رات کو براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس سمیت تمام موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر معطل رکھا گیاتھا ۔مسلسل تین روز تک براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس معطل رہنے کے بعد منگل بعد دوپہر یہ سروس دوبارہ بحال کر دی گئی تاہم موبائیل انٹرنیٹ سروس کو چار روز بعد بحال کیا گیا ۔ ریل حکام کا کہنا ہے کہ پولیس و سیول انتظامیہ کی ہدایت اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ریل سروس معطل رکھی گئی ۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روزسرینگر ۔اننت ناگ اورقاضی گنڈ کے درمیان بعض ٹرینیں معمول کے مطابق چلتی رہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں لوک سبھا سیٹ کیلئے ہونے والا ضمنی انتخاب بھارت کیلئے ریفرنڈم ثابت ہوا‘38پولنگ مراکز پر دوبارہ ووٹنگ میں صرف دو فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ماہرین کے مطابق گذشتہ 30 برسوں میں پہلی بار ووٹنگ کی شرح نہایت کم رہی اور الیکشن پرحریت پسندرہنماؤں کی طرف سے دی گئی بائیکاٹ کی کال کا اثر حاوی رہا اور ان کی اپیل کارگر ثابت ہوئی۔سری نگر کی پارلیمانی سیٹ کے لیے ضمنی انتخابات میں ریاست کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر

مزید :

صفحہ اول -