ننگر ہار میں امریکی غیر جوہری بم سے 36جنگجو ہلاک ،درجنوں زخمی ہوئے :افغانستان

ننگر ہار میں امریکی غیر جوہری بم سے 36جنگجو ہلاک ،درجنوں زخمی ہوئے :افغانستان
 ننگر ہار میں امریکی غیر جوہری بم سے 36جنگجو ہلاک ،درجنوں زخمی ہوئے :افغانستان

  

کابل ( نیٹ نیوز /اے این این) افعانستان کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ننگرہار میں داعش کے ٹھکانے پر 9800 کلوگرام وزنی بم کے حملے میں 36 عسکریت پسبد ہلاک ہو گئے ہیں۔افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وادی مومند کے علاقے میں یہ بم گرایا گیا جہاں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کا سرنگوں کا نیٹ ورک ہے۔ اس حملے میں ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ ہوا ۔افغان وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے کہا کہ بم حملے میں کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔کوئی شہری زخمی نہیں ہوا، صرف داعش کا وہ اڈہ تباہ ہوا جہاں سے ملک کے دوسرے حصوں میں حملے کیے جاتے تھے۔تاہم ان کے اس دعوی کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کہ بم گرنے سے کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔دوسری جانب سابق افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی بم حملے کی مذمت کی اور اسے غیر انسانی اور افغانستان کا بدترین استعمال' قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے افغان سرزمین کو مہلک اور خطرناک ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے ۔امریکی فوج کے مطابق یہ بم صوبہ ننگرہار میں واقع دولت اسلامیہ کے سرنگوں پر مبنی کمپلیکس پر گرایا گیا۔جی بی یو 43/بی نامی اس بم کو بموں کی ماں کہا جاتا ہے اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے جو امریکہ نے کسی بھی کارروائی میں استعمال کیا ہے۔امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ بم ننگرہار کے علاقے اچین میں جمعرات کی شام کو گرایا گیا۔اس بم کا تجربہ پہلی بار 2003 میں کیا گیا تھا لیکن اسے کسی جنگ یا تصادم میں اس سے قبل استعمال نہیں کیا گیا۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا 'ہم نے داعش کی سرنگوں اور غاروں کے نظام کو ٹارگٹ کیا ہے جن کے ذریعے جنگجو آزادانہ طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے تھے۔ اور انھی سرنگوں کے باعث وہ آسانی سے امریکی مشیروں اور افغان فورسز کو نشانہ بنا سکتے تھے۔ اس بات کی پوری کوشش کی کہ شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ جس علاقے میں یہ بم گرایا گیا ہے وہ پہاڑی علاقہ ہے اور بہت کم آبادی ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بم کی آواز اتنی بلند تھی کہ اس کو دو اضلاع دور تک سنا گیا۔اگرچہ امریکہ نے اب تک اس حملے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا لیکن مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں کئی شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔امریکہ نے یہ کارروائی ایسے وقت کی جب گذشتہ ہفتے ہی ننگرہار میں دولت اسلامیہ کے ساتھ جھڑپ میں امریکی سپیشل فورسز کا ایک فوجی ہلاک ہوا تھا۔افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا کہ جہادیوں کے دھڑوں کی شکست میں اضافہ ہوا جس کے بعد وہ آئی ای ڈی، بنکروں اور سرنگوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان رکاوٹوں کو کم کرنے اور ہماری حملوں کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے یہ صحیح ہتھیار تھا۔ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوں کی تعداد 1000 سے 5000 تک ہو سکتی ہے۔یہ خبر پینٹاگون کے شام میں ایک فضائی حملے میں غلطی سے 18 باغیوں کی ہلاکت کے اعتراف کے چند گھنٹے بعد آئی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -