ایوان میں بیٹھے ہوئے لوگ دو نمبر ہے،خرم شیر زمان

ایوان میں بیٹھے ہوئے لوگ دو نمبر ہے،خرم شیر زمان

  

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) ایوان میں بیٹھے ہوئے لوگ اور یہ ایوان دو نمبر ہے ۔ عوام کے ٹیکسوں سے ممبران کے لیے فائیو اسٹار رہائش گاہیں تعمیر کی جا رہی ہیں ۔ ہم آج اپنی تحاریک التواء اور نکتہ اعتراض جمع کرائیں گے ۔ ہماری تحاریک اور نکتہ اعتراض کو پیر کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا اور بولنے کی اجازت نہیں دی تو ہم اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان کے باہر اسمبلی لگائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار تحریک انصاف کے خرم شیر زمان اور ایم کیو ایم کے عامر معین پیر زادہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ خرم شیر زمان نے کہا کہ یہ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگ دو نمبر ہیں اور یہ اسمبلی بھی دو نمبر ہے ۔ اسپیکر اپوزیشن کی بات نہیں سنتے ہیں ۔ یہ اسمبلی ہمارے ٹیکس سے چلتی ہے ۔ مگر قسمتی سے یہاں کرپشن پر بات نہیں کرنے دی جاتی ۔ سندھ کا بہت برا حال ہے ۔ ہر محکمہ تباہ حال ہے ۔ ہم بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسپیکر اجلاس ہی ختم کر دیتے ہیں یا پھر بولنے کا موقع ہی نہیں دیتے ۔ ایسی اسمبلی میں بیٹھنے کا کیا فائدہ ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پیر کو ہماری تحاریک التواء اور نکتہ اعتراض کو اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی تو ہم اپنا اجلاس ایوان کے باہر چلائیں گے ۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان وزراء کی نااہلی کا نوٹس لیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے بجٹ سے اربوں روپے خرچ کرکے نئی اسمبلی بنائی گئی اور اب فائیو اسٹار رہائش گاہیں بنا رہے ہیں ۔ وزراء نااہل ہیں ۔ اگر وہ کام نہیں کر سکتے ہیں تو کسی اور کو موقع دیں ۔ یا پھر باہر سے کہیں کسی وزیر کو لے آئیں عامر معین پیر زادہ نے کہا کہ اپوزیشن کو بات کرنے نہیں دی جاتی ہے اور نہ ہی ان کی بات سنی جاتی ہے ۔ ایسی صورت میں اجلاس میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ہم حکومت کی نااہلی پر بات کرنا چاہتے تھے اور یہ تجویز بھی پیش کرنا چاہتے تھے کہ اگر آج اجلاس جلدی ختم کرنا ہے تو بجٹ پر بحث کے لیے مختص پانچ دنوں میں مزید ایک دن کا اضافہ کیا جائے ۔ لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم اپنا نیا لائحہ طے کریں گے ہم ایوان میں عوام کی بات کریں گے ۔ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ ہم عوامی کے حقیقی اور منتخب نمائندے ہیں ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -