حضرت علی ؑ کے خطبات فصاحت و بلاغت کا نادر نمونہ ہیں، علامہ ظہیر الحسن

حضرت علی ؑ کے خطبات فصاحت و بلاغت کا نادر نمونہ ہیں، علامہ ظہیر الحسن

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سالانہ مرکزی کنونشن کا آغاز جامعۃ الصادق اسلام آباد میں ہو چکا ہے۔کنونشن کے پہلے روز جشن مولود کعبہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ظہیر الحسن نقوی نے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا حضرت علی علیہ السلام کے خطبات ، فرمودات اور خطوط نہ صرف فصاحت و بلاغت کا نادر نمونہ ہے بلکہ باوقار زندگی گزارنے کے پُرحکمت اصول بھی ان میں وضع کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا حضرت علی علیہ السلام کی سیاسی زندگی کمالات سے بھرپور ہے۔مولا کائنات جب اپنا کوئی ذاتی کام کرنے لگتے تو بیت المال کی طرف سے ملے گئے چراغ کو بجا دیتے ۔صاحبان اقتدار اگر حضرت علی علیہ السلام کے کردار کو عملی زندگی میں اپنا لیں تو بہت سارے بحرانوں سے نکلا جا سکتا ہے۔مولانا علی اکبر کاظمی نے کہا کہ حضرت علی ؑ کے دور میں جن خارجیوں نے اسلام کے نام پر دین کو من پسند ڈگر پر چلانے کی کوشش کی آج ان کی اولادیں اسلام کے تشخص کو داغدار کرنا چاہتی ہیں۔ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے حضرت علی ؑ کی جرات اور افکار کی پیروی کرنا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ مولائے کائنات سے محبت و عقیدت کا عملی اظہار اپنے کردار کو اسلام کے اصولوں میں ڈھال کر کیا جا سکتا ہے۔تقریب میں شاعر اہلبیت زوار حسین بسمل،اعتزاز حیدر اور فرحان علی وارث نے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔تقریب کے پہلے روز کی آخری نشست کا انعقاد شب شہدا کے طور پر کیا گیا جس میں علامہ احمد اقبال رضوی نے خطاب کیا،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے تین روزہ مرکزی سالانہ کنونشن’’عرفان ولایت‘‘ کا آغازجامعۃ لصادق جی نائن اسلام آباد میں ہو گیا کنونشن میں شرکت کے لیے بلوچستان،سندھ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سے رہنماؤں اور تنظیمی کارکنوں اسلام آباد پہنچ چکے ہیں ۔کنونشن میں صوبائی و ضلعی رہنماؤں کی جانب سے اپنے اپنے علاقوں کی تنظیمی کارکردگی پر رپورٹس پیش کی جائیں گی۔آج 15اپریل بروزہفتہ تقریب میں تین اہم نشتیں ہوں گی جنہیں ممتاز مذہبی رہنماؤں شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی، شہید علامہ مرتضی مطہری اور علامہ سید عارف حسین الحسینی کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔تقریب کے اختتامی روز کی پہلی نشست میں دستوری ترامیم منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔اسی دن دوسری نشست میں شعبہ سیاسیات اپنی کارکردگی سے شرکا کو آگاہ کرے گا۔تقریب کی آخری نشست علما کنونشن کے نام سے ہے جس میں ملک کے نامور شیعہ سنی علما شریک ہوں گے اور عصر حاضر میں امت مسلمہ کے مابین وحدت و اخوت کی ضرورت و اہمیت پر گفتگو کی جائے گی۔شرکا اور مختلف رہنماؤں کے درمیان سوال جواب کی نشست بھی تقریب کا حصہ ہو گی۔کنونشن کے اختتام پر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سے خطاب بھی کیا جائے گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -